اسلام برّعظیم پاک و ہند میں

  • ورودِ اوّل: سندھ میں
  • ورود ثانی: شمال مغرب سے
  • ہندوستان میں مسلمانوں کے عروج لیکن اسلام کے زوال کی انتہا: اکبر اعظم علیہ ما علیہ
  • الف ثانی کا تجدید کارنامہ:
  • شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ تعالی 
  • شیخ عبدالحق محدث دہلوی
  • امام الہند شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ تعالی

برّصغیر پاک و ہند میں خورشیدِ اسلام اوّلاً عینِ غرب یعنی مکران اور بلوچستان کے افق پر خلافتِ بنی امیہ کے زمانے میں اس وقت طلوع ہوا جب نبی اکرم  کے انتقال پر اسی برس (۱بیت چکے تھے اور دورِ خلافتِ راشدہ کو ختم ہوئے بھی نصف صدی کے لگ بھگ عرصہ گذر چکا تھا اور اسلام کے صدرِ اول کا جوش و خروش کم ہوتے ہوتے تقریباً معدوم کے حکم میں داخل ہوچکا تھا . چنانچہ سرزمینِ ہند پر بابُ الاسلام سندھ کے راستے اسلام کا یہ ورود اول بھی کسی مثبت تبلیغی جذبے یا احساس فرض کا مرہون منت نہ تھا بلکہ ایک وقتی اور فوری اشتعال کا نتیجہ تھا. یہی وجہ ہے کہ اس وقت اسلام کی کرنیں موجودہ پاکستان کے بھی صرف نصف جنوبی کو منور کرکے رہ گئیں اور اس مد میں بھی جذرکے آثار فورًا ہی شروع ہوگئے اور برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی یہ آمد اولین نہایت محدود بھی رہی اور حد درجہ عارضی بھی.

گویا سرزمین ہند دور نبوی اور عہد خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی برکات سے تو مطلقاً محروم ہی رہی جس میں ایمان اور یقین کا کیف و سرور اور جہاد و قتال کا جوش و خروش باہم شیر و شکر تھے اور جہاد کی اصل غرض و غایت فریضۂ شہادت علی الناس کی ادائیگی کا جذبہ تھا یا حصول مرتبہ شہادت 
(۲کا ذوق و شوق نہ کہ ملک گیری و کشور کشائی کی ہوس یا مالِ غنیمت و اسبابِ عیش کی حرص. مزید محرومی یہ رہی کہ اسے اس خالص عربی الاصل اسلام کے اثرات سے متمتع ہونے کا موقع بھی بہت ہی کم ملا جس میں دین و دنیا کی وحدت و یگانگت ابھی اس حد تک باقی تھی کہ رات کے راہب ہی دن کے شہسوار (۳ہوتے تھے اور ایک ہی انسان کے ایک ہاتھ میں قرآن ہوتا تھا اور دوسرے میں تلوار!

بعد ازاں جنوبی ہند کے مغربی ساحل پر تو اسلام کے انوار وبرکات کا ترشح عرب تاجروں 
(۱) آنحضور کا سنِ وفات ۶۳۲ ء ہے اور سندھ پر محمد بن قاسم کا حملہ ۷۱۲ء میں ہوا.
(۲) بقول علامہ اقبال. شہادت ہے مقصود و مطلوب مومن نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
(۳) رستم، سپہ سالار افواجِ ایران کو اس کے مخبروں نے مسلمان افواج کے جو حالات بتائے تھے ان میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ 
"ھم رھبان باللیل و فرسان بالنھار" یعنی "وہ رات کے راہب ہیں اور دن کے شہسوار! کی آمدورفت کے طفیل تقریباً مسلسل ہوتا رہا اگرچہ اس کی نوعیت ایک ہلکی سی پھوار یا دھیمی سی آنچ کی تھی جس کے اثرات زیادہ محسوس و مشہود نہیں ہوتے... لیکن شمال مغربی سرحد پر واقع پہاڑی دروں سے اسلام کا سیلاب کم و بیش تین صدیوں بعد شروع ہوا اور مزید لگ بھگ دو سو برس تک اس کی نوعیت واقعۃً پہاڑ ندی نالوں کے سیلاب ہی کی سی رہی کہ زور و شور اور غیظ و غضب کے ساتھ آیا اور آناً فاناً گذر گیا. اور اگرچہ اس بار موجودہ پاکستان کے نصف شمالی کی قسمت جاگی کہ وہ ۱۰۰۰ء کے آس پاس ہی باقاعدہ اسلامی قلم رو میں شامل ہوگیا تاہم واقعہ یہی ہے کہ محمود غزنوی کے حملوں کی اصل حیثیت پہاری نالوں کے سیلاب سے زیادہ نہ تھی جو ادھر آتا ہے ادھر گذر جاتا ہے. 
تخت دہلی پر مسلمانوں کو باقاعدہ تمکن ۱۲۰۶ء کے لگ بھگ حاصل ہوا. اور ہندوستان میں مسلمانوں کا دور حکومت عروج و زوال اور مدوجزر کے مختلف مدارج و مراحل سے گذرتا ہو ۱۸۵۷ء کے "غدر" پر ختم ہوگیا. ان ساڑھے چھ سو سالوں کے نصف اوّل کے دوران یعنی ۱۲۰۶ء سے ۱۵۲۶ء تک پہلے کچھ ترکی النسل، غلام بادشاہ 
(۱تخت دہلی کو زینت بخشتے رہے اور بعد ازاں کچھ افغان خاندان خلجی، لودھی وغیرہ) حکمران رہے، اور نصف ثانی یعنی ۱۵۲۶ سے ۱۸۵۷ء تک مغلوں کا دور ہے جس کے کل سوا تین سو سالوں میں سے پہلے پونے دو سو برس (۲ان کی اصل عظمت و سطوت کا زمانہ ہے اور بعد کے ڈیڑھ سو برس اصلاً ایک عظیم عمارت کے کھنڈروں میں تبدیل ہونے اور بالآخر زمین بوس ہوجانے کا عرصہ! ؏ . کھنڈر بتا رہے ہیں عمارت عظیم تھی!.

گویا ہندوستان میں اسلام آیا ہی اس وقت جب وہ اپنی نشاۃ اولی کے بعد زوالِ اول سے پوری شدت کے ساتھ دو چار ہوچکا تھا. اور اس کی وحدتِ فکری بھی پارہ پارہ ہوچکی تھی اور وحدتِ ملی بھی. چنانچہ ایک طرف عالمِ اسلام کے قلب میں عرب قوت کا تقریباً خاتمہ ہو 
(۱) تاریخ اسلام کا یہ دور عجیب ہے کہ از شرق تا غرب غلاموں ہی حکومتیں قائم تھیں. چنانچہ ہند میں خاندان غلاماں حکمران تھا تو مصر میں مملوک سریر آرائے مملکت تھے. اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام نے غلاموں کو کہاں سے اٹھا کر کہاں تک پہنچایا!

(۲) یعنی ۱۷۰۷ء میں اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمۃ کی وفات تک! 
چکا تھا اور خلافتِ بنی عباس کا دیا چراغِ سحری کے مانند (۱ٹمٹما رہا تھا اور پوری مملکت طوائف الملوکی کا شکار تھی گویا بنی اسمعیل کے حق میں وعیدِ خداوندی اِنۡ تَتَوَلَّوۡا یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ پوری طرح ظاہر ہوچکی تھی. اور دوسری طرف خلافتِ اسلامی کی وہ توحیدی شان ایک داستانِ پارینہ بن چکی تھی جس میں نہ دین و دنیا کے مابین کوئی دوئی تھی نہ مذہب و ریاست میں کوئی جدائی اور خدا کے جلال و جمال (۲کے مظاہر جدا تھے نہ سلطانی و درویشی کے مصداق مختلف! ... اور اس کی جگہ قیادت و سیادت اور رہنمائی و پیشوائی کے ضمن میں ملوک، احبار اور رہبان پر مشتمل وہ قدیم تثلیث (۳پوری طرح رائج و نافذ ہوچکی تھی جو ایک اسلام کے سوا دنیا کی تمام تہذیبوں اور تمدنوں کا جزوِ لاینفک رہی ہے اور جس سے پیشگی خبردار کیا تھا عہدِ اوّلین ہی میں حضرت عبداللہ ابن المبارک رحمہ اللہ تعالی نے اپنے اس حد درجہ فصیح و بلیغ شعر میں ؎ (۴)

وَ مَا اَفْسَدَ الدِّیْنَ اِلَّا الْمُلُوْکُ
وَ اَحْبَارُ سَوْءٍ وَ رُھْبَانُھَا

اور اگرچہ اسلام کے اعجاز نے اس دورِ زوال و انحطاط میں بھی بہت سی عظیم اور استثنائی (۱) چنانچہ ہندوستان میں مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت کے آغاز کے نصف ہی صدی کے اندر یہ چراغ بالکل بجھ گیا اور ۱۲۵۸ء میں تاتاریوں کے ہاتھوں بغداد میں وہ قتلِ عام ہوا کہ الامان والحفیظ... اور آخری عباسی خلیفہ مستعصم باللہ اس طرح سرِ عام ذبح کردیا گیا جیسے کسی بھیڑ یا بکری کو حلال کردیا جائے. جس پر خون کے آنسو بہائے شیخ سعدی نے: ؎

آسماں را حق بود گر خوں ببارد بر زمیں برزوال ملکِ مستعصم امیر المؤمنین
اے محمد گر قیامت سربروں آری ز خاک سربروں آرد قیامت درمیان خلق بیں
(۲) شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود فقر جنید و بایزید تیرا جمال بے نقاب
(۳) گویا علامہ اقبال کا یہ شعر کہ ؎

لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل خشتِ بنیاد کلیسا بن گئی خاکِ حجاز
ظاہری طور پر بھی مطابقِ واقعہ ہے اور معنوی طور پر بھی خصوصاً تاریخ اسلام کے اس دور میں جس کا ذکر یہاں ہورہا ہے ایک طرف تثلیث کے فرزندوں نے صلیبی جنگوں سے عالمِ اسلام کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا اور دوسری طرف یہ معنوی تثلیث اسلام کی وحدانیت کی جڑیں کھوکھلی کرچکی تھی!

(۴) حضرت عبداللہ ابن المبارک کے اس شعر کی اتنی ہی فصیح و بلیغ ترجمانی کی ہے علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں: ؎

باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری اے کشتہ ملائی و سلطانی و پیری 

(EXEPTIONAL) شخصیتیں پیدا کیں جیسے صلاح الدین ایوبی اور ناصر الدین محمود ایسے درویش بادشاہ اور امام ابن تیمیہ ایسی جامع سیف و قلم شخصیت ، تاہم واقعہ یہ ہے کہ اس دور تک ایک جانب مسلمان حکمران و سلاطین اکثر و بیشتر آیۃ ان الملوک (۱کے مصداق کامل بن چکے تھے اور دوسری جانب علماء و صوفیاء کی عظیم اکثریت بھی آیاتِ قرآنی: لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ (المائدہ: ۶۳اور اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَ الرُّہۡبَانِ لَیَاۡکُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ (توبہ:۳۴کی مظہرِ اتم بن چکی تھی. فَوَا حَسْرَتَا وَ یَا اَسَفًا! 

ہندوستان میں اسلام وارد تو ایسی منقسم حالت میں ہوا تھا کہ اصحابِ سیف و سناں جدا تھے اور صاحبانِ قرطاس و قلم جدا، اور زیبِ منبر و محراب تھے اور زینتِ میدانِ جنگ و قتال، اور چنانچہ ابتداء میں ایک جانب محمود غزنوی اور محمد غوری کی سرفروشانہ ترکتازیاں تھیں اور دوسری جانب شیخ اسمعیل بخاری اور شیخ علی ہجویری رحمہما اللہ کی تبلیغ و تلقین اور تعلیم وتربیت کی انتھک کوششیں، اور بعد میں ایک طرف قطب الدین ایبک اور بختیار خلجی کی تلواریں مملکت کی توسیع اور استحکام کا فریضہ سر انجام دے رہی تھیں تو دوسری طرف خواجگانِ سلسلۂ چشت رحمہم اللہ نفوس کے تزکیے، قلوب کے تصفیے اور سیرت و کردار کی تعمیر میں مصروف تھے. تاہم غنیمت ہے کہ آغاز میں ان دونوں حلقوں کے مابین گہرا ربط و تعلق موجود تھا جس کا عظیم ترین نشان 
(SYMBOL) ہے سلطان التمش کی جامع الصفات شخصیت کہ ایک طرف ایک عظیم مملکت کا حکمران بھی تھا اور دوسری طرف خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا حلقہ بگوش اور حد درجہ عابد و زاہد انسان بھی،... یہاں تک کہ حضرتِ خواجہ کے انتقال پر جب لوگ نمازِ جنازہ کے لیے جمع ہوئے علامہ اقبال مرحوم نے الفاظ قرانی اِنَّ الۡمُلُوۡکَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡیَۃً اَفۡسَدُوۡہَا وَ جَعَلُوۡۤا اَعِزَّۃَ اَہۡلِہَاۤ اَذِلَّۃً ۚ (سورۃ النمل:۳۴کے حوالے سے کس قدر عمدہ اشعار کہے ہیں:

آ بتاؤں تجھ کو رمز آیۃ انّ الملوک سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگری
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر پھر سلادیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری
جادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ایاز دیکھتی ہے حلقہ گردن میں سازِ دلبری
سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے حکمراں ہے اک وہی باقی بتاں آذری! 

اور وہاں خواجۂ مرحوم کی اس وصیت کا اعلان کیا گیا کہ میری نمازِ جنازہ صرف وہ شخص پڑھائے جس نے عمر بھر کبھی زنا نہ کیا ہو اور جس کی نہ کبھی تکبیرِ اولیٰ فوت ہوئی ہو نہ عصر کی سنتیں چھوٹی ہوں، نتیجۃً مجمعے پر سکتہ سا طاری ہوگیا اور تمام لوگ حیران و پریشان ہوکر رہ گئے کہ ایسا شخص کون ہوسکتا ہے جس میں یہ ساری شرطیں پوری موجود ہوں تو قدرے تامل و انتظار کے بعد جو شخص اگلی صف سے امامت کے لیے نکلا وہ خود بادشاہ وقت سلطان التمش تھا!

لیکن جلد ہی یہ رابطہ کمزور پڑ گیا اور رجالِ سلطنت اور رجالِ دین کے مابین ایک بعد اور فصل پیدا ہوگیا اور ان کے شب و روز ایک دوسرے سے مختلف ہی نہیں بالکل متضاد ہوگئے اور جیسے جیسے وقت گذرا یہ خلیج عمیق سے عمیق تر اور وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی.
مزید برآں، ہندوستان میں اسلام علاقہ ماوراء النہر سے آیا تھا جہاں خود مذہبی حلقوں میں 
مدرسہ و خانقاہ کی تقسیم راسخ ہوچکی تھی اور ان کے مابین مسابقت ہی نہیں منافرت کا آغاز ہوچکا تھا اور جہاں مدارس میں حنفی فقہ، اشعری و ماتریدی عقائد، یونانی فلسفہ و منطق اور ان سب کے معجون مرکب علمِ کلام کا دور دورہ تھا، اور خانقاہوں میں وحدت الوجود کا سکہ رواں تھا. لہذا اسلامی ہند میں مذہب کی عمارت انہی دو ستونوں پر استوار ہوئی یعنی ایک شدید حنفیّت اور دوسرے وجودی تصوّف.

قرآن حکیم یہاں ابتداء ہی سے صرف ایک کتابِ مقدس کی حیثیت سے متعارف ہوا اور علمِ حدیث سے یہ سرزمین دیر تک نابلدِ محض رہی اور چونکہ عربی یہاں صرف اعلی علمی حلقوں تک محدود رہی اور عام بول چال، تصنیف و تالیفِ شعر و ادب اور سرکار دربار سب پر فارسی کا قبضہ رہا لہٰذا قرآن و حدیث سے یہ بعد اور دوری نہ صرف یہ کہ قائم رہی بلکہ مرورِ ایّام کے ساتھ مزید بڑھتی چلی گئی. 

اس غلوّ فی الحنفیّت اور بعد عن حدیث الرّسول کے ضمن میں ایک نہایت دلچسپ لیکن ساتھ ہی حد درجہ عبرت انگیز واقعہ نقل ہوا ہے کہ جب سلطان غیاث الدین تغلق کے دربار میں ایک خاص مسئلے پر شیخ الوقت خواجہ نظام الدین اولیاء اور شیخ الاسلام قاضی جلال الدین کے مابین مناظرہ ہوا اور اپنے موقف کے حق میں بطورِ دلیل پیش کرنا چاہا خواجہ نظام الدّین نے ایک حدیث رسول 
کو تو بلا کسی جھجک اور تامل کے بھرے دربار میں ڈنکے کی چوٹ کہا شیخ الاسلام نے کہ: 

"تو مقلدِ ابو حنیفہ ہستی، ترا با حدیث رسول چہ کار؟ قولِ ابی حنیفہ بیار!"
"تم مقلّدِ ابوحنیفہ ہو یعنی حنفی ہو تمہیں حدیثِ رسول سے کیا سروکار؟ اگر امام ابوحنیفہ کا کوئی قول پیش کرسکتے ہو تو کرو!"

جس پر حضرتِ خواجہ نے یہ کہتے ہوئے مناظرہ ختم کردیا اور دربار سے اٹھ گئے کہ: 
"سبحان اللہ! کہ باوجود قول مصطفوی از من قولِ ابی حنیفہ می خواہند! (سیر العارفین) 
سبحان اللہ! نبی اکرم کے فرمان کے ہوتے ہوئے مجھ سے امام ابوحنیفہ کے قول کا مطالبہ کیا جا رہا ہے!

اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ اسلامی ہند میں آغاز ہی سے دو حکومتیں قائم ہوگئی تھیں ایک ظاہری حکومت جس کا اقتدار یا زمین پر قائم تھا یا انسانوں کے جسموں پر، اور دوسری باطنی حکومت جس کا سکہ قلوب کی دنیا میں رواں تھا. پہلی حکومت اصلاً ملوک و سلاطین اور امراء و عمایدِ سلطنت کی تھی اور ان کے ساتھ بطور تتمہ یا ضمیمہ منسلک تھے ائمہ و خطباء مدرسین و معلمین اور مفتی و قاضی حضرات ، اور اس دنیا میں جیسے کہ عرض کیا گیا فقہ ہی کو گویا کل دین کی حیثیت حاصل تھی! جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ متشدانہ ظاہر پرستی اور قانونی موشگافی کا دور دورہ ہوگیا اور رفتہ رفتہ دین و مذہب نے بالکل خشک قانونیت کی شکل اختیار کرلی.

دوسری طرف تصوف کے خانوادوں میں سے ارضِ ہند پر سب سے پہلے چشتی سلسلے نے قدم جمائے اور کم و بیش دو صدیوں تک خواجگان چشت ہی کا طوطی بولتا رہا جیسے ہی اس سلسلے میں قدرے ضعف کے آثار پیدا ہوئے وسطی اور جنوبی ہند میں سہروردیہ اور شطّاریہ سلسلوں کو فروغ حاصل ہوا اور شمال مغرب میں خصوصاً موجودہ پاکستان کے وسطی علاقوں میں قادریہ سلسلے نے عروج پایا ان تمام سلاسل میں وحدت الوجود کو گویا اصولِ موضوعہ کی حیثیت حاصل تھی اور اس کے زیر اثر کیف و سرور، جذب و مستی اور وجد و رقص کا ذوق و شوق بڑھ رہا تھا اور فنا فی اللہ کو شغل و سلوک کے منتہائے مقصود کی حیثیت حاصل ہورہی تھی جس کے باعث قوی مضمحل ہورہے تھے اور جذبۂ جہاد تو دور رہا جذبۂ عمل بھی سرد پڑتا جا رہا تھا!

مزید برآں... باطنی احوال و کوائف پر توجہ کے ارتکاز کے باعث ظاہر کی اہمیت 
کم ہوتی جا رہی تھی، طریقت کے عروج کے ساتھ ساتھ شریعت کا استخفاف ہونے لگا تھا، عشق و محبت کی سرمستی میں پابندئ شریعت اور اتباعِ سنت پر پھبتیاں کسی جانے لگی تھیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ ہمہ اوستی نظریات کے باعث وسیع المشربی اتنی بڑھتی جارہی تھی کہ رام اور رحمٰن ایک نظر آنے لگے تھے، مسجد و مندر اور دیر و کلیسا میں کوئی فرق نہ رہا تھا، اور ؏ . با مسلماں اللہ اللہ بابرہمن رام رام . پر عمل عام ہوگیا تھا نتیجۃً ملت اسلامی کا جداگانہ تشخص ہی شدید خطرات سے دو چار ہوگیا تھا. 

علمائے ظاہر یا حاملانِ دین اور حامیان شرع متین کی جانب سے اس طرز عمل کی مخالفت ایک فطری امر تھا لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدرسہ و خانقاہ کی باہمی چشمک رفتہ رفتہ بغض اور عداوت میں تبدیل ہوتی چلی گئی. چنانچہ اسلامی ہندکی پوری تاریخ رجال سلطنت اور رجال دین کی باہمی کشمکش اور علماء اور صوفیاء کی باہمی آویزش کی مسلسل داستان ہے جس میں ایک بعدِ رابع 
(FORTH-DIMENSION) کا اضافہ ہوگیا اوائل عہدِ مغلیہ میں ایران سے شیعیت کی در آمد سے، جس نے گویا جلتی پر تیل کا کام کیا اور جس کے زیر اثر مشرکانہ عقائد و خیالات اور بدعات و رسومات کا ایک سیلاب ارضِ ہند پر آگیا!

مسلم انڈیا کا سنہرا دور بلاشبہ اس کا صدر اول ہی تھا یعنی دورِ خاندانِ غلاماں، جس میں ملوک، احبار، رہبان کی تثلیث اگرچہ اصولاً تو موجود تھی تاہم ابھی اس میں نہ تنزل و انحطاط کے آثار نمایاں ہوئے تھے نہ باہمی بغض و عناد کے بلکہ جیسا کہ اوپر عرض کیا جا چکا ہےنہ صرف یہ کہ باہمی توافق و تعاون موجود تھا بلکہ بعض مثالیں انتہائی حسین امتزاج کی بھی نظر آجاتی ہیں لیکن جیسے جیسے زمانہ گذرا زوال اور پستی کے جانب قدم بڑھتے گئے اور نہ صرف یہ کہ متذکرہ بالا تثلیث کا گھناؤنا پن بڑھتا چلا گیا بلکہ اس کی جڑیں بھی مسلم سوسائٹی میں مزید گہری اترتی چلی گئیں. تا آنکہ مغل اعظم شہنشاہ اکبر کے زمانے میں یہ صورتِ حال اپنے نقطۂ عروج 
(CLIMAX) کو پہنچ گئی اور حالات کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ عین اس وقت جبکہ ہندوستان کی سرزمین پر مسلمانوں کا خورشیدِ حکومت نصف النہار پر چمک رہا تھا اسلام پر انتہائی غربت اور شدید بے کسی و کس مپرسی کی حالت طاری ہوگئی! یہاں تک کہ نام نہاد دین الہی نے دینِ محمدی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام کی کامل بیخ کنی کرنے یا کم از کم اسے سرزمین ہند سے ملک بدر کردینے کا بیڑا اٹھا لیا! یہ دوسری بات ہے کہ فطرت کے اس اٹل قانون کے مطابق کہ جذر جب اپنی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے تو اسی کی کوکھ سے مد کے آثار جنم لیتے ہیںہندوستان میں اسلام کے زوال کی انتہا کا یہ دور سرزمین پاک و ہند میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی تمہید بن گیا! بقول علامہ اقبال ؎

خون اسرائیل آجاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسی طلسمِ سامری

سولہویں صدی عیسوی کے وسط کے لگ بھگ جب مغل اعظم علیہ ما علیہ کے آفتابِ اقتدار نے ابتدائی موانع و مشکلات کی بدلیوں سے نکل کر پوری آب و تاب کے ساتھ چمکنا شروع ہی کیا تھا 
(۱)اور ہندوستان میں اسلام کے انتہائی زوال و انحطاط کے دورِ سیاہ کا آغاز ہونے ہی والا تھا اللہ تعالیٰ کی حکمتِ بالغہ کے تحت سرزمین ہند میں دو خورشید ہدایت بھی طلوع ہوئے: ایک مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی (جن کی ولادت ۱۵۶۴ء میں ہوئی) اور دوسرے: حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (جن کا سن ولادت ۱۵۵۱ء ہے) جن کی مصلحانہ و مجددانہ مساعی نے حالات کے دھارے کا رخ اس حد تک موڑ کر رکھ دیا کہ تقریباً چار سو سال کے بعد اسلامی ہند کو غازی اورنگزیب عالمگیر کی ذات میں گویا غازی صلاح الدین ایوبی اور سلطان ناصر الدین محمود کے محاسن کا جامع حکمران نصیب ہوا اور اس طرح مسلم انڈیا کے اوّل و آخر کے مابین ایک مشابہت اور مماثلت پیدا ہوگئی!

ان میں سے مقدم الذکر یعنی شیخ مجدد کی مساعی میں پرجوش مجددانہ رنگ نمایاں تھا اور مؤخر الذکر یعنی شیخ محدث کی کوششوں پر خاموش مصلحانہ انداز غالب تھا. چنانچہ حالات کے رخ کی فوری تبدیلی میں اصل دخل یقیناً حضرتِ مجدّد کی مساعی کو حاصل ہے جبکہ سرزمینِ ہند میں علمِ حدیث نبوی کا پودا لگانے کی جو خدمت حضرتِ محدث نے سر انجام دی اس کے اثرات بہت دیرپا اور دور رس ثابت ہوئے.
حضرت مجدد کی تجدیدی مساعی کا اصل رخ تصحیحِ عقائد، رد بدعات، التزام شرعیت اور اتباع سنت کی جانب تھا. اور اس ضمن میں انہوں نے رائج الوقت علمی و نظری اور اخلاقی و عملی ہر نوع کی گمراہیوں اور ضلالتوں پر بھرپور تنقید کی، چنانچہ تردید شیعیت پر بھی نہ صرف یہ کہ ان کے مکاتیب میں بہت زور ہے بلکہ رد روافض کے عنوان سے ایک مستقل رسالہ بھی انہوں 
(۱) اکبر کی حکومت کو استحکام ۱۵۵۶ء میں پانی پت کی دوسری جنگ میں فتح یاب ہونے کے بعد ہی حاصل ہوا تھا. 

تحریر فرمایا. اور اگرچہ ان کی ان اساسی کوششوں سے بھی ’طریقت‘ اور ’شریعت‘ کے بعد کو کم کرنے اور اس بڑھتی ہوئی خلیج کے پاٹنے میں بہت مدد ملی تاہم اس میدان میں ان کا اصل کارنامہ فلسفۂ وحدت الوجود کے مقابلے میں نظریہ وحدت الشہود کی تدوین و ترویج ہے جس نے ان تمام مفاسد کا سد باب کردیا جو تصوف کی راہ سے حملہ آور ہو رہے تھے، نتیجۃً باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کی اہمیت بھی دوبارہ مسلم ہوئی، عشق و محبت کے ساتھ ساتھ اطاعت و اتباع کا جذبہ بھی از سرِ نو بیدار ہوا، فنا فی اللہ کے بجائے بقا باللہ کو مقصود و مطلوب کا درجہ حاصل ہوا اور جذب و سکر اور مستی و بے خودی کے بجائے جذبۂ عمل اور جوش جہاد نمایاں ہوئے.. اور ان سب کا حاصل یہ کہ ہند میں ملت اسلامیہ کا جداگانہ تشخص از سر نو مستحکم ہوگیا . اور یہ خطرہ ٹل گیا کہ کہیں سرزمینِ ہند میں جسے مذہبوں اور فلسفوں کے بہت بڑے عجائب گھر کی حیثیت حاصل ہے دینِ محمدی بھی صرف ماضی کی ایک یادگار بن کر نہ رہ جائے بقول علامہ اقبال مرحوم:

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک مطلعِ انوار
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمئ احرار
وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں
اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

سلسلۂ نقشبندیہ جس کا پودا سرزمینِ ہند میں حضرت مجدد کے مرشد خواجہ باقی باللہ کے ہاتھ سے لگا، اصلاً بھی جملہ سلاسل طریقت میں سے اقرب الی الشریعت ہے، اور حضرت مجدد کے ہاتھوں جو عظیم الشان کارنامہ سرانجام پایا اس کی بنیاد بھی خواجہ باقی باللہ کے ہاتھوں پڑ چکی تھی،تاہم واقعہ یہ ہے کہ اس میں جو شان حضرتِ مجدد نے پیدا کی وہ انہی کا حصہ ہے اور یوں تو بعد میں سلسلۂ نقشبندیہ باقویہ بھی ہندوستان میں جاری رہا اور اس سے بہت سا خیر پھیلا لیکن "ہند میں سرمایۂ ملت کی نگہبانی" کا فریضہ جس شان کے ساتھ حضرتِ مجدد کے احفاد و خلفاء نے ادا کیا اس میں کوئی دوسرا ان کے ساتھ شریک نظر نہیں آتا. یہاں تک کہ یہی وہ واحد سلسلہ ہے جس کے منسلکین نے ذکر و شغل اور مجاہد و ریاضت کے علاوہ کلمۂ حق کہنے کی پاداش اور رد بدعت و رفض کے جرم کی سزا کے طور پر حوالۂ زنداں ہونے اور جان پر کھیل جانے کی روایات کو بھی از سرِ نَو تازہ کیا گویا. ؏ . من از سرِ نو جلوہ دہم دار و رسن را! (سرمدؔ)

بایں ہمہ، حضرتِ مجدد کے یہاں بھی حنفیّت میں غلو اسی شدت کے ساتھ موجود ہے جو مسلم انڈیا کی پوری تاریخ کا جزوِ لاینفک ہے. گویا حضرتِ مجدد کی مساعی سے اسلام ہند میں اس مقام تک تو پہنچ گیا جہاں سے (دورِ غلاماں میں) اس کا آغاز ہوا تھا لیکن . ع. دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو!" کا عمل اس سے آگے نہ بڑھ سکا. 

البتہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی خدمات کو اس سمت میں ایک مزید قدم سے تعبیر کیا جا سکتا ہے. عجیب بات ہے کہ شیخِ محدث کی شخصیت بعض پہلوؤں سے تو حضرت مجدد ہی کی شخصیت کا ظلّ معلوم ہوتی ہے لیکن بعض دوسرے اعتبارات سے ان کی حیثیت تقریباً ایک ڈیڑھ صدی بعد طلوع ہونے والے آفتابِ رشد و ہدایت حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے پیشرو یا مقدمۃ الجیش کی معلوم ہوتی ہے. چنانچہ وہ صوفی بھی تھے اور خواجہ باقی باللہ ہی کے مرید بھی. لیکن اس کے باوجود کہ انہیں بھی وحدت الوجود سے بعد تھا وہ اس کی تردید میں اس درجہ سر گرم نظر نہیں آتے، اسی طرح وہ حنفی بھی تھے لیکن متشدد نہیں بلکہ فقۂ حنفی کا رشتہ حدیث رسول کے ساتھ جوڑنے کی سعی اولاً انہی سے شروع ہوئی. ان دونوں پہلوؤں سے تو وہ شیخِ مجدد اور امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ الدہلوی کے بَین بیَن نظر آتے ہیں لیکن اس اعتبار سے کہ امام الہند نے اسلام کا رشتہ اس کی اصلِ ثابت، یعنی قرآن حکیم کے ساتھ از سرِ نو قائم کرنے کی کوشش کا آغاز کیا اور شیخ محدث نے دین کا تعلق اس اصلِ ثابت کی فرع اول کے ساتھ قائم کرنے کی کوشش کی، ان کی شخصیت حضرت امام الہند کی شخصیت کا مقدمہ یا دیباچہ نظر آتی ہے... اور واقعہ یہ ہے کہ یہی حضرت محدث کی اصل خدمت
(CONTRIBUTION) ہے کہ انہوں نے علمِ حدیث کا پودا سرزمینِ ہند میں لگایا. اور حدیث رسول کی باقاعدہ درس و تدریس کا بھی آغاز کیا اور اس سے متعلق تصنیف و تالیف کا بھی! چنانچہ خود انہوں نے مشکوۃ شریف کا ترجمہ فارسی میں کیا اور ان کے صاحبزادے شیخ الاسلام نور الحق نے صحیح بخاری کو فارسی میں منتقل کیا. مزید برآں انہوں نے مشکوۃ کی ایک مفصل شرح (لمعات التنقیح) عربی زبان میں اور اس سے بھی زیادہ طویل شرح (اشعۃ اللمعات) فارسی میں تحریر کی، علاوہ ازیں اسنادِ حدیث اور اسماء الرجال پر بھی ایک کتاب تصنیف کی اور لمعات کے مقدمے کے ذریعے بھی علومِ حدیث کا ایک جامع تعارف کرادیا!

امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی تجدیدی مساعی کا تفصیلی جائزہ تو ظاہر ہے کہ ان مختصر شذرات کی حدود سے باہر ہے تاہم یہ عرض کیے بغیر نہیں رہا جاتا کہ دورِ صحابہ کے بعد کی پوری اسلام تاریخ میں ان کی سی جامعیّتِ کبریٰ کی حامل کوئی دوسری شخصیّت نظر نہیں آتی اور اس میں ہرگز کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ واقعۃً دورِ جدید کے فاتح ہیں اور اس اعتبار سے خواہ یہ کہہ لیا جائے کہ انہوں نے حضرت مجدد اور شیخ محدث دونوں کی مساعی کو منطقی انتہا تک پہنچا یا خواہ یہ کہہ لیا جائے کہ وہ دونوں اصلاً امام الہند ہی کی شخصیت کی تمہید تھے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا. 

چنانچہ ایک طرف حضرت مجدد نے ہند میں امت مسلمہ کو از سرِ نو ایک مستحکم داخلی تشخص عطا کیا تو شاہ صاحب نے احمد شاہ ابدالی کو دعوت دے کر امت کے خلاف اٹھنے والے سب سے بڑے خارجی طوفان کے مقابلے کا سامان کیا اور حضرتِ مجدد نے "رد روافض" سے جس کام کا آغاز فرمایا تھا اور اس کی تکمیل شاہ صاحب نے 
"ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء" اور "قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین" اور ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز نے "تحفۂ اثنا عشریہ" ایسی کتابوں کی تصنیف سے کی .. اور دوسری طرف شیخِ محدث نے علمِ حدیث کا جو پودا سرزمین ہند میں لگایا تھا شاہ صاحب اور ان کے خلفاء نے نہ صرف یہ کہ اس کی آبیاری کی بلکہ اپنی انتھک کوششوں سے صنم خانۂ ہند کو علم حدیث نبوی کا ایک عظیم الشان چمن بنا دیا. عجیب مشابہت ہے کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے مشکوۃ المصابیح کی ایک شرح عربی میں لکھی تھی اور ایک فارسی میں. اسی طرح امام الہند نے مؤطا امام مالک کی ایک شرح عربی میں لکھی تھی (المسوّی) اور ایک فارسی میں لکھی (المصفّٰی) واضح رہے کہ شاہ صاحب کے نزدیک مؤطا امام مالک کو علمِ حدیث کے ذیل میں اصلِ اوّل کی حیثیت حاصل ہے. 
ان پر مستزاد ہیں شاہ صاحب کے وہ کارنامے جن کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کی 
نشاۃ ثانیہ کے طویل عمل کا اصل نقطۂ آغاز ان ہی کی ذاتِ گرامی ہے: 

مثلاً ایک یہ کہ علمِ فقہ کے میدان میں ایک طرف آپ رحمہ اللہ تعالی نے 
"عقد الجید فی احکام الاجتہاد و التقلید" تصنیف فرمائی جس سے تقلیدِ جامد اور اجتہادِ مطلق کے مابین اعتدال کی راہ واضح ہوئی اور دوسری طرف "الانصاف فی بیان سبب الاختلاف" ایسی معرکۃ الآراء کتاب لکھی جس نے فقہی اختلافات کی اہمیت کو کم کرنے کے ضمن میں نہایت دور رس نتائج پیدا کیے.

دوسرے یہ کہ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف 
"حجۃ اللہ البالغۃ" کے ذریعے آپ نے حکمتِ دین کو ایک باقاعدہ علم کی حیثیت دے دی اور اسلام کے نظامِ عقائد، نظامِ عبادات اور نظامِ معاشرت و معاملات کو ایک مربوط اور منضبط نظامِ زندگی کی حیثیّت سے پیش کیا. جس کی آنے والے دور میں شدید ترین ضرورت پیش آنے والی تھی. اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے اسلام کا رشتہ اس کی اصلِ ثابت یعنی قرآن حکیم کے ساتھ از سرِ نو قائم کرنے کے طویل عمل کا باقاعدہ آغاز فرما دیا. چنانچہ ایک طرف قرآن مجید کے فارسی ترجمے کے ذریعے قرآن کے مطالب و مفاہیم کو عوام تک پہنچانے کا اہتمام کیا. اگرچہ اس پر انہیں شدید مخالفت حتی کہ عوامی یورش تک کا سامنا کرنا پڑا. اور دوسری طرف "الفوز الکبیر فی اصول التفسیر" کی تصنیف کے ذریعے علمِ تفسیر کو ایک چیستاں کے بجائے ایک باقاعدہ فن کی حیثیت سے متعارف کرایا اور درمیانی استعداد تک کے حامل لوگوں کے لیے فہم قرآن کی راہیں آسان کردیں. 

شاہ صاحب کے جلیل القدر فرزندوں میں سے دو یعنی شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین نے قرآن مجید کے بامحاورہ اور لفظی ترجمے کرکے گویا اپنےو الد، مرحوم کے شروع کیے ہوئے کام کو منطقی انتہا تک پہنچا دیا... اور کون کہہ سکتا ہے کہ آج برّصغیر پاک وہند میں علم و فہم قرآن کا جو غلغلہ اور ہمہمہ ہے وہ سب دہلی کے اسی عظیم خانوادے کی مساعی کا نتیجہ نہیں.

الغرض ویسے تو امام الہند حضرت شاہ والی اللہ دہلوی کا علمی اصلاح و تجدید کا پورا کارنامہ ہی نہایت رفیع اور قابل قدر ہے اور واقعہ یہ ہے کہ ان کی مساعی کو عالمِ اسلام میں یورپ کی پوری تحریکِ احیاء العلوم 
(RENAISSANCE) کا ہم پلہ قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ان کا عظیم ترین کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے توجہات کو از سرِ نَو قرآنِ حکیم کے علم وحکمت کی جانب منعطف کردیا. اور اللہ کی رسی کے ساتھ امتِ مسلمہ کے تعلق کو دوبارہ استوار کرنے کی سعی کا آغاز کرکے گویا حضرت ابوبکر صدیق کے اس قول کے مطابق کہ "لَایُصْلَحُ اٰخِرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃ اِلّا بِمَا صَلَحَ بِہٖ اَوَّلُھَا" اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی سعی وجہد کی راہ کھول دی. فَجَزَاہُ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْجَزَاءِ" 

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں امام الہند شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ تعالی کی قرآنی خدمات پر جو جامع تبصرہ شیخ محمد اکرام مرحوم نے اپنی تالیف "رود کوثر " وہ ہدیۂ قارئین کردیا جائے. 
وَھُوَ ھٰذَا. 

"آپ کا سب سے اہم کام قرآن اور عُلوم قرآنی کی اشاعت ہے اور اس سلسلے میں آپ کا بڑا کارنامہ قرآن مجید کا فارسی ترجمہ ہے. ہندوستان میں بہت کم لوگ عربی جانتے تھے. دفتری اور تعلیمی زبان فارسی تھی لیکن اس زبان میں قرآن مجید کا کوئی ترجمہ رائج نہ تھا.
 (۱چنانچہ عام تعلیم یافتہ مسلمان گلستان ، بوستان ، سکندر نامہ اور شاہنامہ تو پڑھتے اور سمجھتے، لیکن قرآن مجید سے جو ہدایات کا سرچشمہ ہے، ناواقف رہتے. پرانے علماء اور خواص میں سے قرآن مجید اگر کسی نے پڑھا تو ناظرانہ یعنی مفہوم معانی سمجھنے اور اس کی روح و تعلیمات سے فیضیاب ہونے کے بغیر اکبر کے دربار میں جب مسلمان علماء اور پرتگیز مشنریوں میں مباحثے ہوئے اور مشنریوں نے (جو کلامِ مجید کے لاطینی ترجمے کی وجہ سے اس کے اندراجات سے خوب واقف تھے) کلامِ مجید کے بعض حصوں پر اعتراض کیے تو اس وقت پتہ چلا کہ جن مسلمانوں نے عربی میں قرآن پڑھا بھی تھا انہیں بھی اس کے مضامین اور اندراجات سے پوری طرح واقفیت نہ تھی. بسا اوقات یہ ہوتا کہ پادری کلامِ مجید کے کسی بیان پر اعتراض کرتے اور مسلمان کہہ دیتے کہ یہ تو (۱) شیخ سعدی کا ایک ترجمہ بھی اب بازار میں ملتا ہے، لیکن شیخ سعدی رحمہ اللہ تعالی سے اس کی نسبت مشتبہ ہے اور یقیناً یہ ترجمہ کبھی بھی رائج نہیں ہوا. شاہ صاحب سے پہلے ملکِ العلاء قاضی شہاب الدین دولت آبادی نے سلاطینِ جونپور کے زمانے میں ایک تفسیر بحرِ مواج لکھی تھی، جس میں ہر آیت کی تشریح و تفسیر سے پہلے اس کا ترجمہ دیا تھا. لیکن ظاہر ہے اس ترجمے کی حیثیت محض ضمنی اور جزوی تھی اور اسے کبھی بھی عام مقبولیت نصیب نہ ہوئی.

قرآن میں ہے ہی نہیں اور پھر جب کلامِ مجید کھول کے دیکھا جاتا تو وہ حوالے نکلتے. شاہ صاحب کو اس بوالعجَبی کا احساس ہوا اور حج سے واپس آنے کے پانچ سال بعد ۳۸.۱۷۳۷ میں آپ نے فارسی زبان میں کلامِ مجید کا ترجمہ کیا. جب علماء کو اس کا پتا چلا تو تلواریں کھینچ کر آگئے کہ یہ کلامِ مجید کی انتہائی بے ادَبی ہے. بعض سوانح نگار لکھتے ہیں کہ اس مخالفت کی وجہ سے شاہ صاحب کی جان اس طرح خطرے میں پڑگئی کہ انہیں کچھ عرصہ کے لیے دہلی سے چلے جانا پڑا. لیکن بالآخر شاہ صاحب کی جراءت اور فرض شناسی کامیاب ہوئی. انہوں نے لوگوں کو سمجھایا کہ کلام اللہ اس لیے نہیں آیا کہ اسے ریشمی جز دانوں میں لپیٹ کر طاق پر تبرّکاً رکھا جائے یا جس طرح دوسری قومیں منتر پڑھا کرتی ہیں، ہم اسے طوطے کی طرح بغیر سمجھے پڑھ دیں. یہ کتاب انسانی زندگی کے متعلق اہم ترین حقائق کو بے نقاب کرتی ہے. اس کے نازل ہونے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اسے پڑھیں اور ان حقائق کو اپنی زندگی کا دستور العمل بنائیں اور اس کے لیے رائج الوقت زبانوں میں اس کا ترجمہ ضروری ہے. چنانچہ آہستہ آہستہ معترضین کی مخالفت کم ہوئی اور نہ صرف شاہ صاحب کے ترجمے نے رواج پایا، بلکہ اردو اور دوسری زبانوں کے ترجموں کی راہ پیدا ہوگئی.

قرآن مجید کا محض ترجمہ کردینا ہی اس قدر اہم کام تھا کہ اگر شاہ صاحب فقط اسی کارِ خیر پر اکتفا کرتے اور وہ ابتدائی دشواریاں دور کردیتے جو عام علماء کی فرض ناشناسی اور کورانہ تقلید کی وجہ سے ان کے راستے میں حائل تھیں، تب بھی اسلامی تاریخ میں ان کا نام درخشاں ستارے کی طرح چمکتا، لیکن ان کا ترجمہ بطورِ خود بلند پایہ اور قابلِ قدر و عظمت ہے. ترجمے کی مخالفت بیشتر تو تقلید اور امورِ مذہب میں مغز کو چھوڑ کر استخوان کے پیچھے دوڑنے کی وجہ سے تھی، لیکن اس میں شک نہیں کہ قرآن مجید کے ترجمے میں ہزاروں دقتیں ہیں. 

ترجمے میں لفظی صحت کو برقرار رکھنا اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن کے بلیغ معانی اور اس کی ادبی شان کو اس پر قربان نہ ہونے دینا اس قدر مشکل ہے کہ آج، جبکہ ہمیں قرآن مجید کے ترجموں میں دو سو سال کی مشق ہے اور قوم کے بہترین علماء و ادباء نے اس قومی خدمت پر توجہ کی ہے، ایک بھی ترجمہ ایسا نہیں، جسے تسلی بخش کہا جا سکے یا جس سے اصل کے زورِ بیان، فصاحت و بلاغت اور روحانی عظمت کا صحیح اندازہ ہوسکے. شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالی کے ترجمے کے متعلق یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے بہتر ترجمہ نہیں ہوسکتا اور اصل میں ضرورت یہ ہے کہ مستند اور بلند پایہ ترجمے کے لیے علماء اور اہلِ قلم کی ایک پوری جماعت یہ فرض ادا کرے، لیکن اکثر باتوں میں وہ موجودہ اردو ترجموں سے کہیں بہتر ہے. اور اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید کا ترجمہ کرنے والے میں جن خصوصیتوں کی ضرورت ہے، وہ شاہ صاحب سے بڑھ کر آج تک کسی مترجم میں جمع نہیں ہوئیں. مولانا نذیر احمد کہتے ہیں. "فی الحقیقت قرآن کے مترجم ہونے کے لیے جتنی باتیں درکار تھیں، ترجمے سے ثابت ہوتا ہے وہ سب مولانا شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالی میں علی وجہ الکمال پائی جاتی تھیں. اور سب سے بڑی بات یہ کہ مولانا صاحب کی نظر تفاسیر اور احادیث اور دین کی کتابوں پر ایسی وسیع ہے کہ بس انہیں کا حصہ تھا. ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک آیت بلکہ ہر ایک لفظ کی نسبت مفسرین کے جتنے اقوال ہیں وہ سب ان کے پیش نظر ہیں اور وہ ان میں جس کو واضح پاتے ہیں اسے اختیار کرتے ہیں. 

شاہ صاحب نے نہ صرف قرآن مجید کا ترجمہ کیا، بلکہ اس مسئلے کے علمی پہلوؤں پر بھی ایک رسالہ لکھا اور 
مقدمہ فی ترجمۃ القرآن المجید میں قرآن مجید کے مترجموں کی رہنمائی کے لیے کار آمد ہدایتیں درج کیں. 

شاہ صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں. اس بندۂ ضعیف پر خداوند تعالیٰ کی کئی بے شمار نعمتیں ہیں، جن میں سب سے زیادہ عظیم الشان نعمت یہ ہے کہ اس نے مجھ کو قرآن مجید سمجھنے کی توفیق عطا فرمائی اور حضرت رسالت مآب کے احسانات اس کمترین امت پر بہت ہیں، جن میں سب سے بڑا احسان قرآن مجید کی تبلیغ ہے. 

قرآن مجید کی تبلیغ شاہ صاحب نے فقط ترجمہ کرکے ہی نہیں کی، بلکہ علم تفسیر کے متعلق کتابیں بھی لکھیں . جن میں 
الفوز الکبیر فی اصول التفسیر خاص طور پر قابل ذکر ہے. اس کتاب کے چار باب ہیں، جن میں علومِ قرآنی اور مطالعۂ قرآن کے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کیا ہے. دوسرے باب میں آپ نے مسئلہ نسخ پر مجتہدانہ انداز سے نظر ڈالی ہے. اور وہ آیات منسوخہ جن کی تعداد بعض لوگوں کے نزدیک پانچ سو کے قریب تھی اور جن کی تعداد علامہ جلال الدین سیوطی نے بھی بیس مقرر کی تھی، چار سے زیادہ تسلیم نہیں کیں. 

فوز الکبیر کے بعض اندراجات سے خیال ہوتا ہے کہ شاہ صاحب قرآنی ارشادات کو وسیع سے وسیع مفہوم دینا چاہتے تھے. وہ مختلف آیتوں اور سورتوں کے متعلق اسبابِ نزول کا خیال رکھتے ہیں، لیکن اس بات کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ اس سے کلامِ مجید کے اصلی مقصد پر پردہ نہ پڑجائے، چنانچہ باب اوّل میں لکھتے ہیں. (ترجمہ) 

عام مفسرین نے ہر ایک آیت کو خواہ مباحثہ کی ہو یا احکام کی، ایک قصے کے ساتھ ربط دیا ہے اور اس قصے کو اس آیت کے لیے سببِ نزول مانا ہے، لیکن حق یہ ہے کہ نزولِ قرآنی سے مقصودِ اصلی
نفوسِ بشریہ کی تہذیب اور ان کے باطل عقائد اور فاسد اعمال کی تردید ہے. اس لیے آیاتِ مناظرہ کے نزول کے لیے متکلمین میں عقائد باطلہ کا وجود اور آیاتِ احکام کے لیے ان میں اعمالِ فاسدہ اور مظالم کا شیوع اور آیتِ تذکیر کے نزول کے لیے ان کا بغیر ذکر آلاء اللہ وایام اللہ اور موت و واقعات بعد الموت کے بیدار نہ ہونا، اصلی سبب ہوا. خاص واقعات کو جن کے بیان کرنے کی زحمت اٹھائی گئی ہے اسبابِ نزول میں چنداں دخل نہیں. مگر سوائے چند آیات کے جن میں کسی ایسے واقعہ کی جانب اشارہ ہے جو رسول اللہ کے زمانے میں یا اس سے بیشتر واقع ہوا ہو. 

فوز الکبیر کی دوسری خصوصیت شاہ صاحب کی انصاف پسندی اور اخلاقی جرات ہے. مثلاً عام طور پر مسلمان زمانہ جاہلیت کے عربوں سے فقط برائیاں اور عیب ہی منسوب کرتے ہیں، لیکن شاہ صاحب نے اس معاملے میں بھی "انصاف بالائے طاعت" کے اصول کو ملحوظ رکھا اور تصویر کے دونوں پہلو پیش کیے. اسی طرح عام مسلمانوں کا خیال ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی اصل مذہبی کتاب کو بدل ڈالا ہے، لیکن شاہ ولی اللہ اس کے قائل نہ تھے. وہ لکھتے ہیں "یہودی تحریفِ لفظی، تورات کے ترجمے وغیرہ میں کیا کرتے تھے نہ کہ اصل کتاب میں کیونکہ فقیر کے نزدیک ایسا ہی محقق ہوا ہے اور ابن عباس کا بھی یہی قول ہے. 

بعض مفسرین نے اہل کتاب سے قصے لے کر انہیں قرآنی تفاسیر اور علومِ اسلامی 
کا جزو بنا دیا ہے. اس کے خلاف شاہ صاحب نے جا بجا آواز بلند کی ہے مثلاً فوز الکبیر میں لکھا ہے. یہاں پر یہ جان لینا مناسب ہے کہ حضرات انبیاء سابقین کے قصے احادیث میں کم مذکور ہیں اور ان کے وہ لمبے چوڑے تذکرے جن کے بیان کرنے کی تکلیف عام مفسرین بیان کرتے ہیں وہ سب الا ماشاء اللہ علماء اہل کتاب سے منقول ہیں. اسی کتاب میں آگے چل کر پھر لکھتے ہیں. اسرائیلی روایات کا نقل کرنا ایک ایسی بلا ہے جو ہمارے دین میں داخل ہوگئی ہے. حالانکہ صحیح اصول یہ ہے کہ ان کی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب. مفسرین کے بعض قصے جنہیں عوام اسلام کا ضروری جزو سمجھنے لگ گئے ہیں، شاہ صاحب کو بہت ناپسند تھے. فرماتے تھے "اور محمد بن اسحاق واقدی کلبی نے قصہ آفرینی میں جس قدر افراط کی ہے (یعنی وہ ہر ایک آیت کے تحت میں ایک قصہ لائے ہیں) محدثین کے نزدیک ان کا اکثر حصہ صحیح نہیں اور ان کے اسناد میں خامیاں ہیں. ان لوگوں کی اس افراط کو علمِ تفسیر کے لیے شرط سمجھنا صریح غلطی اور اس کے حفظ پر فہمِ کتاب اللہ کو موقوف کرنا در اصل کتاب اللہ سے اپنا حصہ کھونا ہے. 
مفسرین کی یہی ژولیدہ نویسی تھی جس کی وجہ سے شاہ صاحب نے اپنے وصیت نامے میں بھی لکھا کہ قرآن اور اس کا ترجمہ تفسیر کے بغیر ختم کرنا چاہیے. اور پھر اس کے بعد تفسیر، اور وہ بھی 
تفسیر جلالین (بقدرِ درس) پڑھائی جائے. (جو نہایت مختصر ہے اور جس کے الفاظ قرآن کے الفاظ جتنے ہیں) وہ لکھتے ہیں. قرآن عظیم اس طرح پڑھاویں کہ صرف قرآن اور ترجمہ بغیر تفسیر کے پڑھا جائے مگر جہاں شانِ نزول یا قاعدۂ نحو مشکل ہو وہاں ٹھہرجائیں اور بحث کریں بعد اس کے تفسیرِ جلالین بقدرِ درس پڑھاویں. (ترجمہ)