انگریزی دور کے نئے فتنوں کا سدّباب

انگریزی دور کے نئے فتنوں کا سدّباب
تحریکِ رجوع الی القرآن
اور 
ترجمہ و تفسیر قرآن کے مختلف مکاتبِ فکر 

  • خانوادۂ والی اللہی اور تحریک شہیدین
  • عیسائیوں اور ہندوؤں کی جانب سے تبلیغی یلغار
  • سرسید احمد خاں مرحوم اور آنجہانی غلام احمد قادیانی
  • شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالی 
  • ڈاکٹر سر محمد اقبال اور ڈاکٹر محمد رفیع الدین
  • مولانا ابو الکلام آزاد اور سید ابو الاعلی مودودی
  • امام حمید الدین فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی

امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے بارے میں ہم اپنا یہ تاثر بھی بیان کرچکے ہیں کہ "دورِ صحابہ کے بعد کی پوری اسلامی تاریخ میں ان کی سی جامعیتِ کبریٰ کی حامل کوئی دوسری شخصیت نظر نہیں آتی اور اس میں ہرگز کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ واقعۃً دورِ جدید کے فاتح ہیں..." اور ساتھ ہی تجدیدِ دین اور احیائے اسلام کے بلند و بالا مقاصد کے لیے ان کی ہمہ جہتی مساعی کا ایک اجمالی خاکہ بھی بیان کیا جا چکا ہے اور یہ بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ ان مختلف النوع اور وسیع الاطراف مساعی میں ان کی اہم ترین خدمت یہ تھی کہ انہوں نے "اسلام کا رشتہ اس کی ’اصلِ ثابت‘ یعنی قرآن حکیم کے ساتھ از سرِ نو قائم کرنے کے طویل عمل کا باقاعدہ آغاز فرمادیا".. اور یہ کہ "ان کا عظیم ترین کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے توجہات کو از سرِ نو قرآن حکیم کے علم و حکمت کی جانب منعطف کردیا. اور اللہ کی رسی کے ساتھ امت مسلمہ کے تعلق کو دوبارہ استوار کرنے کی سعی کا آغاز کرکے گویا حضرت ابوبکر صدیق کے اس قول کے مطابق کہ لایصلح اخر ھذہ الامۃ الا بما صلح بہ اولھا. اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی سعی و جہد کی راہ کھول دی!

اس سے پہلے ہم یہ بھی واضح کرچکے تھے کہ صدرِ اوّل میں اسلام کی عظیم ترین حقیقتیں دو ہی تھیں: ایک ایمان. وہ ظاہری اور قانونی و فقہی ایمان نہیں جس کا تعلق 
"اِقْرَارٌ باللِّسَانِ" سے ہے بلکہ وہ حقیقی اور قلبی ایمان جو یقین بن کر انسان کے رگ و پے میں سرایت کرجائے. اور دوسرے جہاد فی سبیل اللہ جس کا مقصد ہو، شہادت علی الناس. اعلاء کلمۃ اللہ، اور اظہارِ دین حق علی الدین کلہ. اور چونکہ ایمان حقیقی کا منبع و سرچشمہ ہے قرآنِ حکیم اور جہاد و قتال کی علامت ہے. تلوار، لہذا، مردِ مومن، کی شخصیت کا جو ہیولیٰ چشمِ تصور کے سامنے ابھرتا ہے اس کے ایک ہاتھ میں بالکل بجا طور پر قرآن ہوتا ہے اور دوسرے میں تلوار!

یہ صحیح ہے کہ امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ تعالی کی اپنی زندگی میں سربکف، سیف بدست اور کفن بردوش میدانِ جہاد و قتال میں نکلنے کا مرحلہ نہیں آیا لیکن یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ان کی وفات کے نصف صدی کے اندر اندر جہاد و قتال فی سبیل اللہ کا جو غلغلہ سرزمینِ ہند میں بلند ہوا وہ تمام تر ان ہی کی تجدیدی دعوت کی صدائے باز گشت تھی. اس لیے کہ خود حضرت سید احمد بریلوی بھی خانوادۂ والی اللہی ہی کے تربیت یافتہ تھے اور ان کے دستِ راست تو تھے ہی شاہ اسمعیل ابن شاہ عبدالغنی ابن شاہ ولی اللہ! اور اگرچہ انجامِ کار کے اعتبار سے ہندوستان کی یہ پہلی اسلامی تحریک شعلۂ مستعجل کا مصداق بن گئی لیکن اس کی خوش درخشیدگی، یقینا ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے. یہاں تک کہ واقعہ یہ ہے کہ اس تحریک جہاد کے وابستگان کے ایمان و یقین، ذوق و شوق اور جو ش و خروش کے تذکرے سے بے اختیار صحابہ کرام یاد آجاتے ہیں اور سخت حیرت ہوتی ہے کہ "ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاستر میں تھی" اور یہ ایک بین ثبوت ہے اس کا کہ اگر دعوت کی اساس اور منہجِ عمل وہی اختیار کیا جائے جو اسلام کے صدرِ اول میں کیا گیا تھا تو سیرت و کردار کے وہی نمونے آج بھی تیار ہوسکتے ہیں جو دورِ صحابہ کا طرہ امتیاز ہیں، گویا بقول جگر مراد آبادی ؎

چمن کے مالی اگر بنا لیں موافق اپنا شعار اب بھی
چمن میں آ سکتی ہے پلٹ کر چمن سے روٹھی بہار اب بھی

ہندوستان میں انگریز کے باقاعدہ عسکری تسلط کا آغاز تو ۱۷۵۷ء میں جنگ پلاسی کے نتیجے میں گویا شاہ ولی اللہ دہلوی کی زندگی ہی میں (ان کی وفات سے چھ سال قبل) ہوگیا تھا تاہم اسے ایک باضابطہ کل ہند سلطنت بننے میں پوری ایک صدی لگی. یہاں تک کہ ۱۸۵۷ء کے غدر یا بغاوت کی صورت میں آخری ہچکی لے کر ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کا ساڑھے چھ صد سالہ دور ختم ہوگیا. اور تاریخ ہند کے برطانوی دور کا آغاز ہوگیا. 

اٹھارویں صدی عیسوی کا نصفِ آخر اور انیسویں صدی کا نصفِ اوّل ہند میں سخت اضطراب و انتشار اور شکست و ریخت کا زمانہ ہے جس میں مسلمان بالخصوص حد درجہ مایوسی اور دل شکستگی کا شکار 
رہے . مایوسی کے اس غلبے میں جب کہ حالت یہ ہوتی ہے کہ ؎

آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں 
اور ہو جائے تو مرجاتی ہے یا رہتی ہے خام

ظاہر ہے کہ تحریکِ شہیدین ایسی پر عزیمت دعوت کا پنپنا اور کامیاب ہونا آسان نہ تھا. چنانچہ یہی ہوا کہ ۱۸۳۱ء میں شہیدین نے "بخاک و خون غلطیدن" کی روش اختیار کرلی اور اپنے بہت سے رفقاء کے ساتھ جام شہادت نوش کرلیا اور اس طرح بالا کوٹ کی فضاؤں میں دعوتِ ولی اللہی کی یہ پہلی سدائے باز گشت دم توڑ گئی.. اور بعد میں اگرچہ مجاہدین مسلسل ؏ . 

"من از سرِ نو جلوہ دہم دار و رسن را"

پرعمل پیرا رہے اوران کی مساعی کاسلسلہ بالآخر ریشمی رومالوں کی تحریک تک ممتد ہوا لیکن ظاہر ہے کہ ان کا نتیجہ کوئی برآمد نہ ہوسکا..اور ہندوستان میں انگریز کااقتدار اور قبضہ دن بدن مستحکم ہوتاچلا گیا.

برطانوی دور میں مسلمانانِ ہند زندگی اور موت کی جس کشمکش سے مسلسل دو چار رہے اس کے متعدد پہلو تھے، خالص دینی و مذہبی بھی، علمی و فکری بھی، سماجی و مجلسی بھی، اور قومی و سیاسی بھی، ... ان میں سے اس وقت ہماری گفتگو خالص دینی و مذہبی کشمکش تک محدود ہے (قومی و سیاسی کشمکش کے بارے میں ہم نے ۱۹۶۷ء میں ان ہی صفحات میں تفصیل کے ساتھ اظہار رائے کیا تھا. یہ مضامین اسلام اور پاکستان کے زیر عنوان کتابی صورت میں شائع کیے جا چکے ہیں) مزید بر آں یہ چومکھی جنگ مسلمانوں کو بیک وقت دو دشمنوں سے لڑنی پڑی، انگریزوں سے بھی اور ہندوؤں سے بھی! اور جیسا کہ بالعموم ہوتا ہے اس میں اولاً مسلمانوں کو مدافعت ہی پر اکتفا کرتے بنی اور ایک طویل عرصے بعد ہی یہ صورت پیدا ہوسکی کہ قدم جما کر کسی مثبت اساس پر تعمیر جدید کی کوشش شروع کرسکیں.

خالص مذہبی میدان میں مسلمانوں کو سب سے پہلے عیسائی مشنریوں کی یلغار سے سابقہ پیش آیا. ۱۸۲۶ء میں ہیبر 
(HABER) لارڈ بشپ آف کلکتہ نے براستہ دہلی بمبئی تک پورے 
ہندوستان کا دورہ کرنے کے بعد اعلان کیا کہ ہم نے اچھی طرح دیکھ لیا ہے کہ مسلمانان ہند میں نہ کوئی مذہبی جذبہ باقی رہا ہے نہ سیاسی قوت. لہذا عیسائیوں کو کھل کر اپنے مذہب کی تبلیغ کرنی چاہیے. چنانچہ عیسائی پادری چاروں طرف سے ٹوٹ پڑے اور نوبت باینجا رسید کہ جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں پر بھی عیسائیت کی تبلیغ ہونے لگی. تب وہی سنت الہی ظاہر ہوئی کہ ؎

خون اسرائیل آجاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسے طلسمِ سامری

اور یہ سعادت اسی خطے کے حصے میں آئی جس میں علم و حکمتِ ولی اللہی کے چشمے بہہ رہے تھے کہ ضلع مظفر نگر کے قصبے کیرانہ سے مولانا رحمت اللہ نامی شخصیت ابھری جس نے پادری فینڈر(FENDER) کی کتاب "میزان الحق" کا دندان شکن اور مسکت جواب "اظہار الحق" کے نام سے تحریر کیا. نتیجۃً پادری صاحب موصوف کو ہندوستان سے دُم دبا کر بھاگتے ہی بنی. (اور پھر جب اس نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز ترکی کو بنایا اور وہاں کے علماء کا ناک میں دم کردیا اور وہاں سے طلبی پر مولانا رحمت اللہ کیرانوی ترکی پہنچے تو وہاں سے بھی نودوگیارہ ہوگیا) مباحثے اور مناظرے میں اس شکستِ فاش کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد میں ہندوستان میں عیسائیت کی تبلیغ کھلے میدان میں خم ٹھونک کر کبھی نہ کی جاسکی. اور اس کی واحد ممکن صورت صرف یہ رہ گئی کہ پسماندہ طبقات کی تالیفِ قلب کے ذریعے کچھ لوگوں کے ناموں کے آگے چپکے سے مسیح کا لاحقہ چسپاں کرادو اور بس! 

دوسری طرف عیسائی پادریوں کے دیکھا دیکھی ہندوؤں کی باسی کڑھی میں ابال آ گیا اور مسلمانوں پر ان کا تبلیغی حملہ دو صورتوں میں ہوا: ایک خالص رجعتی اور تنگ نظرانہ انداز میں، دوسرے قدرے وسیع الشربی کے رنگ اور ترقی پسندانہ انداز میں ... ان میں سے پہلے کا حشر تو اگرچہ عیسائی مشنریوں کے انجام جیسا ہی ہوا لیکن جس طرح کوئی بخار جاتے جاتے مریض کے لیے کوئی اذیت بخ چیز چھوڑ جاتا ہے جسے عام گھریلو زبان میں بخار کا "موتنا" کہتے ہیں اسی طرح یہ فتنہ بھی جاتے جاتے جسدِ ملت میں ایک سرطان کی جڑیں جما گیا. رہا دوسرے انداز کا حملہ تو اس نے میٹھی چھری والا کام کیا اور مسلمانانِ ہند کے اچھے بھلے حصے کو متاثر کیا یہاں تک کہ بعض انتہائی اہم شخصیتیں بھی اس کی زلفِ گرہ گیر کی اسیر ہوگئیں. 
اوّل الذکر حملہ... آریہ سماجیوں کی جانب سے تھا جنہوں نے ۱۸۶۵ء ہی کے لگ بھگ مسلمانوں کو للکارنا شروع کردیا تھا ۱۸۷۵ء میں سوامی دیانند سرسوتی کی تصنیف "ستھیارتھ پرکاش" کی اشاعت سے تو گویا یہ فتنہ عروج کو پہنچ گیا تھا . ان کے جواب کے لیے علماء حق بھی میدان میں آئے لیکن بد قسمتی سے اس میدان میں نمایاں حیثیت آنجہانی غلام احمد قادیانی کو حاصل ہوگئی جس نے ۱۸۸۳ میں اپنی تالیف "سرمۂ چشمِ آریہ" ہی کے ذریعے وہ ہر دلعزیزی حاصل کی تھی جو اس کے ظرف سے بہت زیادہ ہونے کے باعث چھلک پڑی. نتیجۃً وہ خود بھی گمراہ ہوا اور دوسرے سینکڑوں اور ہزاروں کو بھی گمراہ کرگیا. 

مؤخر الذکر حملہ .. برہمو سماج کی صورت میں سامنے آیا جس کی تاسیس ۱۸۱۶ء میں راجہ رام موہن رائے (ولادت ۱۷۷۰ء ، وفات ۱۸۳۳) نے کی تھی. عجیب بات ہے کہ یہ انتہائی ذہین و فطین اور عالم و فاضل شخص بھی پہلے اسلام اور مسلمانوں کی جانب سے مدافعت کرتے ہوئے ہی سامنے آیا. چنانچہ اس نے مسلمانوں کو عیسائی مشنریوں کے حملے سے بچانے کے لیے "تحفۃ الموحدین" تصنیف کی اور اس طرح مسلمانوں میں ہر دلعزیزی حاصل کرلی. بعد میں یہ شخص اپنشدوں کا پرچارک، ہندوستان کی عظمت و سطوت پارینہ کا نقیب اور ہندی نیشنلزم کا علمبردار بن کر سامنے آیا. اور مسلمانان ہند کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کرنے کے لیے اس نے اکبر اعظم علیہ ما علیہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دینِ الہی کے چربے کے طور پر وحدتِ ادیان کا فلسفہ ایجاد کیا جس کے ناوک نے اچھے اچھوں کو زخمی کیا اور بڑے بڑوں کے دلوں کو چھید ڈالا. واقعہ یہ ہے کہ انڈین نینشل کانگرس کی پوری تحریک اسی ایک شخص کے ظل اور بروز کی حیثیت رکھتی ہے اور گاندھی جی کی شخصیت پر سب سے گہری چھاپ اسی کی نظر آتی ہے. عجیب مماثلت ہے کہ جس طرح راجہ جی نے اسلام اور مسلمانوں کی مدافعت میں "تحفۃ الموحدین" تالیف کی اسی طرح گاندھی جی نے مسلمانوں کی تالیفِ قلب کے لیے تحریکِ خلافت میں شمولیت اختیار کی اور وحدتِ ادیان کے فلسفے کو اتنا اچھالا کہ مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم جیسی عظیم اور نابغہ شخصیت بھی اس کی زلفِ گرہ گیر کی اسیر ہوگئی ؏ . 

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں

مسلمانانِ ہند کی مثبت احیائی مساعی کا آغاز در اصل بیسویں صدی عیسوی کی ابتداء سے ہوا. 
یہ مساعی قومی و ملی سطح پر اور خالص سیاسی میدان میں بھی ہوئیں اور علمی و فکری سطح پر بھی. ہم مختلف مواقع پر اس احیائی عمل کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ رائے کرچکے ہیں. آج ہمیں اس ہمہ جہتی عمل کے اس پہلو پر روشنی ڈالنی ہے جو ہمارے نزدیک خاص تجدید و احیائے دین اور ٹھیٹھ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے اعتبار سے اہم ترین ہے. اور وہ یہ کہ بحمد اللہ نگاہوں کا ارتکاز رفتہ رفتہ قرآن مجید پر ہوتا جا رہا ہے اور امت مسلمہ جو کلام اللہ سے بالکل بیگانہ ہوگئی تھی دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہورہی ہے.

اس عمل کا آغاز جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے، اٹھارویں صدی میں شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کے فارسی ترجمے اور 
"الفوز الکبیر فی اصول التفسیر" کی تالیف سے کیا. 
انیسویں صدی کے آغاز میں ان کے دو صاحبزادوں، شاہ رفیع الدین، اور شاہ عبدالقادر کے علی الترتیب لفظی و با محاورہ اردو ترجمے شائع ہوئے (شاہ رفیع الدین کا ۱۸۰۵ء میں اور شاہ عبدالقادر کا۱۸۱۰ء میں) .. انیسویں صدی کا اکثر حصّہ اگرچہ سیاسی شکست و ریخت اور عیسائیوں اور آریہ سماجیوں کے ساتھ مباحثوں اور مناظروں میں بیت گیا تاہم اس کے اواخر ہی ہی میں 
رجوع الی القرآنکا وہ عمل پھر شروع ہوگیا تھا جو بیسویں صدی کے اوائل میں پوری شدت کو پہنچا. 

رجوع الی القرآن کے اس عمل کا جائزہ لیتے ہوئے یہ امر پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ آغازِ کار میں اس میں ان گروہوں نے بھی حصہ لیا جو بعد میں انتہائی غلط راہوں پر چل نکلے اور 
"ضَلُّوْا وَ اَضَلُّوْا" کا مصداقِ کامل بن گئے. ان میں وہ بھی ہیں جو "ضَلُّوْا ضَلَالًا بَعِیْدًا" کی اس حد کو پہنچ گئے کہ امت کو مجبوراً ان کا تعلق اپنے سے منقطع کرنا پڑا جیسے قادیانی، اور وہ بھی ہیں جن کی یا تو گمراہی اس درجے کی نہ تھی یا اہمیت اتنی نہ تھی کہ یہ انتہائی قدم اٹھایا جاتا جیسے چکڑالوی و پرویزی... تاہم چونکہ انہوں نے بھی قرآن حکیم کی جانب ارتکازِ توجہ کے عمل میں صحیح یا غلط طور پر کچھ حصہ لیا ہے. لہٰذا ان کا ذکر کیا جارہا ہے... اسے کسی بھی درجے میں ان کی تائید کے مترادف نہ سمجھا جائے. 

سب سے پہلے تو اندازہ کرنا چاہیے کہ گزشتہ صدی کے ربعِ آخر اور موجودہ صدی کے ربعِ اول میں ترجمہ وتفسیرِ قرآن کے ذیل میں برّصغیر پاک و ہند میں کس قدر کام ہوا: 
(۱). سب سے پہلے سر سیّد احمد خاں مرحوم نے ۱۸۷۵ء میں اپنے ہفت روزہ اخبار تہذیب الاخلاق میں تفسیرِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا جو گیارہ سال میں پندرہ پاروں تک پہنچ کر رک گیا.

(۲). ۱۹۰۳ء میں ڈپٹی نذیر احمد صاحب کا ترجمہ شائع ہوا.
(۳). ۱۹۰۶ء میں مرزا حیرت دہلوی کا ترجمہ شائع ہوا.
(۴). ۱۹۱۰ء میں مولوی فتح محمد جالندھری کا ترجمہ شائع ہوا.
(۵). ۱۹۰۵ء میں مولوی عبداللہ چکڑالوی کی تفسیر شائع ہوئی.
(۶). ۱۹۱۱ء میں مرزا ابو الفضل ایرانی (شیعہ) نے انگریزی میں ترجمہ شائع کیا. اس کو دیکھ کر نواب عماد الملک بلگرامی نے اس سے بہتر ترجمہ شروع کیا. لیکن سولہ پاروں تک ہی پہنچ پائے تھے کہ فوت ہوگئے. لہذا یہ نامکمل رہ گیا اور شائع نہ ہوسکا.
(۷). ۱۹۰۶ء میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالی نے تفسیر بیان القرآن لکھنی شروع کی جو ۱۹۱۵ء میں مکمل ہوئی.
(۸). ۱۹۲۰ء کے لگ بھگ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا ترجمہ مع مختصر حواشی شائع ہوا (حواشی سورۃ النساء تک حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ تعالی کے ہیں اور باقی مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالی کے) 
(۹). ۱۹۱۷ء میں محمد علی لاہوری کا انگریزی ترجمۂ قرآن مع مختصر حواشی شائع ہوا (اسے اسے قدر شہرت حاصل ہوئی کہ ۱۹۲۰ء تک کل تین برس میں اس کے تیس ہزار نسخے فروخت ہوگئے!)
(۱۰). ۱۹۲۲ء میں محمد علی لاہوری ہی کی اردو تفسیر شائع ہوئی، اس کا نام بھی، بیان القرآن، ہی ہے.

ظاہر ہے کہ یہ فہرست کسی طرح بھی مکمل نہیں کہلا سکتی، تاہم اس سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ قرآن مجید کے ساتھ اعتناء و التفات کا ایک سلسلہ گذشتہ صدی کے اواخر سے شروع ہوگیا تھا اور اس صدی کے ربعِ اوّل کے ختم ہونے تک خاصی دلچسپی مسلمانانِ ہند کو قرآن حکیم اور اس کے علوم و معارف کے ساتھ پیدا ہوچکی تھی.

ہم اس سے قبل ایک موقع پر قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ برّصغیر پاک و ہند میں ملتّ اسلامی کی نشاۃ ثانیہ کے عمل کے دوران دو متضاد نقطۂ نظر اور طرز ہائے فکر پروان چڑھتے گئے. ایک وہ جس کا منبع و سرچشمہ علی گڑھ بنا اور دوسرے وہ جس کے مرکز و محور کی حیثیت دیوبند کو حاصل ہوئی. ابتدا میں راسخ العقیدہ علماء کی گرفت مسلم معاشرے پر اتنی مضبوط تھی کہ علی گڑھی طرزِ فکر کو اپنے لیے راستہ بنانے میں شدید مخالفت و مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا لیکن بعد میں حالات کے تقاضوں کے تحت اس کے اثرات وسیع سے وسیع تر ہوتے چلے گئے اور علماء کا حلقہ اثر سکڑتا چلا گیا. تاہم اب بھی ہمارے جسدِ ملی کے بحرِ محیط میں یہ دونوں روئیں بالکل مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتقِیٰنِ. بَنَھُمَا بَرْزَخٌ لَّایَبْغِیٰنِ کی سی شان کے ساتھ بہہ رہی ہیں. اور اگرچہ قومی و سیاسی میدان میں علی گڑھی مکتبِ فکر کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی تاہم مذہبی میدان میں اب بھی غلبہ و اقتدار راسخ العقیدہ علماء ہی کو حاصل ہے!

اس تفرقہ و اختلاف کے جو اثرات ہماری قومی و سیاسی جدوجہد پر مترتب ہوئے وہ ہماری اس وقت کی گفتگو کے موضوع سے خارج ہیں. اس وقت صرف یہ عرض کرنا ہے کہ قرآن حکیم کی جانب توجہ و التفات کا جو رجحان پیدا ہوا اس میں بھی یہ دونوں رنگ بالکل علیحدہ علیحدہ نظر ہیں. چنانچہ متذکرہ بالا تراجم و تفاسیر کو بنیادی طور پر دو گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے. ایک متجددانہ رنگ کی حامل تفاسیر جن کے ضمن میں سرسید احمد خاں مرحوم کی تفسیر کو اصل الاصول کی حیثیت حاصل ہے اور دوسری روایتی انداز کی راسخ العقیدہ تفاسیر جن میں حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ تعالی کا ترجمہ اور مولانا تھانوی کی تفسیر بنیادی اور اساسی اہمیت کی حامل ہیں. چنانچہ واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے تراجم و تفاسیر یا بالفاظ دیگر "فکرِ قرآنی" کے میدان میں خواہ مولوی عبداللہ چکڑالوی کی چکڑالویت ہو خواہ محمد علی لاہور کی لاہوریت، اور خواہ علامہ عنایت اللہ خاں المشرقی کی مشرقیت ہو خواہ چودھری غلام احمد پرویز کی پرویزیت، یہ سب فکرِ سرسید ہی کی شاخیں ہیں. اور دوسری طرف مولانا تھانوی رحمہ اللہ تعالی کی "بیان القرآن" پر مبنی تین مزید تفسیریں منصّۂ شہود پر آچکی ہیں. ایک مولانا عبدالماجد دریاآبادی کی تفسیر جس میں تقابلِ ادیان اور خصوصاً بائبل ہسٹری کے ضمن میں بہت مفید مباحث ہیں، دوسری مولانا محمد ادریس کاندھلوی کی تفسیر جس میں کلامی مسائل پر زیادہ 
توجہ کی گئی ہے اور تیسری مولانا مفتی محمد شفیع کی تفسیر جس میں فقہی مسائل سے زیادہ اعتناء کیا گیا ہے. 

جہاں تک مقدم الذکر مکاتبِ فکر کا تعلق ہے، ہمیں ان سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے اور ہم انہیں ضلالت و گمراہی ہی کے مختلف رنگ 
(SHADES) سمجھتے ہیں. بایں ہمہ اس جائزے میں ان کا ذکر دو وجوہ سے کیا گیا ہے: ایک یہ کہ ان کی مساعی سے بھی امت کے بعض عناصر میں قرآن مجید سے ایک دلچسپی پیدا ہوئی. اور اگرچہ ان کے زیر اثر یہ دلچسپی غلط رخ پر پڑ گئی، تاہم اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر قرآن حکیم کے حقیقی اور اصلی علوم و معارف پیش کیے جائیں تو ان مکاتب فکر سے منسلک لوگوں کو بآسانی راغب کیا جا سکتا ہے. اور دوسرے یہ کہ ان مکاتبِ فکر نے گویا ایک دعوی (THESIS) کی شکل اختیار کرلی جس کے جوابِ دعویٰ (ANTI-THESIS) کے طور پر راسخ العیقدہ علماء کو ترجمہ و تفسیرِ قرآن کی جانب متوجہ ہونا پڑا اور اس طرح ایک بڑا ذخیرہ اردو تراجم و تفاسیر کا تیار ہوگیا. جس سے قرآن مجید کی جانب عوام کی توجہات کے انعطاف کا عمل تیز تر ہوگیا. 

ویسے یہ عرض کرنا غالباً خارج از محل شمار نہیں ہوگا کہ خود علماء کے حلقوں میں تاحال قرآنِ حکیم پر توجہ اس درجہ مرکوز نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے تھی. راقم الحروف نے ایک بار مولانا سیّد محمد یوسف بنوری مدظلہء سے دریافت کیا کہ اس کاکیا سبب ہے کہ اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ پر تو ہمارے یہاں ضخیم تصانیف موجود ہیں لیکن اصولِ تفسیر پر کل دو مختصر رسالے ملتے ہیں ایک امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کا اور دوسرا شاہ ولی اللہ دہلوی کا؟ اس کا جواب تو مولانا نے قدرے توقف کے بعد یہ دیا کہ اصل میں اصولِ فقہ کی کتابوں میں اصولِ تفسیر بھی زیر بحث آجاتے ہیں لہٰذا علیحدہ تصانیف کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی. لیکن جب میں نے یہ دریافت کیا کہ اس کا کیا سبب ہے کہ آپ کے دار العلوم میں تخصص فی الحدیث کا شعبہ بھی ہے اور تخصّص فی الفقہ کا بھی، لیکن تخصص فی التفسیر کا شعبہ موجود نہیں ہے؟ تو اس پر مولانا نے پوری فراخدلی کے ساتھ تسلیم فرمایا کہ یہ ہماری کوتاہی ہے! اسی طرح حیرت ہوتی ہے کہ حلقۂ دیوبند کے علماء کرام کے دلوں میں حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ تعالی کا جو مقام و مرتبہ ہونا چاہیے اور فی الواقع ہے وہ اظہر من الشمس ہے لیکن ان کی آخری نصیحتوں میں اہم ترین نصیحت جسے نقل فرمایا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ تعالی نے، اس پر عمل کہیں نظر نہیں آتا. الا ماشاء اللہ. 
بہرحال علی گڑھ اور دیوبند کی ان دو انتہاؤں کے مابین ملت اسلامیۂ ہند کے محیط میں "فکرِ قرآنی" کے تین سوتے اور پھوٹے جنہیں مجموعی طور پر (SYNTHESIS) سے تعبیر کیا جا سکتا ہے. 

(۱). ایک وہ جس کا منبع اور سرچشمہ بنے علامہ اقبال مرحوم جو معروف و متداول معنوں میں تو نہ مترجمِ قرآن تھے نہ مفسرِ قرآن. بلکہ ان کی تعلیم بھی نہ کسی دار العلوم میں ہوئی تھی، نہ جامعۂ اسلامیہ میں. اس کے برعکس وہ سکولوں اور کالجوں کے تعلیم یافتہ اور یورپی یونیورسٹیوں کے فیض یافتہ تھے. بایں ہمہ قرآنِ حکیم کی ترجمانی کے اعتبار سے ان کا مقام یقیناً رومئ ثانی کا ہے. یہاں تک کہ انہوں نے پورے اعتماد کے ساتھ مناجات بحضور سید المرسلین میں یہ تک کہہ دیا کہ:

گردلم آئینہ بے جوہر است
در بحر فم غیرِ قرآن مضمر است
پردۂ ناموسِ فکرم چاک کُن
ایں خیاباں را ز خارم پاک کن
روز محشر خوار و رسوا کن مرا
بے نصیب از بوسۂ پا کُن مرا

چنانچہ ان کے اشعار تو ایمان و یقین کے کیف و سرور، محبت الہی اور عشقِ رسول کے سوز و گداز اور جذبہ وجوش ملی سے مملو ہیں ہی، ان کے خطبات بھی درحقیقت وقت کی اعلیٰ ترین فکری سطح پر مطالعۂ قرآنِ حکیم ہی کی ایک کوشش کا مظہر ہیں جس کے ذریعے علامہ مرحوم نے جدید ریاضیات و طبعیات اور فلسفہ و نفسیات کا رشتہ قرآنِ حکیم کی اساسی تعلیمات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے. اور ظاہر ہے کہ اس کے بغیر دورِ حاضر میں دین و مذہب کی گاڑی کا آگے چلنا محالِ مطلق ہے.

علامہ مرحوم کی اس فکری کاوش کے ضمن میں ان کے معروف ہم نشینوں نے تو کوئی مزید کام نہیں کیا. البتہ ڈاکٹر رفیع الدین مرحوم نے اس سلسلے میں خاصی دقیع خدمات سر انجام دیں. چنانچہ انہوں نے ایک طرف قرآن اور علمِ جدید نامی تالیف کے ذریعے بعض جدید اور اہم نظریوں اور فلسفوں جیسے ڈارون کا نظریۂ ارتقا ، فرائڈ کا نظریۂ جنس ، مارکس کا نظریۂ جدلی مادیت وغیرہ کا جائزہ قرآنِ حکیم کی روشنی میں لیا اور ان کے صحیح اور غلط اجزاء کی نشاندہی کی کوشش کی. اور دوسری طرف 
(IDEOLOGY OF THE FUTURE) نامی تصنیف کے ذریعے علامہ مرحوم کے فلسفۂ خودی کو ایک مرتب اور منظم نظامِ فکر کی حیثیت سے واضح کیا اور ثابت کیا کہ نوعِ انسانی کا مستقبل اسی نظریے کے ساتھ وابستہ ہے. 

(۲). برّصغیر میں قرآنی فکر کا دوسرا دھارا مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم کی شخصیت سے پھوٹا جس پر فکر سے زیادہ 
دعوت کا رنگ غالب تھا. مولانا مرحوم مفسرِ قرآن کی حیثیت سے تو بہت بعد میں متعارف ہوئے اس لیے کہ "ترجمان القرآن" کی جلد اول ۱۹۳۰ کے لگ بھگ شائع ہوئی، تاہم ان کی قرآن حکیم کی ترجمانی اور قیام حکومت الہیہ کے لیے دعوت جہاد کا ڈنکا بر صغیر کے طول و عرض میں۱۹۱۲ء تا ۱۹۱۶ء، الہلال، اور البلاغ کے ذریعے بج چکا تھا. اور اس ضمن میں وہ حضرت شیخ الہند ایسی عظیم شخصیت تک سے خراجِ تحسین و صول کرچکے تھے. افسوس ہے کہ ۱۹۲۰ء، ۱۹۲۱ء میں جب بعض علماء کی مخالفت کے باعث مولانا مرحوم، امام الہند، کے منصب پر فائز ہوتے ہوتے رہ گئے تو ایک شدید رد عمل ان کی طبیعت میں پیدا ہوا اور وہ .؏ .

یہ صور پھونک کر تم سو گئے کہاں آخر؟

کے مصداق اس راہ ہی کو تج کر انڈین نیشنل کانگرس کی بھول بھلیّوں میں گم ہوکر رہ گئے اور اس طرح کم از کم عارضی طور پر برّصغیر میں قرآنی فکر کے اس دھارے کے سوتے خشک ہوگئے! (مزید افسوسناک امر یہ کہ گاندھی جی کی شخصیت کے زیر اثر مولانا مرحوم وحدتِ ادیان کے پرچارک بن گئے. اور اس طرح گویا برہمو سماج کی تقویت کا ذریعہ بن گئے!)

تاہم الہلال اور البلاغ کی دعوت اتنی بودی اور بے جان نہ تھی کہ اس طرح ختم ہوجاتی . چنانچہ اس نے فوراً ہی ایک دوسری فعال شخصیت کی صورت میں ظہور کرلیا. جس نے اولاً مولانا آزاد مرحوم کے نعرہ جہاد کو ایک مبسوط تصنیف کا موضوع بنایا اور الجہاد فی السلام ایسی معرکۃ الآرا کتاب بالکل نوعمری میں لکھ ڈالی اور پھر ۱۹۳۲ء سے مولانا آزاد کی تفسیر ترجمان القرآن کے ہم نام ماہنامے کے ذریعے قرآن حکیم کی ترجمانی اور خاص طور پر اس کی انقلابی دعوت کے تسلسل کو باقی رکھا. یہ ہیں مولانا ابو الاعلی مودودی جنہوں نے ایک طرف قیامِ حکومتِ الہیہ کے نصب العین کے پیشِ نظر۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی قائم کی اور دوسری طرف تفہیم القرآن کے ذریعے قرآن مجید کی تعلیمات اور خصوصاً اس کی انقلابی دعوت کا تعارف برّصغیر کے طول و عرض میں بالخصوص جدید تعلیم یافتہ نسل کے ایک بہت بڑے حلقے میں کرا دیا. اور اگرچہ 
اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے کہ اپنے پیشرو کی طرح جو ایک وقتی سی رکاوٹ سے بد دل ہوکر کانٹا ہی بدل گیا تھا، مولانا مودودی بھی قیامِ پاکستان کے وقت کچھ فوری سی توقعات اور وقتی سے امکانات سے دھوکہ کھا کر پاکستانی سیاست کے گرداب میں کود پڑے.

اور پورے تیس برس ہونے کو آئے کہ وہ پوری جماعت سمیت اسی صحرائے تیہہ میں سرگرداں ہیں (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ چالیس سال پورے کرکے بھی انہیں یا ان کی جماعت کو اس صحرانوردی سے نجات ملے گی یا نہیں؟) اور اس پر بھی جتنا افسوس کیا جائے کم ہے کہ عمر کے آخری مرحلے میں خلافت اور ملوکیّت نامی تالیف کے ذریعے مولانا مودودی رفض اور تشیع کی تقویت کا موجب بن گئے، تاہم ان کی خدمات بالکل رائیگاں جانے والی نہیں ہیں. انہوں نے بلا مبالغہ لاکھوں انسانوں کے دلوں میں اسلام کے غلبے کی آرزو پیدا کی ہے اور ہزاروں کو اس جدوجہد میں عملاً مبتلا کیا ہے اور اگرچہ ایک غلط فیصلے اور اس پر بیجا اصرار نے ان کی چالیس سالہ مساعی کو غلط رخ پر ڈال کر رکھ دیا ہے تاہم قرآن کی انقلابی دعوت کا جو صور انہوں نے پھونکا ہے وہ یقیناً بہت سے دلوں کو گرماتا رہے گا اور کیا عجب کہ ابو الکلام آزاد مرحوم ثم ابو الاعلی مودودی کی یہ دعوتِ جہاد پھر کسی گوشے سے نئی آب و تاب اور تازہ جوش و خروش کے ساتھ ابھرے. وما ذالک علی اللہ بعزیز. 

(۳). وہ عظیم شخصیت جس سے برّصغیر میں دیوبند اور علی گڑھ کے مابین قرآنی فکر کا تیسرا سوتا پھوٹا، مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ تعالی کی ہے. اور واقعہ یہ ہے کہ قدیم اور جدید کا حسین ترین امتزاج ان ہی کی ذات میں ہوا. 
(۱. انہوں نے بیس سال ہی کی عمر میں اس دور کے چوٹی کے علماء سے فارسی، عربی اور دینی علوم کی تحصیل مکمل کرلی تھی. اس کے بعد وہ علی گڑھ کے ماحول میں رہے اور وہاں انہوں نے انگریزی زبان اور فکرِ جدید کا مطالعہ براہ راست کیا. اور پھر ان کی نگاہیں قرآن حکیم پر مرتکز ہوگئیں. اور انہوں نے باقی پوری زندگی، حکمت قرآنی کی گہرائیوں میں غوطے لگانے چنانچہ امام فراہی رحمہ اللہ تعالی کی وفات پر جو تعزیتی مضمون مولانا سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ تعالی نے ماہنامہ معارف شمارہ ۱،۲ جلد ۲۷ بابت جنوری و فروری ۱۹۳۱ء میں مولانا فراہی رحمہ اللہ تعالی ہی کے اس شعر کو عنوان بنا کر لکھا تھا کہ 

فغاں کہ گشت نیوشندۂ سخن خاموش وگرچگونہ تسلی کنم من ایں لب و گوش

اس کے مندرجہ ذیل ابتدائی الفاظ قابل توجہ ہیں: "ا س سے پہلے ہندوستان کے جن اکابر علماء کا ماتم کیا گیا ہے، وہ کل وہ تھے، جن کی ولادت اور نشوونما انقلابِ زمانہ سے پہلے ہوئی تھی، آج سب سے پہلی دفعہ ہم نئے عہد کے سب سے پہلے عالم کی وفات کے ماتم میں مصروف ہیں، ہم ایک ایسے گریجویٹ عالم کا ماتم کرتے ہیں جو اپنے علم و فضل، زہد و ورع اور اخلاق و فضائل میں قدیم تہذیب کا نمونہ تھا، لیکن جو اپنی روشن خیالی، جدید علوم و فنون کی اطلاع و واقفیت اور مقتضیاتِ زمانہ کے علم و فہم میں عہدِ حاضر کی سب سے بہتر مثال تھا. اس سے پہلے ان تمام علماء نے جو نئے علمِ کلام کا اپنے کو بانی کہتے اور سمجھتے ہیں، جو کچھ کہا اور لکھا، وہ دوسروں سے سنی سنائی باتیں تھیں. لیکن اس جماعت میں یہ پہلی ہستی تھی، جس نے فلسفۂ حال کے متعلق نفیاً یا اثباتاً جو کچھ کہا اور لکھا وہ اپنی ذاتی تحقیق اور ذاتی علم و مطالعہ سے. آج ہمارے سامنے ایسے متعدد علماء کی مثالیں ہیں جنہوں نے عربی علوم کی تکمیل کے بعد انگریزی شروع کی اور بی.اے اور ایم. اے اور پی. ایچ. ڈی کی سندیں حاصل کیں، لیکن اس طرح کہ.؏ .

جو پڑھا لکھا تھا نیاز نے اسے صاف دل سے بھلا دیا.. نئے رنگ نے پرانے رنگ کو اتنا پھیکا کردیا کہ ان پر اس کا نشان بھی نظر نہیں آتا، لیکن آج ہم جس ہستی کا تذکرہ کر رہے ہیں اس کا حال یہ تھا کہ اس نئے رنگ کی شوخی سے اس کے پرانے رنگ کا گہرا پن اور بڑھ گیا تھا اور اس کو دیکھ کر یہ سمجھنا بھی مشکل تھا کہ یہ علی گرھ کالج اور الٰہ آباد یونیورسٹی کا گریجویٹ ہے، بلکہ سچ یہ ہے کہ اس کی سادگی کو دیکھ کر عوام بظاہر اس کو عالم بھی بمشکل ہی باور کرسکتے تھے مگر وہ، وہ تھے جو ابنائے زمانہ میں کوئی نہیں. میں بسر کردی. اور اگرچہ ان کا مزاج "کاتا اور لے دوڑی" کے بالکل برعکس "نیکی کر دریا میں ڈال" والا تھا. چنانچہ اپنی زندگی میں مفسر یا مصنف و مؤلف کی حیثیت سے شہرت پانے کی کوئی کوشش انہوں نے نہیں کی بلکہ جو کچھ لکھا اسے حوالۂ صندوق کرتے چلے گئے. تاہم ان کی جو چند مختصر چیزیں ان کی زندگی ہی میں شائع ہوئیں، انہوں نے ان کے تدبر قرآن کا لوہا وقت کے چوٹی کے علماء و فضلا سے منوالیا. اور ان کی مساعی کا اصل حاصل یہ برآمد ہوا کہ تدبر قرآن کا صحیح نہج واضح ہوگیا اور قرآنِ حکیم کے معدنِ علم و حکمت سے معرفت کے ہیرے جواہرات نکالنے کا صحیح طریق معین ہوگیا.

مولانا فراہی رحمہ اللہ تعالی پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل و احسان یہ ہوا کہ انہیں ایسے شاگرد بھی میسر آ گئے جنہیں انہوں نے اپنے طرز پر غور و فکر کی تربیت خود دے کر تیار کردیا تاکہ وہ ان کے بعد ان کی روشن کی ہوئی راہ پر آگے بڑھ سکیں. اُن کے اِن تلامذہ میں سب سے نمایاں مقام تو حاصل ہے مولانا امین احسن اصلاحی کو جنہوں نے نہ صرف یہ حقیقتِ شرک، حقیقتِ توحید، حقیقتِ تقویٰ اور حقیقتِ نماز ایسی گرانمایہ تصانیف کے ذریعے خالص قرآنی علمِ کلام کی تدوین کی راہ کھول 
دی (مولانا کی یہ چاروں تصانیف اب یکجا حقیقتِ دین کے نام سے مطبوعہ موجود ہیں) بلکہ، خواہ عمر کے آخری خصے میں سہی، اپنے استاذ کے اصول پر باقاعدہ تفسیر تدبر قرآن بھی تحریر کردی (جو اب بحمد اللہ تکمیل کو پہنچنے ہی والی ہے) اور دوسرے نمبر پر ہیں مولانا صدر الدین اصلاحی جو بھارت ہی میں مقیم ہیں.

بے لگام اور مادر پدر آزاد متجدد دین اور روایت پرست و قدامت پسند علماء کے بین بین فکرِ قرآنی کے یہ تین دھارے جو برّصغیر پاک و ہند کے محیطِ علمی میں بہہ رہے ہیں بظاہر ایک دوسرے سے بہت مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے لیے جذب و انجذاب کا شدید میلان رکھتے ہیں. 

ان میں سے مؤخر الذکر دو دھارے تو درحقیقت پھوٹے ہی ایک عظیم اور گھمبیر شخصیت سے ہیں جس نے دیوبند اور علی گڑھ کے مابین ایک درمیانی راہ نکالنے کی غرض ہی سے ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ڈیرہ لگایا تھا. ہماری مراد علامہ شبلی نعمانی مرحوم سے ہے جنہیں مولانا فراہی رحمہ اللہ تعالی اور مولانا آزاد مرحوم دونوں کے مربی کی حیثیت حاصل ہے... ہم نے اب سے لگ بھگ آٹھ سال قبل ایک مفصل مضمون ان ہی صفحات میں تحریر کیا تھا جس میں علامہ شبلی رحمہ اللہ تعالی ، مولانا فراہی رحمہ اللہ تعالی اور مولانا آزاد مرحوم کے ذاتی میلانات اور علمی و فکری رجحانات کا جائزہ لیا گیا تھا، جس کی تصویب مولانا عبدالماجد دریا بادی نے، جنہیں بلاشبہ اس قافلے کے آخری مسافت کی حیثیت حاصل ہے، ان الفاظ میں کی تھی: .

حیرت ہوگئی، شبلی، فراہی، ابوالکلام تینوں کی یہ نباضی بعدِ زمانی اور بعد مکانی دونوں کے باوجود اتنی صحیح کیوں کر کرلی! ؏ . در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید!

اس تحریر کا حسبِ ذیل اقتباس طوالت کے باوصف، ان شاء اللہ، قارئین پر گراں نہ گزرے گا. 
"مولانا شبلی رحمہ اللہ تعالی اپنی ذات میں ایک نہایت جامع الصفات انسان تھے اور ان کی شخصیت ندوہ کی نسبت بہت زیادہ جامع اور گھمبیر تھی. چنانچہ وہ بیک وقت علم و فضل، فلسفہ و کلام، شعر و ادب اور املی و قومی سیاست حتی کہ رندی اور رنگینی سب کے جامع تھے. ان کے اصل جانشین 
سیّد سلیمان ندوی مرحوم کی شخصیّت میں مولانا شبلی کی ہمہ گیر شخصیّت کے صرف چند ہی پہلؤں کا تسلسل قائم رہ سکا. لیکن ان کے زیر اثر دو اور ہستیاں ایسی پروان چڑھیں جو ان کی بعض صفات کی وارث بنیں اور جن میں مولانا شبلی رحمہ اللہ تعالی کی شخصیّت کے بعض دوسرے پہلو اجاگر ہوئے. ہماری مراد مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ تعالی اور مولانا ابو الکلام آزاد سے ہے. یہ دونوں حضرات براہِ راست تو ندوی نہیں لیکن ان کی تربیّت میں مولانا کا بڑا حصّہ ہے. اور چونکہ برّ صغیر کی حالیہ مذہبی فکر کے میدان میں علی گڑھ اور دیوبند کی دو انتہاؤں کے مابین دو اہم علمی و فکری سوتے ان ہستیوں کی بدولت پھوٹے ہیں لہٰذا ان کا کسی قدر تفصیلی تذکرہ ضروری ہے. مولانا فراہی رحمہ اللہ تعالی اور مولانا آزاد مرحوم میں متعدد امور بطور قدرِ مشترک بھی ہیں. مثلاً ایک یہ کہ دونوں کی تربیت میں مولانا شبلی کا حصہ تھا. دوسرے یہ کہ دونوں کو قرآنِ حکیم سے خاص شغف تھا. تیسرے یہ کہ دونوں اپنے وقت کے انتہائی وضع دار انسان تھے. چوتھے یہ کہ دونوں (مولانا شبلی رحمہ اللہ تعالی کے بالکل برعکس... جنہوں نے اپنی "حنفیّت" کی شدت کے اظہار کے لیے نعمانی کی نسبت کو اپنے نام کا مستقل جزو بنا لیا تھا) تقلید سے یکساں بعید و بیزار تھے اور دونوں کو اصلی ذہنی وعلمی مناسبت امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی سے تھی. لیکن ان اشتراکات کے بعد اختلافات کا ایک وسیع میدان ہے جس میں یہ دونوں شخصیتیں ایک دوسرے کی بالکل ضد تھیں. مولانا آزاد میں شبلی کی رندی و رنگینی کا تسلسل بھی موجود رہا جبکہ مولانا فراہی بالکل زاہدِ خشک تھے.

مولانا آزاد کی وضع داری میں شکوہ و تمکنت کی آمیزش تھی، جبکہ مولانا فراہی پر فقر و درویشی کا رنگ تھا. مولانا آزاد ابو الکلام تھے اور ان کی شعلہ بیان خطابت میں ایک لاوا اگلنے والے زندہ آتش فشاں کا رنگ تھا. جبکہ مولانا فراہی نہایت کم گو تھے اور ان کا سکوت ایک ایسے خاموش آتش فشاں سے مشابہت رکھتا تھا، جس کے باطن میں تو خیالات و احساسات کا لاوا جوش مارتا ہو لیکن ظاہر میں وہ بالکل ساکت و صامت ہو. مولانا آزاد کی تحریر میں اصل زور عربیّت اور عبارت آرائی پر تھا جبکہ مولانا فراہی کی تحریر نہایت سادہ لیکن مدلّل ہوتی تھی. مولانا آزاد سیاست کے میدان کے بھی شہسوار تھے اور دین کی وادی میں بھی ان کا اصل مقام داعی کا تھا جبکہ مولانا فراہی سیاست سے تمام عمر کنارہ کش رہے اور دین و مذہب کے میدان میں بھی ان کا اصل مقام آخر دم تک صرف ایک طالب علم یا زیادہ سے زیادہ ایک مفکّر کا رہا... چنانچہ مولانا آزاد طوطئ ہند تو تھے ہی، ایک وقت ایسا بھی گزرا جب وہ امام الہند قرار پائے جبکہ مولانا فراہی سے ان کی زندگی میں بھی اور آج تک صرف کچھ علم دوست لوگ ہی واقف ہوسکے... لیکن اس کے برعکس مولانا آزاد تو آندھی کی مانند اٹھے اور بگولے کی طرح رخصت ہوگئے تا آنکہ آج وہ لوگ بھی ان کا نام لینا تک گوارا نہیں کرتے جنہوں نے اپنی قندیل خود ان ہی کی شمع سے روشن کی جبکہ مولانا فراہی ایک مستقل طرزِ فکر، اور مکتبِ علمی کی بنیاد رکھ گئے جن کا نام لیوا ایک ادارہ "دائرہ حمیدیہ" کے نام سے ہندوستان میں اور ایک انجمن مولانا امین احسن اصلاحی کی ذات میں پاکستان میں موجود ہے.

قرآن مجید سے جو شغف ان دونوں بزرگوں کو تھا، مزاج کے افتاد کے فرق کی بنا پر اس کا ظہور بھی مختلف صورتوں میں ہوا. مولانا آزاد کی تفسیر سورۂ فاتحہ اردو ادب کا تو شاہکار 
(CLASSIC) ہے ہی، قرآن کے جلال و جمال کا بھی ایک حسین مرقع ہے. پھر سورۂ کہف کے بعض مباحث میں ان کی تحقیق و تدقیق کا تو کوئی جواب ہی نہیں. بایں ہمہ قرآن حکیم کے استدلالی پہلو کو واضح کیا اور ایک طرف نظمِ قرآن کی اہمیّت واضح کرکے تدبر قرآن کی نئی راہیں کھولیں اور قرآن پر غور وفکر کے اصول و قواعد از سر نو مرتب کیے اور دوسری طرف اپنی بعض تصنیفات میں (جو تاحال مسودات ہی کی صورت میں ہیں) خالصۃً قرآن حکیم کی روشنی میں ایک نئے علمِ کلام کی بنیاد رکھ دی."

قصّہ مختصر... علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ تعالی ، امام حمید الدین فراہی رحمہ اللہ تعالی اور مولانا ابو الکلام آزاد کے مابین قرب و یگانگت کا یہی رشتہ تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب مولانا ابو الاکلام آزاد مرحوم کے معنوی خلیفہ مولانا سید ابو الاعلی مودودی نے "قیامِ حکومتِ الہیہ" کے نصب العین کے پیش نظر جماعتِ اسلامی کی تاسیس کی تو ان کی دعوت پر نہ صرف یہ کہ مولانا فراہی کے تمام نمایاں شاگرد بشمول مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا اختر احسن اصلاحی، اور مولانا صدر الدین اصلاحی لبیک کہتے ہوئے حاضر ہوگئے بلکہ مولانا شبلی کے تلمیذ رشید مولانا سیّد سلیمان ندوی کے دو ارشد تلامذہ یعنی مولانا ابو الحسن علی ندوی اور مولانا مسعود عالم ندوی بھی... من نیز حاضر می شوم.. کے مصداق بن گئے. 

اور واقعہ یہ ہے کہ اس ’قران السعدین‘ سے بہت سی برکتیں ظہور میں آئیں جن کا نمایاں ترین مظہر مولانا امین احسن اصلاحی کی شاہکار تالیف ’دعوتِ دین اور اس کا طریق کار‘ ہے جس میں ایک جانب مولانا فراہی کے قرآنی غور و فکر کا تعمق موجود ہے تو دوسری جانب مولانا آزاد مرحوم کا داعیانہ جوش و خروش بھی موجود ہے. اور اسی کے ذیل میں آتی ہیں مولانا صدر الدین اصلاحی کی بعض تصانیف جیسے فریضۂ اقامتِ دین، حقیقتِ نفاق، اور اسادِ دین کی تعمیر، وغیرہ. 
رہا فکرِ قرآنی کا اول الذکر دھارا جس میں علامہ اقبال مرحوم کو تن تنہا ایک انجمن کی حیثیت حاصل ہے تو اس کا بقیہ دونوں دھاروں سے ربط و تعلق اس واقعے سے بھی واضح ہوجاتا ہے کہ مولانا مودودی کو حیدر آباد دکن کی بنجر اور سنگلاخ زمین سے ہجرت کرکے پنجاب ایسے زرخیز اور سرسبز و شاداب خطے میں اقامت گزیں ہونے کی دعوت علامہ اقبال مرحوم ہی نے دی تھی. اور اس سے بھی آگے یہ کہ معروف علماء کے حلقے میں علامہ مرحوم کے سب سے بڑے بلکہ غالباً صحیح تر الفاط میں واحد شیدائی مولانا ابو الحسن علی ندوی ہی ہیں.

مزید بر آں، پنجاب میں مولانا مودودی کو جو مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کی دعوت اور جماعت دونوں کو جو فروغ نصیب ہوا، بعض دوسرے اسباب و عوامل کے ساتھ ساتھ اس کا اہم ترین سبب یہی ہے کہ یہاں علامہ اقبال مرحوم اپنے اشعار کے ذریعے گویا قلوب کی دنیا میں ہل چلا چکے تھے اور اب زمین منتظر تھی کہ کوئی آئے اور بیج ڈالے اور یہ اپنے خزانے اگل کر رکھ دے! خصوصاً پنجاب کا تعلیم یافتہ نوجوان تو گویا اس "دگر دانائے راز" کے لیے چشم براہ تھا جس کا ذکر بہ شدید حسرت و یاس علامہ مرحوم نے مرتے دم کیا تھا!