ولادت تا شعوری زندگی

۱۹۳۲ء تا۱۹۴۷ء
ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کے آباء و اجداد کا تعلق یوپی کے ضلع مظفر نگرسے تھا اور وہ وہیں آباد تھے. ۱۸۵۷ء میں تحریکِ آزادی میں حصہ لینے کی وجہ سے آپ کے دادا کوانگریز سرکار کی طرف سے عتاب کا اندیشہ تھا لہٰذا وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے مشرقی پنجاب آگئے.ڈاکٹر صاحبؒ کی ولادت ۲۶ اپریل ۱۹۳۲ء کو مشرقی پنجاب کے ایک قصبہ حصار میں ہوئی.

ڈاکٹر صاحبؒ بچپن ہی سے انتہائی حساس مزاج کے حامل تھے اور اللہ نے انہیں کم عمری ہی میں شعور کی دولت عطا فرمائی تھی. چنانچہ۱۹۳۸ء میں جب اُنہیںعلامہ اقبال کے وصال کی خبر ملی تو اُنہوں نے اِسے ایک ذاتی صدمے اور قومی نقصان کے طور پر محسوس کیاجبکہ ان کی عمر صرف چھ برس تھی.علامہ اقبال سے دلی لگاؤ کا عالم یہ تھا کہ 
محض ۱۰برس کی عمر میں اُن کی اردو شاعری کے پہلے مجموعہ ’’بانگ ِ درا‘‘ کا مطالعہ مکمل کرلیا. اقبال کے اُن اشعار نے آپ کو بہت زیادہ متأثر کیاجن میںامت کے پھر سے عروج کے لیے امیدافزا پیغام ہے‘مثلاً

کتابِ ملتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
نوا پیرا ہواے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا

سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

البتہ جوابِ شکوہ کے ایک شعر نے ڈاکٹر صاحبؒ کوہلا کر رکھ دیا:

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

اِس شعر سے یہ حقیقت آپ پر واضح ہوگئی کہ امت کے زوال کا اصل سبب قرآن سے دوری ہے اورگویا اوائل عمر ہی سے خدمتِ قرآن کا جذبہ آپ کی سوچ میں سرایت کر گیا.اِس کے بعد اسلام کو پھر سے غالب کرنے کا ولولہ آپ کے اندر بڑی شدت سے موجزن ہوگیا جب آپ نے ۱۳ برس کی عمر میں حفیظ جالندھری کا ’’شاہنامہ اسلام‘‘ پڑھا جس کا عنوان یہ شعر ہے کہ :

کیا فردوسیٔ مرحوم نے ایران کو زندہ 
خدا توفیق دے تو میں کروں ایمان کو زندہ

۴۷-۱۹۴۶ء میں جب ڈاکٹر صاحبؒ شعور کی عمر میں داخل ہورہے تھے تو اُس وقت برصغیر میں مسلمانوں کے بہی خواہ نظریاتی اعتبار سے تین دائروں میں تقسیم تھے.ایک سوچ جمعیت علمائے ہند کی تھی کہ ہماری اوّلین ترجیح ہندوستان کو انگریزی استعمار سے آزاد کرانا ہے.اِس کے لیے ہمیں ہندؤوں سے اتحاد کرلینا چاہیے.اگلے مرحلہ میں ہم شریعتِ اسلامی کے نفاذ کے لیے جدوجہد کریں گے.ہندو اگر اس جدوجہد کے مخالف ہوئے تو ہم اُن کا مقابلہ کرلیں گے کیونکہ ہم نے اُن پر کئی سو سال حکومت کی ہے. مسلم لیگ کا موقف یہ تھا کہ انگریز ی اقتدار کے خاتمہ کے بعد ہم ہندو قوم کے ظلم و ستم کا شکارہوجائیں گے کیونکہ ہمیں بار بار اُن کی مسلم دشمنی اور تعصب کا تجربہ ہو چکا ہے. ہمیں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کرنا چاہیے. اِس ریاست میں ہم اسلام کی عادلانہ تعلیمات کے نفاذ سے 
لوگوں کو اسلام کے اصولِ حریت واخوت و مساوات کا نمونہ دکھا دیں گے.جماعتِ اسلامی کا نظریہ یہ تھا کہ ہمارا مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ اسلام کی سربلندی ہونا چاہیے.نسلی مسلمانوں اور نسلی غیر مسلموں کے سامنے دینِ اسلام کی دعوت اور اِس کے عملی تقاضے رکھے جائیں .جو لوگ شعوری طور پر اِس دعوت کو قبول کرلیں اُن ہی کی اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد نتیجہ خیز ہوگی.اسلام غالب ہوگیا تونہ صرف دنیا میں حقوق و برکات ملیں گی بلکہ آخرت کی تیاری کے لیے بھی سازگار فضا میسر آئے گی.

ڈاکٹر صاحبؒ جمعیت علماء ہند میں شامل علماء کرام کے تقویٰ اور خلوص کا اعتراف کرنے کے باوجود اُن کی سوچ سے اتفاق نہیں کر سکے. وہ دیکھ رہے تھے کہ انگریزوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی سے اب ہندو زندگی کے ہر شعبے میں بہت ترقی کرچکے تھے اور اُن کے اندر مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ شکست کا انتقام لینے کی آگ بھڑک رہی تھی . علماء کو اِس کا اندازہ نہیں تھا لیکن مسلمان عوام مسلسل مختلف معاملات میں ہندو تعصب کا سامنا کررہے تھے. اِسی لیے مسلم عوام نے ۱۹۴۶ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کے موقف کی تائید کی اور اُس کے حق میں بھاری اکثریت سے رائے دی. 

ڈاکٹر صاحبؒ کی رائے میں خالص اصولی اعتبار سے جماعت اسلامی کا نظریہ درست معلوم ہوتا تھا‘ لیکن انگریز اور ہندو کی دوہری غلامی میں پسے ہوئے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ خطہ ٔ زمین کا حصول وقت کی اہم ضرورت تھی جس کے لیے مسلم لیگ سرگرمِ عمل تھی. ان کے نزدیک یہ گویا ایک ہی مقصد کے دو مراحل تھے. پہلے مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کے حصول کی کوشش کی جائے اور پھر وہاں اسلام کے غلبہ کے لیے ٹھوس اسلامی انقلابی جدوجہد کی جائے. اِسی وجہ سے ڈاکٹر صاحبؒ نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور ایک فعال کردار ادا کیا. وہ ضلع حصار میں مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری رہے. اِسی حیثیت میں وہ اُس وفد میں شامل تھے جو حصار سے لاہور قائداعظم سے ملاقات کے لیے آیا تھا. 

۱۹۴۷ میں ڈاکٹر صاحبؒ نے امتیازی نمبروں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا . جماعت اسلامی کے دعوتی لٹریچر اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کی کتب و رسائل کا مطالعہ کیا. پھر جب ہندوستان کی تقسیم کے وقت فسادات شروع ہوئے تو حفاظتی کیمپوں میں جماعت اسلامی کے رسالہ ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ میں شائع ہونے والے ’’تفہیم القرآن‘‘ کے حواشی کا مطالعہ کیا. نومبر ۴۷ میں ہجرت کرکے پاکستان تشریف لائے. ہجرت کے دوران ۲۰ دن میں ۱۷۰ میل کا سفر پیدل طے کیا. دوسرا دور …