حصہ دوم: تنظیم اسلامی کا تعارف اور تاریخی پس منظر

باب دوم: عزمِ تنظیم

یعنی تنظیم اسلامی کے قیام کے فیصلے کا اعلان بانی ٔ تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی یہ خطاب جو ۲۱ جولائی ۱۹۷۴ء کو بعد نماز مغرب مسلم ماڈل ہائی سکول لاہور میں منعقدہ اکیس روزہ قرآنی تربیت گاہ کے اختتام پر ہوا‘ اس اعتبار سے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں محترم ڈاکٹر صاحبؒ نے دین کے ایک اہم تقاضے یعنی فریضۂ اقامت دین کی ادائیگی کے حوالے سے تنظیم اسلامی کے قیام کے فیصلے کا اعلان کیا تھا. بنابریں یہ خطاب تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے حالات زندگی اور اس تحریکی سفر کی تفصیل پر مشتمل ہے جس کا آغاز اُن کے زمانۂ طالب علمی ہی میں ہوگیا تھا. چنانچہ اس خطاب میں بالخصوص اُن اجتماعی دینی ذمہ داریوں کے شعور اور ادارک کو اجاگر کیا گیا ہے جو بالآخر تنظیم کے قیام کا موجب بنیں.

یہ امر واقعہ ہے کہ جماعت اسلامی سے علیحدگی کے بعد اوائل ۱۹۶۷ء ہی سے محترم ڈاکٹر صاحبؒ نے درس وتدریس کے اس سلسلے اور تعلیم وتعلّم قرآن کی اس جدوجہد کا آغاز کردیا تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ایسے رفقاء کار میسر آگئے جنہیں قرآن مجید کے ذریعے اپنے دینی فرائض کا ایک واضح شعور حاصل ہوگیا تھا. نتیجتاً جولائی ۱۹۷۴ء میں مسلم ماڈل ہائی اسکول لاہور کے ہال میں منعقدہ ایک اکیس روزہ قرآنی تربیت گاہ کے اختتام پر محترم ڈاکٹر صاحبؒ نے ایک مفصل تقریر کی، جس میں انہوں نے تنظیم اسلامی کے قیام کے فیصلے کا اعلان کردیا.

بعد ازاں یہ خطاب اولاً ماہنامہ ’میثاق‘ لاہور کی ستمبر اور اکتوبر ونومبر ۱۹۷۴ء کی اشاعتوں میں شائع ہوا. پھر ۱۹۷۹ء میں اسے کتابی صورت میں ’’سرافگندیم‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا، اب ایک عرصے کے بعد ’’عزم تنظیم‘‘ کے نام سے شائع ہورہا ہے. واضح رہے کہ بانیٔ محترمؒ کا یہ خطاب چونکہ ایک تاریخی اہمیت بھی رکھتا ہے اس لئے اس میں شامل بعض ایسے جملے جو ایک خاص زمانی تناظر رکھتے ہیں، اُنہیں بغیر کسی تبدیلی کے شائع کیا جارہا ہے. (مرتب)

سرافگندیم 
بِسْمِ اللّٰہِ
مَجْرٖھَا
وَمُرْسٰھَا
(۱

مکمل شعر اس طرح ہے: دریں دریائے بے پایاں دریں طوفان موج افزا 

سرافگندیم! بسم اللہ مجرٖھا ومُرسٰھا 

ترجمہ: چاہے دریا کتنا ہی گہرا ہو اور طوفان کیسی ہی موج اُٹھاتا ہو ہم نے تو اپنی کشتی پانی میں ڈال دی ہے!… اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا ہے اور اللہ ہی کے نام سے اس کا رکنا ہے(مرتب)