حرفِ آخر

حضرات! یہ چھ باتیں میں نے آپ کے سامنے رکھ دیں. ان سے ہمارے سامنے اپنے دینی فرائض کا ایک صحیح اور جامع خاکہ آگیا ہے‘اس کے علاوہ باقی تو ساری تفاصیل ہیں. اگر خاکہ نامکمل رہے گا تو آپ کا فرائضِ دینی کا تصور نامکمل رہے گا‘لہٰذا ایک مکمل اور جامع خاکہ سامنے ہونا ضروری ہے. اس کے بعد اصل ضرورت قدم بڑھانے کی ہے. اگر آپ نے منزلِ مقصود کے تعین کے ساتھ سفر کا آغاز کردیا تو اگر منزل تک نہ بھی پہنچ سکے تب بھی آپ کامیاب ہیں. ہمارے دین کا معاملہ یہ ہے کہ اﷲ کے ہاں اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوگا. جو شخص گھر سے ہجرت کی نیت سے مدینہ کے لیے نکلا تو خواہ وہ مدینہ پہنچ سکا یا نہیں پہنچ سکا‘وہ مہاجر ہے. سورۃ النساء میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص ہجرت کی نیت سے گھر سے نکل آیا اور راستہ ہی میں اسے موت آگئی تو اس کا اجر اﷲ کے ذمے ثابت ہوگیا:
 
وَ مَنۡ یَّخۡرُجۡ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدۡرِکۡہُ الۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ اَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ 
(آیت ۱۰۰)
لہٰذا جو آغاز کردے اس کا اجر محفوظ ہے. رہا یہ سوال کہ کہاںتک پہنچ پائیں گے‘اس کا کوئی پتا نہیں. شہیدین ؒ کی تحریک اگرچہ دُنیوی اعتبار سے ناکام ہوگئی اور وہ خاک و خون میں لوٹ گئے‘لیکن وہ اﷲ کے ہاں فلاح پائیں گے. اگر دُنیوی لحاظ سے بھی یہ تحریک کامیاب ہوگئی ہوتی تو پورا برعظیم پاک و ہند دارالاسلام بن سکتا تھا. ورنہ یہ علاقہ جو پاکستان کہلاتا ہے ‘ضرور دارالاسلام بن جاتا. شایدآپ کو معلوم نہ ہو کہ اس تحریک کی ناکامی میں اصل ہاتھ کن لوگوں کا تھا! سکھوں کی تلواریں اسے ختم نہیں کرسکتی تھیں‘ خود اپنوں کی غداری نے اسے ختم کیا تھا.

ایک بندۂ مؤمن کا اصل نصب العین رضائے الٰہی کا حصول اور محاسبۂ اُخروی میں کامیابی ہے. اس نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے قرآن حکیم اور سنت رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے ہمیں ہمارے دینی فرائض کا ایک مکمل خاکہ ملتا ہے‘جو تین جامع ترین اصطلاحات عبادتِ ربّ‘شہادت علی الناس اور اقامتِ دین کے حوالے سے ہمارے سامنے آگیا ہے. اس کے لوازم بھی کسی قدر تفصیل سے بیان ہوگئے ہیں جن میں اہم ترین لوازم جہاد فی سبیل اﷲ‘التزامِ جماعت اور بیعت سمع و طاعت ہیں. اﷲ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان دینی فرائض کی بجا آوری کا مصمم ارادہ دلوں میں پیدا کریں اور پھر اس ارادے کی تکمیل کے لیے پیش قدمی کریں.

وَمَا تَوفیقی اِلاَّ باﷲ العلیِّ العظیم
اَقُوْلُ قَوْلِیْ ھٰذَا وَاسْتَغْفِرُ اللّٰہَ لِیْ وَلَــکُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ 
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِـلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ OO