وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ ﴿117﴾ [جالندھری] اور اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بیھجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو تو وہ فوراً سانپ بن کر جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں ایک ایک کر کے نگل جائیگی۔
تفسیر ابن كثیر
جادوگر سجدہ ریز ہوگئے
اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی ۔ چنانچہ یہی ہوا ۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا ۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی ۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی ۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے ۔ حق ثابت ہو گیا باطل دب گیا ۔ تمیز ہو گئی معاملہ صاف ہو گیا ۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے ۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں ۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے ۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے ۔ حقیقتاً رب العالمیں وہی ہے ۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہما السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا ۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی ۔