أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ۗ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿184﴾
‏ [جالندھری]‏ کیا انہوں نے غور نہیں کیا؟ کہ ان کے رفیق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ تو وہ ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں ۔ ‏
تفسیر ابن كثیر
صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی 
کیا ان کافروں نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جنوں کی کوئی بات بھی ہے؟ جیسے فرمان ہے آیت (قل انما اعظکم بواحدۃ الخ)، آؤ میری ایک بات تو مان لو ذرا سی دیر خلوص کے ساتھ اللہ کو حاضر جان کر اکیلے و کیلے غور تو کرو کہ مجھ میں کونسا دیوانہ پن ہے ؟ میں تو تمہیں آنے والے سخت خطرے کی اطلاع دے رہا ہوں کہ اس سے ہوشیار رہو ۔ جب تم یہ کرو گے تو خود اس نتیجے پر پہنچ جاؤ گے کہ میں مجنوں نہیں بلکہ اللہ کا پیغام دے کر تم میں بھیجا گیا ہوں ۔ حضور نے ایک مرتبہ صفا پہاڑ پر چڑھ کر قریشیوں کے ایک ایک قبیلے کا الگ الگ نام لے کر انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسی طرح صبح کر دی تو بعض کہنے لگے دیوانہ ہو گیا ہے اس پر یہ آیت اتری ۔