فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ ﴿31﴾
‏ [جالندھری]‏ جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لئے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور انکے لئے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لئے) ہر ایک کو ایک ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو انکا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بیساختہ بول اٹھیں کہ سبحان اللہ (یہ حسن) یہ آدمی نہیں بزرگ فرشتہ ہے۔ ‏
تفسیر ابن كثیر