كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ﴿38﴾
‏ [جالندھری]‏ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گرو ہے ‏
تفسیر ابن كثیر
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی
اللہ تعالٰی خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (واعبد ربک حتی یاتیک الیقین) یعنی موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ اور حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے، اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لئے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لئے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لئے (ہاویہ) میں گئے۔ پھر فرمایا کیا بات ہے کہ کونسی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے، فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں اسد کہتے ہیں اور حبشی زبان میں (قسورہ) کہتے ہیں اور نبطی زبان میں رویا۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیدہ علیحدہ کتاب اترے جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے آیت (حتی نوتی مثل ما اوتی رسل اللہ) الخ، یعنی جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے اللہ تعالٰی کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دیئے جائیں، اللہ تعالٰی فرماتا ہے دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟ پھر فرمایا سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے، جیسے فرمان ہے آیت (وماتشاؤن الا ان یشاء اللہ) یعنی تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں۔ پھر فرمایا اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے، مسند احمد میں ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھے سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا، ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں اللہ تعالٰی کے احسان سے سورہ مدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی، فالحمد اللہ