یوسف بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ سے فرماتے ہوئے سنا کہ کوفہ میں ربیعۃ الرائے تشریف لائے اس زمانے میں یحیٰ بن سعیدؒ کوفہ کے قاضی تھے۔ یحیٰ بن سعیدؒ نے ربیعۃ الرائے سے کہا آپ کو تعجب ہو گا کہ اس شہر کے لوگ ایک شخص کی رائے پر اجماع کرر چکے ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا جب مجھے یہ خبر پہنچی تو میں نے اپنے شاگرد یعقوبؒ، زفرؒ اور چند دوسرے اصحاب کو بھیجا کہ جا کر ان سے مناظرہ کریں وہ لوگ گئے۔
امام ابو یوسفؒ نے مسئلہ دریافت کیا کہ آپ اس غلام کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو دو آدمیوں کا مشترک تھا اور ان میں سے ایک نے آزاد کر دیا؟ انہوں نے فرمایا عتق جائز نہیں۔ امام ابو یوسفؒ نے فرمایا کیوں؟ ربیعۃ الرائے نے کہا کہ یہ آزادی دوسرے کے حق میں ضرر ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا "لاضرر ولاضرار" اس پر ابویوسفؒ نے کہا اگر دوسرا بھی آزاد کر دے تو؟ ربیعۃ الرائے نے کہا اس کا آزاد کرنا جائز ہے۔ تو ابویوسفؒ نے کہا آپ نے اپنی پہلی بات چھوڑ دی اس لئے کہ اگر پہلے آزاد کرنے والے کی بات نے کوئی اثر نہیں کیا اور اس سے آزادی نہیں ہوئی تو اس دوسرے آزاد کرنے والے نے بھی پہلے کا غلام ہونے کی حالت میں آزاد کیا اور یہ ضرر ہے ربیعۃ الرائے یہ سن کر چپ ہو گئے۔