میراث، ہبہ و وصیت اور خواتین

اسلام سے پہلے دنیا کے اکثر مذاہب میں خواتین کا میراث میں کوئی حق نہیں سمجھا جاتا تھا، عربوں کا خیال تھاکہ جو لوگ قبیلہ کی مدافعت کر سکتے ہوں اور لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، وہی میراث پانے کے حقدار ہیں، یہودیوں میں سارا ترکہ پہلوٹھے کا حق مانا جاتا تھا، ہندوؤں کے یہاں بھی عورت کا میراث میں کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ انیسویں صدی تک یورپ میں عورتوں کو میراث میں کوئی حصہ نہیں ملتا تھا، اسلام نے جہاں مرد رشتہ داروں کو حصہ دار بنایا، وہیں ان کی ہم درجہ خواتین کو بھی میراث کا مستحق قرار دیا، والد کی طرح والدہ کو، بیٹے کی طرح بیٹی کو، بھائی کی طرح بہن کو، شوہر کی طرح بیوی کو وغیرہ، آج پوری دنیا میں خواتین کو جو ترکہ کا مستحق مانا جاتا ہے، وہ دراصل شریعت اسلامی کا عطیہ ہے۔
مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اپریل ۲۰۱۹
شریعت اِسلامی کی روشنی میں