عورت کا حصہ مرد کے مقابلہ نصف

اپنے ہم درجہ مرد رشتہ دار کے مقابلہ عورت کے نصف حصہ پانے کی صورتیں یہ ہیں  :

(۱)  بیٹے کے ساتھ بیٹی : مثلاً کسی نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی کو چھوڑا اور اس کا ترکہ تین لاکھ روپے ہو تو ایک لاکھ بیٹی کا حق ہو گا اور دو لاکھ بیٹے کا۔

(۲)  باپ کے ساتھ ماں : بشرطیکہ اولاد اور شوہر یا بیوی نہ ہو، اس صورت میں ماں کو ایک تہائی ملے گا اور عصبہ ہونے کی بناء پر باپ کو دو تہائی مل جائے گا۔

(۳)  حقیقی بہن یا باپ شریک بہن : حقیقی بھائی یا باپ شریک بھائی کے ساتھ وارث ہو، یعنی میت نے والدین یا اولاد، شوہر یا بیوی کو نہ چھوڑا ہو، صرف اس کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہن یا باپ شریک بھائی یا باپ شریک بہن اس کے وارث ہوں، اس وقت بہن کے مقابلہ بھائی کا حصہ دو گنا ہو گا، مثلاً ایک حقیقی بھائی اور ایک حقیقی بہن ہو، تو بھائی کو دو تہائی ملے گا اور بہن کو ایک تہائی۔

(۴)  شوہر کا حصہ بمقابلہ بیوی کے دوہرا ہو گا، یعنی اگر بیوی کا انتقال ہوا اور اس نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی، تو شوہر کو اس کے ترکہ کا نصف مل جائے گا اور اولاد بھی چھوڑی ہو تو چوتھائی ملے گا، اس کے برخلاف شوہر کے ترکہ میں سے بیوی کو اولاد نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی اور اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ ملے گا۔


مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اپریل ۲۰۱۹
شریعت اِسلامی کی روشنی میں