مردوں سے زیادہ حصہ

بہت سی صورتوں میں عورتوں کا حصہ مردوں سے بڑھ جاتا ہے، چند صورتیں ذیل میں نقل کی جاتی ہیں  :

(۱)  اگر کسی عورت کا انتقال ہوا اور اس نے شوہر، باپ، ماں اور دو بیٹیوں کو چھوڑا اور بالفرض اس کا ترکہ ساٹھ لاکھ روپے پر مشتمل ہو، تو دونوں بیٹیوں کو بتیس لاکھ روپے یعنی فی کس سولہ لاکھ روپے ملیں گے اور اگر اس نے شوہر، باپ، ماں کے علاوہ دو بیٹوں کو چھوڑا ہو تو وہ پچیس لاکھ یعنی فی کس ساڑھے بارہ لاکھ روپے کے حقدار ہوں گے، — اسی طرح اگر کسی عورت کے ورثہ میں شوہر، ماں اور حقیقی بہنیں ہوں اور مثال کے طور پر اس کا ترکہ اڑتالیس لاکھ ہو تو دونوں بہنوں کو چوبیس یعنی فی کس بارہ لاکھ ملے گا، اور اسی صورت میں اگر دو بہنوں کے بجائے دو حقیقی بھائی ہوں، تو ان کا حصہ سولہ لاکھ یعنی فی کس آٹھ لاکھ ہو گا، ان صورتوں میں عورت کا مقررہ حصہ دو تہائی اس حصہ سے بڑھ جاتا ہے، جو مرد کو بطور عصبہ حاصل ہوتا ہے۔


(۲)  بعض صورتوں میں عورت نصف ترکہ کی مستحق ہوتی ہے، یہ اس کا مقررہ حصہ ہے جب کہ اس کے ہم درجہ مرد کا حصہ کم بنتا ہے، جیسے ایک عورت نے شوہر، باپ، ماں اور ایک بیٹی کو چھوڑا ہو تو اگر ترکہ ایک کروڑ چھپن لاکھ روپے پر مشتمل ہو تو بیٹی بہتر لاکھ کی مستحق ہو گی، اس صورت میں اگر بیٹی کی جگہ بیٹا ہو تو اس کا حصہ پینسٹھ لاکھ ہو گا، — بعض دفعہ تو یہ فرق بہت زیادہ ہو جاتا ہے، جیسے کسی عورت کے ورثہ میں شوہر ہو، ماں ہو اور حقیقی بہن ہو اور فرض کیجئے کہ مرحومہ کا ترکہ اڑتالیس لاکھ ہو، تو بہن کا حصہ اٹھارہ لاکھ ہو گا اور اس صورت میں اگر بہن کے بجائے بھائی ہو تو اس کا حصہ صرف آٹھ لاکھ ہو گا۔


(۳)  بعض دفعہ عورت کا مقررہ تہائی حصہ بھی اپنے مقابل مرد رشتہ دار سے زیادہ ہو جاتا ہے، مثلاً ایک شخص نے بیوی، ماں، دو حقیقی بھائی اور دو ماں شریک بہنوں کو چھوڑا اور فرض کیجئے کہ مرنے والے کا ترکہ اڑتالیس لاکھ روپے تھا تو دونوں ماں شریک بہنوں کو سولہ یعنی فی کس آٹھ لاکھ روپے ملیں گے اور دونوں حقیقی بھائیوں کا حصہ بارہ یعنی فی کس چھ لاکھ ہو گا، — اسی طرح اگر عورت نے شوہر، دو ماں شریک اور دو حقیقی بھائیوں کو چھوڑا ہو اور مثلاً اس کا ترکہ ساٹھ لاکھ روپے ہو، تو دونوں بہنوں کا حصہ بیس لاکھ ہو گا اور دونوں بھائیوں کا دس لاکھ۔

(۴)  بعض دفعہ خواتین کا مقررہ حصہ ترکہ کا چھٹا حصہ ہوتا ہے ؛ لیکن وہ اس کے مقابل مرد رشتہ دار سے بڑھ جاتا ہے، جیسے ماں شریک بہن کا مقررہ حصہ چھٹا حصہ ہے، اب اگر کسی عورت نے شوہر، ماں، ایک ماں شریک بہن اور دو حقیقی بھائیوں کو چھوڑا ہو، تو اگر ساٹھ لاکھ ترکہ ہو تو بہن کو دس لاکھ ملے گا اور دو بھائیوں کو بھی دس لاکھ یعنی فی کس پانچ لاکھ ملے گا، اس طرح کی اور بھی متعدد صورتیں ہیں۔


مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اپریل ۲۰۱۹
شریعت اِسلامی کی روشنی میں