خواتین کا کم حصہ کب اور کیوں؟

اس میں شبہ نہیں کہ جو لوگ لازمی طور پر میراث میں حصہ پاتے ہیں یعنی باپ، ماں، بیٹا، بیٹی اور شوہر و بیوی، ان میں مردوں کا حق عورتوں سے زیادہ یا دوہرا رکھا گیا ہے، لیکن اس کو مردوں اور عورتوں کے درمیان جنس کی بنیاد پر تفریق نہیں سمجھنا چاہئے، یہ اس اُصول پر مبنی ہے کہ جس کی ذمہ داریاں زیادہ ہوں گی، ان کے حقوق بھی زیادہ ہوں گے، اور جس کی ذمہ داری کم ہو گی، اس کے حقوق کم ہوں گے، اس اُصول کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے    اپنے ایک ارشاد سے واضح فرمایا : ’’ الخراج بالضمان‘‘ [1]اس کا ماحصل یہ ہے کہ جو نقصان کو اٹھائے گا وہی فائدہ کا بھی حقدار ہو گا، اس پہلو سے اگر مردوں اور عورتوں کی مالی ذمہ داریوں کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے گی، مرد پر اپنی کفالت خود واجب ہے، بیوی کی ضرورت کو پوری کرنا اس کی ذمہ داری ہے، اولاد کی پرورش اور اس کی تعلیم و تربیت کے تمام اخراجات، نیز ان کی شادی بیاہ مرد کے ذمہ ہے، یہاں تک کہ اگر بیوی شیر خوار بچہ کو دودھ پلانے پر آمادہ نہ ہو تو باپ کا فریضہ ہے کہ اس کے دودھ کا انتظام کرے، والدین نیز یتیم، غیر شادی شدہ بھائیوں، بیوہ اور مطلقہ بہنوں کی کفالت بھی اکثر حالات میں وہی کرتا ہے،والد اگر خدا نخواستہ اس دنیا سے گذر جائے تو پوتوں اور پوتیوں کی پرورش اس کی ذمہ داری ہے، غرض کہ تمام مالی ذمہ داریاں مردوں پر رکھی گئی ہیں، عورتوں پر بہت کم اس ذمہ داری کا حصہ عائد ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ خود اپنی کفالت کی ذمہ داری سے بھی آزاد ہیں، اگر شوہر غریب ہو اور بیوی مالدار، تب بھی شوہر کو بیوی کے اخراجات ادا کرنے ہیں، اگر اس پہلو سے دیکھا جائے تو بیٹا، بیٹی، باپ، ماں اور شوہر و بیوی کے حصۂ میراث میں اس سے بھی زیادہ تفاوت ہونا چاہئے تھا ؛ لیکن خواتین کی خلقی کمزوری کو سامنے رکھتے ہوئے اور ان کی رعایت کرتے ہوئے حصوں میں کم تفاوت رکھا گیا ہے۔


اس کو ایک اور طریقہ پر سمجھا جا سکتا ہے، شریعت میں والدین کی اہمیت و عظمت اولاد سے زیادہ ہے، اس کا تقاضا یہ تھا کہ والدین کا حصہ زیادہ ہو اور اولاد کا حصہ کم ہو ؛ لیکن اس کے برخلاف ترکہ میں ماں باپ کا حصہ کم ہے اولاد کا زیادہ ؛ کیوں کہ ماں باپ اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو رہے ہیں، ان کی ذمہ داریوں کی بساط لپیٹی جا رہی ہے اور اولاد ذمہ دار یوں کے میدان میں قدم رکھ رہی ہیں ؛ اس لئے اولاد کا حصہ زیادہ رکھا گیا اور والدین کا کم، غرض کہ قانون میراث کا گہرا تعلق نفقہ اور کفالت کے قانون سے ہے، جن کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں، ان کا حصہ بھی زیادہ ہے اور جن کی ذمہ داریاں کم ہیں ان کا حصہ بھی کم ہے، یہ ایسا منصفانہ اُصول ہے جس کی معقولیت سے کوئی صاحب انصاف انکار نہیں کر سکتا۔

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اپریل ۲۰۱۹
شریعت اِسلامی کی روشنی میں