حق میراث ادا نہ کرنے کا گناہ

اس وقت معاشرہ میں اصل مسئلہ ترکہ کی مقدار کا نہیں ہے ؛ بلکہ عورتوں کو ترکہ سے محروم کرنے کا ہے، قرآن مجید میں ترکہ کو ’ فریضۃ من اﷲ‘ ( ۱) یعنی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا ہوا حکم کہا گیا ہے اور ترکہ کے احکام بیان کرنے کے بعد کہا گیا ہے کہ یہ اﷲ تعالیٰ کی حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو، ( ۲) اس سے معلوم ہوا کہ عورت کو جو کچھ حق میراث ملتا ہے، وہ اس کے مرد رشتہ دار نہیں دیتے ہیں ؛ بلکہ یہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دیا ہوا حصہ ہے، اس میں کمی بیشی کرنا اﷲ تعالیٰ کے حق میں دخل دینے کے مترادف ہے اور اس سے بڑھ کر زیادتی اور کیا ہو سکتی ہے ؟


افسوس! کہ بہت سے مسلمان خاندانوں میں بہنوں کے حصہ پر بھائی قبضہ کر لیتے ہیں، والد کے انتقال پر بیٹے سب پر قابض ہو جاتے ہیں اور بیوہ ماں کو اس کا حصہ نہیں دیتے، بعض جگہ بھاوج کو حق سے محروم کر دیا جاتا ہے، والد کے انتقال کے بعد دوسرے قرضوں کی طرح بیوی کا مہر بھی ادا کیا جانا چاہئے، لیکن بیوی کا مہر ادا نہیں کیا جاتا اور اسے غیر ضروری سمجھا جاتا ہے، یہ کھلی ہوئی نا انصافیاں ہیں، اگر ماں اور بہنوں کا حق نہیں دیا گیا تو لڑکوں کے مال میں حرام کا عنصر شامل ہو گیا، جو نہ صرف ان کی آخرت کو ضائع کر دے گا ؛ بلکہ دنیا میں بھی وہ اولاد اس سے متاثر ہوتی ہیں، جن کی حرام کے ذریعہ پرورش ہوتی ہو ؛ بلکہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام اتنی بری بات ہے کہ اس سے انسان کی عبادتیں بھی نا مقبول اور بے تاثیر ہو جاتی ہیں ؛ اس لئے خواتین کو ان کا حق میراث ضرور دینا چاہئے اور اپنی زندگی کو حرام سے بچانا چاہئے۔


مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اپریل ۲۰۱۹
شریعت اِسلامی کی روشنی میں