خواتین کا نفقہ اور ضروریاتِ زندگی

شریعت نے بنیادی طور پر خواتین سے متعلق اخراجات کی ذمہ داری مردوں پر رکھی ہے، قرآن مجید نے کہا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے مردوں کو جو ’’ قوّام ‘‘ یعنی سربراہ خاندان بنایا ہے، اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ خواتین کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، الرجال قوامون علی النساء بما فضل اﷲ بعضہم علی بعض وبما أنفقوا من أموالہم، ( ۱) یہ بات شریعت میں اس قدر ملحوظ ہے کہ اگر ایک مرد اور ایک عورت ایک ہی درجہ کے رشتہ دار ہوں اور نفقہ کے مستحق ہوں تو عورت کو مرد پر ترجیح حاصل ہو گی، مثلاً بیٹے کا نفقہ بالغ ہونے کے بعد اس وقت واجب ہو گا، جب کہ وہ معذور ہو اور بیٹی کا نفقہ شادی تک واجب رہے گا، اسی طرح اگر کسی شخص میں یہ صلاحیت نہیں ہو کہ وہ ماں اور باپ دونوں کی ضروریات پوری کر سکے، وہ کسی ایک ہی کے اخراجات ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو ماں کا نفقہ اور اس کے اخراجات باپ کے نفقہ پر مقدم ہوں گے۔


مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اپریل ۲۰۱۹
شریعت اِسلامی کی روشنی میں