خوراک

جہاں تک خوراک کی بات ہے تو ظاہر ہے، کہ اس کی مقدار اور معیار کو پوری طرح متعین

نہیں کیا جا سکتا ؛ کیوں کہ مختلف لوگوں کے ذوق و مزاج اور جسمانی ضروریات میں فرق ہوتا ہے، ایسی غذا فراہم کرنا شرعاً واجب ہے، جو اس کے لئے موزوں ہو، چنانچہ علامہ علاء الدین کاسانیؒ فرماتے ہیں  :


قال أصحابنا : وہی ( ہذہ النفقۃ ) غیر مقدرۃ بنفسہا بل بالکفایۃ …، وإذا کان وجوبھا علی سبیل الکفایۃ، فیجب علی الزوج من النفقۃ قدر ما یکفیہا من الطعام والإدام والدہن، لأن الخبز لا یؤکل عادۃ إلا مأدوماً، والدہن لا بد منہ للنساء، ولا تقدر نفقتہا بالدراہم والدنانیر علی أیّ سعر کانت ؛ لأن فیہ إضرارا باحد الزوجین إذ السعر قد یغلو وقد یرخص، بل تقدر لہا علی حسب إختلاف الأسعار غلاء ورخصا رعایۃ للجانبین۔[4]


ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ نفقہ کی مقدار متعین نہیں ہے ؛ بلکہ اتنی مقدار دی جائے گی، جو عورت کے لئے کفایت کر جائے اور جب نفقہ بہ قدر کفایت واجب ہے تو شوہر پر اتنا کھانا، سالن اور تیل دینا واجب ہے جو بیوی کے لئے کافی ہو ؛ کیوں کہ بغیر سالن کے روٹی نہیں کھائی جاتی اور خواتین کے لئے تیل بھی ضروری ہے، درہم و دینار ( روپیہ ) کے ذریعہ نفقہ کی مقدار متعین نہیں کی جا سکتی ؛ کیوں کہ اس میں زوجین میں سے ایک کو نقصان پہنچے گا ؛ کیوں کہ قیمتیں گھٹتی بڑھتی رہتی ہیں ( اور اگر روپے ہی سے نفقہ کی مقدار متعین کی جائے تو ) قیمت کے اتار چڑھاؤ کو سامنے رکھتے ہوئے نفقہ متعین کیا جائے گا ؛ تاکہ دونوں کی رعایت ملحوظ رہے۔


آگے صراحت کی ہے کہ غذا میں موسم کی رعایت بھی ملحوظ کی جائے گی، اسی طرح شہر اور مقام کا بھی لحاظ رکھا جائے گا، جہاں جس طرح کی غذا کھائی جاتی ہو، وہاں اس طرح کی غذا فراہم کی جائے گی، لا بد فی وجوب النفقۃ علی الزوج من اعتبار حال بلدہ، [5] اسی طرح اگر عورت بیمار ہو تو اس کی مناسبت سے غذا کا فراہم کرنا [6]  اور دودھ پلا رہی ہو تو مقوی غذا [7] مرد کی ذمہ داری ہے۔


خوراک میں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ انسان طبعی طور پر پکائی ہوئی چیز ہی کھا سکتا اور ہضم کر سکتا ہے، اس لئے فقہاء نے لکھا ہے کہ جس کی خوراک واجب ہے، اصل میں اس کے لئے پکا ہوا کھانا فراہم کرنا واجب ہے، فعلیہ أن یأتیہا بطعام مہیاء، [8] اگر پکا پکایا کھانا فراہم نہیں کر سکتا تو کھانے کے ساتھ پکانے کی اشیاء اور پکانے والے شخص کی خدمت فراہم کرنا ضروری ہے[9] ؛ لیکن اصل میں اس کا تعلق ضرورت، ماحول اور گنجائش سے ہے، جہاں ماحول یہی ہو کہ خواتین خود گھر میں کھانا پکاتی ہوں، وہاں غذائی اشیاء اور پکوان کے لئے مطلوبہ وسائل کا فراہم کر دینا کافی ہو گا، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے سیدنا حضرت فاطمہؓ اور حضرت علیؓ کے نکاح کے بعد نصیحت فرمائی کہ باہر کے کام علی ( رضی اﷲ عنہ ) کیا کریں گے اور گھر کے کاموں کو فاطمہ ( رضی اﷲ عنہا ) انجام دیں گی، ہندوستان اور مشرقی ملکوں میں عام طور پر یہی مزاج ہے، خواتین خود اُمور خانہ داری کو انجام دیتی ہیں، — دوسرے اس کا تعلق ضرورت سے بھی ہے، جس کا نفقہ ادا کرنا واجب ہے، اگر وہ اس بات کی طاقت نہیں رکھتا کہ خود پکوان کی ذمہ داری کو انجام دے تو اس کے لئے کھانا فراہم کرنا ضروری ہو گا، ضعیف ماں، مریض و معذور بیوی یا دوسری زیر کفالت خواتین کو اس بات کا مکلف کرنا کہ خود سے کھانا پکائے اور کھائے جائز نہیں ؛ کیوں کہ یہ ماں کی توقیر اور بیوی و بیٹی وغیرہ کی ضروریات کو فراہم کرنے کی ذمہ داری کے منافی ہے۔


تیسرا پہلو جو اس سلسلہ میں قابل توجہ ہے، وہ یہ ہے کہ پکے ہوئے کھانے کا انتظام مرد کی گنجائش پربھی موقوف ہے، اگر اس کے مالی حالات ایسے ہوں کہ وہ کچا سامان ہی فراہم کر سکتا ہو اور عورت پکانے سے بالکل معذور نہ ہو تو مرد کو پکا پکایا کھانا فراہم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ؛ کیوں کہ اﷲ تعالیٰ نے نفقہ کے سلسلہ میں یہی اُصول ذکر فرمایا ہے کہ ہر شخص اپنی گنجائش اور صلاحیت کے اعتبار سے نفقہ کا انتظام کرے، لینفق ذو سعۃمن سعتہ ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما آتاہ اﷲ۔ [10]


کھانا فراہم کرنے میں مرد کو اپنے معیار کا بھی لحاظ رکھنا چاہئے، یعنی جو شخص نفقہ ادا کر رہا ہو اور جس کا نفقہ ادا کیا جا رہا ہو، اگر دونوں ایک ہی درجہ اور معیار کے ہوں، تب تو اسی کی رعایت کرتے ہوئے ضروریاتِ زندگی فراہم کرنا واجب ہو گا ؛ لیکن اگر مرد کا معیارِ زندگی اونچا ہو اور عورت کا اس کے مقابلہ کمتر، تو مرد کو چاہئے کہ وہ اپنے معیار کے لحاظ سے عورت کی ضرورت پوری کرے، علامہ علاء الدین کاسانیؒ نے لکھا ہے کہ اگر شوہر خوشحال خاندان سے تعلق رکھتا ہو اور بیوی غریب خاندان سے تو یہ بات درست نہیں ہو گی کہ شوہر خود تو اعلیٰ درجہ کا کھانا کھائے اور بیوی کے لئے معمولی درجہ کا کھانا فراہم کرے، [11]—- یہی بات فقہاء شوافع میں یحییٰ بن ابو الخیر یمنی ( م : ۵۵۸ھ ) نے[12]   اور فقہاء حنابلہ میں عبد القادر بن عمرشیبانیؒ اور ابراہیم بن محمدؒ نے بھی [13] لکھی ہے، جب مرد اور اس کے زیر کفالت خواتین ایک ہی جگہ رہتے ہوں اور ساتھ کھانا پکانا ہوتا ہو، اس وقت نفقہ کی مقدار کے سلسلہ میں یہ بات زیادہ اہم نہیں ہو گی ؛ لیکن جب شوہر یا اولاد کسی اور مقام پر قیام پذیر ہو اور وہاں سے وہ اپنی بیوی یا ماں وغیرہ کے اخراجات بھیجے تو اس وقت اس اُصول کی بڑی اہمیت ہے کہ وہ اپنے معیار کو ملحوظ رکھتے ہوئے، اپنے زیر کفالت خواتین کا نفقہ ادا کرے، نہ کہ معمولی سی رقم بھیج کر اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ سمجھے۔


نفقہ میں جیسے کھانے پینے کی اشیاء شامل ہیں، اسی طرح پکوان کے مروجہ ذرائع اور ان کو محفوظ رکھنے کے لئے موجودہ دور کے وسائل بھی شامل ہوں گے، اگر اس ماحول میں اس کے استعمال کا رواج ہو اور مرد کے اندر اس کی استطاعت ہو، جیسے گیس اور گیس کا چولہا، فریج وغیرہ، آج کل شہروں کے متوسط گھرانوں میں ضرورت کا درجہ اختیار کر گئے ہیں، ( ویجب علیہ آلۃ طحن وخبز وآنیۃ شراب وطبخ ککوز وجرۃ وقدر و مغرفۃ ) وکذا سائر أدوات البیت کحصیر ولبد وطنفسۃ۔[14]


مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اپریل ۲۰۱۹
شریعت اِسلامی کی روشنی میں