خادم

انسان اپنی بہت سی ضرورتوں میں دوسرے کا محتاج ہوتا ہے اور اس کی بعض ضرورتیں دوسرے انسان کے تعاون کے بغیر پوری نہیں ہو پاتی ہیں، اس پس منظر میں فقہاء نے خادم کے بارے میں بحث کی ہے، اگر کوئی شخص اس موقف میں نہیں ہو اور اس کے معاشی حالات اس لائق ہی نہ ہوں کہ وہ خادم کا انتظام کر سکے، یا جن ضروریات کے لئے خادم کی ضرورت ہو، اسے وہ خود انجام دے دے، جیسے ضروریات زندگی کا باہر سے خرید کر لانا، پانی یا ایندھن کا نظم کرنا وغیرہ تو مرد پر الگ سے خادم کا انتظام کرنا واجب نہیں ؛ لیکن اگر شوہر کو استطاعت ہو اور وہ خادم کا نظم کر سکتا ہو تو خادم کا نظم کرنا بھی شوہر کی ذمہ داری ہو گی، اب اس میں اختلاف ہے کہ ایک ہی خادم مہیا کرنا ضروری ہو گا یا ایک سے زیادہ ؟ امام ابویوسفؒ کے نزدیک دو خادم کا انتظام کرنا واجب ہو گا، تاکہ ایک خادم گھریلو کاموں میں مدد کرے اور ایک گھر سے باہر کے کاموں میں ہاتھ بٹائے اور امام ابو حنیفہؒ اور امام محمد کے نزدیک ایک ہی خادم کا نظم واجب ہو گا، جو اندر اور باہر کے کام میں ہاتھ بٹائے۔

ولا یجب علیہ لأکثر من خادم واحد فی قول أبی حنیفۃ و محمد و عند أبی یوسف یجب لخادمین ولا یجب أکثر من ذلک۔ [32]

امام شافعیؒ کے نزدیک بھی ایک خادم کا انتظام کرنا شوہر کے ذمہ واجب ہو گا،فإنہ لا یلزمہ إلا خادم واحد،  [33] اور یہی نقطۂ نظر فقہاء مالکیہ کا بھی ہے، وقضی لہا بخادمہا إن أحبت الخ۔ [34]

فقہاء نے عام طور پر خادم کا مسئلہ بیوی کے نفقہ کے سلسلہ میں لکھا ہے ؛ لیکن چوں کہ عام طور پر بیوی کے نفقہ کے احکام تفصیل سے ذکر کئے گئے ہیں ؛ اس لئے وہاں اس کا ذکر آیا ہے، ورنہ اس کا تعلق دوسری زیر کفالت خواتین سے بھی ہے، غور کیجئے کہ کیا بوڑھی اور ضعیف ماں کے لئے خادم کا نظم بیٹے کا فریضہ نہیں ہو گا ؟ اگر کسی کی بیوی کا انتقال ہو جائے تو کم سن بیٹیوں کی پرورش اور ان کی ضروریات کی تکمیل کے لئے خادمہ کی ذمہ داری نہیں ہو گی ؟ اگر کسی کی بیوہ بہن معذور ہو اور کوئی اس کی دیکھ ریکھ کرنے والا نہ ہو تو بھائی کیسے اس ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کر سکتا ہے ؟ —- اس لئے اصل میں اس کا تعلق زیر کفالت خواتین کی ضرورت، معاشرتی و سماجی اور مرد کی مالی استطاعت سے ہے، اسی لئے فقہاء نے خاص طور پر بیمار بیوی کی خدمت کے لئے خادم کا انتظام کرنے کو مطلقاً واجب کہا ہے، علامہ شامیؒ فرماتے ہیں  :

وإذا مرضت وجب علیہ إخدامہا، لوکانت أمۃ، وبہ صرح الشافعیۃ وہو مقتضی قواعد مذہبنا۔ [35]

عورت بیمار ہو تو شوہر پر اس کے لئے خادم فراہم کرنا واجب ہے، گو اس کی بیوی باندی ہی کیوں نہ ہو، فقہاء شوافع نے اس کی صراحت کی ہے اور ہمارے مذہب کے قواعد کا تقاضہ بھی یہی ہے۔

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اپریل ۲۰۱۹
شریعت اِسلامی کی روشنی میں