رہائش

نفقہ میں جو ضروریات شامل ہیں، ان میں رہائش بھی شامل ہے ؛ کیوں کہ اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا  :

أسکنوہن من حیث سکنتم من وجدکم۔[36]

جہاں تم رہو، وہاں بیویوں کو بھی رکھو، اپنی گنجائش کے مطابق۔

عورت کو کس طرح کی رہائش فراہم کرنا ضروری ہے ؟ اس سلسلہ میں علامہ ابن نجیم مصریؒ کا بیان ہے  :

إنما تجب بالتبوأۃ والسکنیٰ فی بیت خال عن أہلہ وأہلہا ولہم النظر والکلام معہا۔ [37]

بیوی کے لئے ایسے گھر میں ٹھکانہ اور رہائش فراہم کرنا واجب ہو گا، جو شوہر کے لوگوں سے بھی خالی ہو اور بیوی کے رشتہ داروں سے بھی ؛ البتہ ان لوگوں کو اس سے گفتگو کرنے اور اسے دیکھنے کی اجازت ہو گی، ( بشرطیکہ غیر محرم نہ ہوں )۔

اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ  :

۱-  زیر کفالت خاتون کے لئے رہائش فراہم کرنا شرعاً واجب ہے، خواہ یہ ذاتی مکان ہو یا کرایہ کی عمارت ؛ کیوں کہ رہائش بھی انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔

۲-  یہ مکان ایسا ہو کہ شرعی ضرورتوں کو پوری کرتا ہو، یعنی پردہ دار ہو اور عورت اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کر سکتی ہو۔

۳-  اسے سوکن یا دو سرے سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کیا جائے اور نہ بیوی اپنے شوہر کو اس بات پر مجبور کر سکتی ہے کہ وہ اس کو اس کے میکہ کے لوگوں میں رکھے، یعنی یہ حکم خاص طور پر بیوی کی رہائش کے لئے ہے ؛ کیوں کہ عام طور پر خواتین میں اپنے سسرالی رشتہ داروں کی جانب سے رقابت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ علاحدہ مکان میں رکھنے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں، ایک یہ ہے کہ بیوی کو علاحدہ کمرہ فراہم کیا جائے ؛ لیکن گھر کی دوسری ضروریات جیسے بیت الخلاء، غسل خانہ اور باورچی خانہ وغیرہ مشترک ہو، اس پر بالاتفاق عورت کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، قولہ : (خال عن أہلہ الخ ) لأنہا تتضرر بمشارکتہ غیرہا فیہ ؛ لأنہا لا تأمن علی متاعہا یمنعہا ذلک من المباشرۃ مع زوجہا ومن الإستمتاع، إلا ان تختار ذلک[38]،  دوسری صورت یہ ہے کہ ایک بڑے مکان میں بیوی کے لئے الگ کمرہ اور علاحدہ دوسری ضروریات کا انتظام کر دیا جائے، اور وہ اپنے رہائشی حصہ کو مقفل کر سکتی ہو، بعض فقہاء کے نزدیک یہ بھی کافی ہے، قولہ : ( وبیت منفرد ) أی مایبات فیہ ؛ وہو محل منفرد معین الخ، [39] بعض فقہاء نے اس بات کو لازم قرار دیا ہے کہ بیوی کو بالکل ہی علاحدہ مکان فراہم کیا جائے، وفی ’’البحر‘‘ عن’’الخانیۃ ‘‘ یشترط أن لا یکون فی الدار أحد من أحماء الزوج یؤذیہا،[40] دراصل یہ دونوں صورتیں حالات پر موقوف ہیں، مرد کی گنجائش، معاشی صلاحیت اور عورت کی اپنے سسرال کے لوگوں سے تعلقات کو دیکھتے ہوئے یہ بات طے کی جائے گی کہ اسے کس طرح کا مکان فراہم کرنا ضروری ہو گا ؟

فقہاء نے جہاں اس بات پر توجہ دی ہے کہ مکان محفوظ ہو، وہیں اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ صالحین کے پڑوس کا انتخاب کیا جائے ؛ کیوں کہ انسان کی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ میں پڑوسیوں کے مزاج و اخلاق کا بھی حصہ ہوتا ہے، ویأمرہ بإسکانہا بین جیران صالحین بحیث لا تستوحش۔[41]

بعض اوقات تنہائی انسان کے لئے تکلیف دہ ہو جاتی ہے ؛ کیوں کہ انسان اپنے لئے انیس و غم خوار کا خواہش مند رہتا ہے، اگر کسی عورت کے بال بچے نہ ہوں، شوہر کام کے لئے چلا جاتا ہو اور اسے تنہا اپنے گھر میں رہنا پڑتا ہو تو ظاہر ہے کہ یہ اس کے لئے تکلیف دہ صورت حال ہو گی، اسی لئے فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایسی صورت میں اس کے لئے کسی ایسی عورت کا بھی نظم کرنا چاہئے، جو اس کے لئے وحشت دور کرنے کا سبب بنے۔ [42]

رہائش گاہ کے معیار کے سلسلہ میں بنیادی چیز مرد کی معاشی صلاحیت اور مقامی عرف و رواج ہے، مثال کے طور پر خلیجی ممالک اور بہت زیادہ گرم مقامات پر ایسے مکان کو آج ضروری سمجھا جاتا ہے، جس میں ایر کنڈیشن کا انتظام ہو ؛ لیکن ہندوستان وغیرہ میں اسے ضروری نہیں سمجھا جاتا، تو اسی لحاظ سے رہائش گاہ کا انتظام کرنا واجب ہو گا۔

رہائش میں صرف مکان ہی داخل نہیں ہے ؛ بلکہ وہ تمام چیزیں، جو رہائش کے لئے ضرورت کا درجہ اختیار کر گئی ہیں، جیسے فرنیچر، موسم کی رعایت کرتے ہوئے بستر وغیرہ کا نظم یا موجودہ دور میں شہری زندگی میں لائٹ اور پنکھے کا انتظام، یہ ساری سہولتیں رہائش کے دائرہ میں آتی ہیں اور حسب گنجائش ان کا فراہم کرنا مرد کی ذمہ داری ہو گی۔

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اپریل ۲۰۱۹
شریعت اِسلامی کی روشنی میں