جائز حق کی بنا پر اپنے آپ کو روک لے ؟

بیوی کا نفقہ صرف اس وقت واجب نہیں ہوتا، جب کہ وہ ناشزہ ہو، ناشزہ کے معنی نافرمانی کے ہیں اور فقہ کی اصطلاح میں ’’ ناشزہ ‘‘ اس عورت کو کہتے ہیں، جو اپنے کسی جائز حق کے بغیر، شوہر کا گھر چھوڑ کر اپنے میکہ یا کہیں اور چلی جائے[60]، گویا ناشزہ ہونے کے لئے دو باتوں کا پایا جانا ضروری ہے، ایک یہ کہ اس نے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کا گھر یا اس کی فراہم کی ہوئی رہائش گاہ چھوڑ کر چلی گئی ہو، اگر وہ بد اخلاقی اور نافرمانی کا ثبوت دے ؛ لیکن رہے شوہر کے مکان میں ہی، اس کو چھوڑ کر جائے نہیں، تو اس کا نفقہ شوہر کے ذمہ واجب رہے گا، (و خارجۃ من بیتہ بغیر حق ) وہی الناشزۃ حتی تعود ولو بعد سفرہ۔ [61]


دوسرے اس کا شوہر کے یہاں سے جانا یا شوہر کے یہاں آنے سے انکار کرنا اپنے کسی جائز حق کی بنا پر ہو تو باوجود اس کے کہ وہ شوہر کے یہاں آنے سے انکار کر دے، شوہر پر اس کا نفقہ واجب رہے گا، فإن طالبہا بالنقلۃ فامتنعت فإن کان امتناعہا بحق بأن امتنعت لإستیفاء مہر العاجل فلہا النفقۃ،[62]  اسی طرح فقہ شافعی کی معروف کتاب مغنی المحتاج میں ہے : … مالو امتنعت نفسہا لتسلیم المہر العین أو الحال فإن لہا النفقۃ من حینئذ[63]، اگر شوہر کے جانے میں عورت کی جان و مال اور عزت و آبرو کو خطرہ ہو، یا تجربہ اور دھمکی کی بنا پر یہ اندیشہ ہو کہ شوہر یا سسرال کے لوگ اسے تکلیف پہنچائیں گے، یا شوہر خوراک و پوشاک یا رہائش کا مناسب انتظام نہیں کرتا ہو، بیوی کو کمانے پر مجبور کرتا ہو، یا اس کو کسی خلاف شریعت کام کے لئے جبر کرتا ہو، جہیز کا مطالبہ کرتا ہو، مہر فوری ادا کرنے کی بات تھی اور ادا نہیں کر رہا ہو تو ان تمام صورتوں میں عورت کا شوہر کے ساتھ جانے سے انکار کر دینا اپنے جائز حق کی بناء پر انکار کرنا ہو گا اور باوجود شوہر کے ساتھ نہیں جانے کے اس کا نفقہ واجب رہے گا۔

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اپریل ۲۰۱۹
شریعت اِسلامی کی روشنی میں