دوسری رشتہ دار خواتین کا نفقہ

بعض حالات میں ماں، بیٹی اور بیوی کے علاوہ دوسری رشتہ دار خواتین، جیسے دادی، نانی، پھوپھی، خالہ، بہن، بھتیجی، بھانجی، پوتی اور نواسی وغیرہ کا نفقہ بھی واجب ہوتا ہے ؛ بشرطیکہ یہ خواتین خود اپنے اخراجات پورا کرنے کے موقف میں نہیں ہوں اور جس شخص پر نفقہ واجب قرار دیا جا رہا ہو، وہ نفقہ ادا کرنے کے موقف میں ہو، یہ نفقہ محرم رشتہ داروں پر واجب ہو گا اور جس حساب سے وہ اس کے ترکہ میں وارث ہو سکتے ہیں، اسی نسبت سے اسے نفقہ ادا کرنا ہو گا، ونفقۃ المحارم تجب علی ذی الرحم المحرم[79]، ایسے خصوصی حالات میں نفقہ ادا کرنے کا خاص اجر ہے، چنانچہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بیوہ اور مسکین کی ضرورت میں کام آنے والا ایسے شخص کے حکم میں ہے، جو اﷲ کے راستہ میں جہاد کرے، رات بھر عبادت کرے اور دن بھر روزہ رکھے۔ [80]


مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اپریل ۲۰۱۹
شریعت اِسلامی کی روشنی میں