کسبِ معاش کی مختلف صورتیں

کسبِ معاش کی بنیادی طور پر دو صورتیں ہیں : ایک صورت ہے براہ راست معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی، اور دوسری صورت ہے بالواسطہ سرمایہ کاری کی، براہ راست  کسبِ معاش کی چار صورتیں ہیں  :

(۱)        تجارت : ( خرید و فروخت ) (۲)  زراعت : ( کاشت کاری )۔

(۳)  صنعت : ( کاریگری )            (۴)  اجارہ : ( کرایہ پر لگانا یا ملازمت کرنا )۔

تجارت

تجارت سے مراد خرید و فروخت ہے، یعنی کسی شیٔ کو خود یا اپنے نمائندہ کے ذریعہ خرید کرنا اور پھر نفع کے ساتھ اسے خود یا نمائندہ ( وکیل ) کے ذریعہ فروخت کر دینا، عورتوں کے لئے کسی شیٔ کا خریدنا بھی جائز ہے اور بیچنا بھی، اُم المومنین حضرت عائشہؓ نے حضرت بریرہ ؓ کو ان کے مالکان سے خرید فرمایا تھا[118]، حضرت شفاء عدویہؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ عطر فروخت کیا کرتی تھیں، اسی طرح اسماء بنت مخرمہ ؓ حضرت عمر ص کے زمانہ میں عطر بیچا کرتی تھیں، عبداﷲ ابن ابی ربیعہ ص یمن سے ان کے پاس عطر بھیجتے تھے، وہ اسے فروخت کرتیں اور شیشی میں رکھ کر حوالہ کرتیں، نیز جن کے ذمہ پیسے ہوتے، ان کا اندراج بھی کر لیتیں[119]، اس طرح کی بہت سی روایتیں موجود ہیں، اسی لئے فقہاء کا اتفاق ہے کہ خرید و فروخت کرنے والے کا عاقل و بالغ ہونا ضروری ہے، مرد ہونا ضروری نہیں ہے، عورت بھی شرعی حدود کی رعایت کے ساتھ سامان خرید اور فروخت کر سکتی ہے، یا اپنے وکیل و نمائندہ کی وساطت سے تجارت کر سکتی ہے۔

 

کاشت کاری اور باغبانی

اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں کہ کاشت کاری یا باغ بانی کے لئے ’ مرد ہونا ‘ ضروری نہیں ہے، خواتین شرعی حدود کی رعایت کے ساتھ خود بھی کاشت کاری کر سکتی ہیں، باغ لگا سکتی ہیں اور دوسروں سے کام لیتے ہوئے بھی زراعت کر سکتی ہیں، رسول اﷲؐ غزوۂ تبوک کے موقع سے تشریف لے جا رہے تھے، آپؐ نے وادیِ قریٰ میں ایک خاتون کو دیکھا، جو اپنے باغ میں تھیں، آپؐ نے زکوٰۃ کی مقدار کا اندازہ کرنے کے لئے باغ کی پیداوار کا اندازہ فرمایا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وہ باغ انھیں خاتون کا تھا اور وہ خود اس کی نگرانی کر رہی تھیں[120]، حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق ہو گئی تھی، وہ اپنے کھجور کے پھل توڑنا چاہتی تھیں، ایک صاحب نے ان کو نکلنے سے منع کیا، انھوں نے حضور ا کی خدمت میں صورتِ حال پیش کی، آپؐ نے ارشاد فرمایا : کیوں نہیں ؟ اپنے کھجور توڑو، اس لئے کہ اُمید ہے کہ تم اس سے صدقہ کرو گی، یا کوئی بہتر کام کرو گی[121]،  غرض کہ عورت زراعت اور باغبانی کے ذریعہ بھی کسب معاش کر سکتی ہے۔


صنعت و حرفت

خواتین کے لئے ایسی صنعت و حرفت —- جو اُن کی صلاحیت کے مطابق ہو اور جن میں شرعی حدود کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو —- بھی جائز ہے، حضرت عبداﷲ ابن مسعودؓ کی زوجہ کچھ کاریگری سے واقف تھیں، خود حضرت عبداﷲؓ اور ان کے بچے بے روز گار تھے، انھوں نے حضور اسے دریافت کیا کہ میں اپنی رقم حضرت عبداﷲ ابن مسعودؓ  پر اور بچوں پر خرچ کر دیتی ہوں، صدقہ نہیں کر پاتی، کیا مجھے اس پر اجر ملے گا ؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا : تم کو اس پر بھی اجر ملے گا : ’’ لک فی ذلک أجر ما أنفقت علیہم‘‘ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں کہیں اختصار اور کہیں تفصیل کے ساتھ آئی ہے[122]، حضرت سعد ابن سہلؓ سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے رسول اﷲ ا کی خدمت میں باڈر والی چادر لا کر پیش کی اور عرض کیا : اﷲ کے رسول میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بُنا ہے[123]،  اسی طرح بعض صحابیات کے خنجر بنانے کا بھی ذکر ملتا ہے، موجودہ دور میں جو کمپیوٹر اور الیکٹرانک مشینوں کا دور ہے، بہت سے ایسے شعبے نکل آئے ہیں، جن میں خواتین، شرعی حدود اور نسوانی تقاضوں کی رعایت کے ساتھ کام کر سکتی ہیں۔


کرایہ و ملازمت

آمدنی کا ایک ذریعہ اجارہ ہے، یعنی اپنی چیز کرایہ پر لگا کر اُجرت حاصل کی جائے، یہ خواتین کے لئے بالکل درست ہے، اس لئے کہ آجر کا مرد ہونا ضروری نہیں، جیسے مرد اپنی مملوکہ شے کو کرایہ پر لگا سکتا ہے، اسی طرح ایک عورت بھی اپنا مکان، یا گاڑی وغیرہ کرایہ پر لگا سکتی ہے، اجارہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ خود کسی کام کی ذمہ داری لے کر اس کی اُجرت حاصل کی جائے، یعنی ملازمت اور نوکری کی جائے، یہ بھی عورتوں کے لئے جائز ہے ؛ بشرطیکہ شرعی حدود کی رعایت کے ساتھ ہو اور سرپرست یعنی شادی سے پہلے والد اور شادی کے بعد شوہر کی اجازت سے ہو، اس لئے کہ فقہاء نے اجیر ہونے کے لئے مرد ہونے کی شرط نہیں لگائی ہے، بلکہ اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ جس عورت کو دودھ آتا ہو، وہ اُجرت لے کر دودھ پلاسکتی ہے[124]،  ظاہر ہے یہ اجارہ کی ایسی صورت ہے، جو عورت ہی کے لئے مخصوص ہے، اسی طرح غلام اور باندی کی ایک خاص قسم ’ مکاتب ‘ کی ہوا کرتی تھی، جو اپنے مالک سے معاہدہ کے مطابق متعینہ رقم محنت مزدوری کے ذریعہ کما کر ادا کرتی تھی اور اسے غلامی سے آزادی حاصل ہو جاتی تھی۔

غرض کہ شریعت نے عورت پر کمانے کی ذمہ داری نہیں رکھی ہے، لیکن اگر کوئی خاتون احکام شریعت کی رعایت کرتے ہوئے شادی کے پہلے والد اور شادی کے بعد شوہر کی اجازت سے کسبِ معاش کرنا چاہے، یا شوہر نے اسے چھوڑ رکھا ہو، اس کی اور اس کے بچوں کی ضروریات کا خیال نہ رکھتا ہو اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے کسبِ معاش کرے تو اس کی اجازت ہے، اور ان صورتوں میں عورت خود ہی اپنی کمائی کی مالک ہو گی اور اس کے کمانے کے باوجود شوہر پر اس کے اور اس کے بچوں کے اخراجات واجب رہیں گے، سوائے اس کے کہ عورت خود ہی اپنی اور اپنے بچوں کی ضروریات پوری کر لیا کرے اور شوہر کو اس سے بری کر دے۔


 سرمایہ کاری

کسبِ معاش کی بعض صورتیں وہ ہیں، جن میں بالواسطہ سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور نفع حاصل کیا جاتا ہے، اس سلسلہ میں تین صورتیں زیادہ اہم ہیں  :

(۱)  مضاربت        (۲)  شرکت    (۳)  مزارعت۔

مضاربت میں ایک شخص کا سرمایہ ہوتا ہے اور دوسرے شخص کی محنت اور نفع میں دونوں کی شرکت ہوتی ہے۔

شرکت میں دو یا دو سے زیادہ اشخاص کا سرمایہ ہوتا اور نفع ان میں تقسیم ہو جاتا ہے۔

مزارعت یہ ہے کہ ایک شخص خود کھیتی کرنے کے بجائے، کھیت کسی کسان کے حوالہ کر دے اور بٹائی پر اس سے معاملہ طے کر لے۔

یہ تینوں صورتیں ایسی ہیں کہ عمل میں شریک ہوئے بغیر انسان نفع اٹھا سکتا ہے، عورتوں کے لئے سرمایہ کاری کے یہ تینوں راستے کھلے ہوئے ہیں، وہ اپنا مال ورکنگ پارٹنر ( مضارب)[125] کو دے کر اس سے نفع لے سکتی ہے، وہ کسی شخص یا کمپنی کی سرمایہ لگانے میں ’ پارٹنر ‘ بن سکتی ہے یا شیئر خرید سکتی ہے، وہ اپنی اراضی بٹائی پر لگا کر پیداوار کی شکل میں نفع حاصل کر سکتی ہے ؛ کیوں کہ سرمایہ کاری کی ان تینوں صورتوں میں سرمایہ لگانے والے کا مرد ہونا ضروری نہیں، خواتین بھی ان طریقوں پر سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔

اگر شریعت کے ان احکام کو پیش نظر رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کے لئے اسلام میں کسبِ معاش کے بہت سے راستے موجود ہیں، عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام نے  چوں کہ مردوں اور عورتوں کے اختلاط کو روکا ہے، اس لئے عورتوں کے لئے کسب معاش کا راستہ محدود ہو گیا ہے ؛ لیکن حقیقت یہ نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس تحدید کی وجہ سے عورتوں کے لئے مواقع بڑھ گئے ہیں، مثلاً تعلیم اور صحت ہی کو لے لیجئے، اگر مخلوط تعلیم کا نظام نہ ہو، لڑکیوں کے لئے الگ اسکول اور کالج قائم ہوں اور ان کو خاتون اساتذہ کی خدمت کے لئے مخصوص کر دیا جائے تو یقیناً اس کی وجہ سے معلمات کی ضرورت بڑھ جائے گی اور وہ ذہنی دباؤ اور تناؤ سے فارغ ہو کر تدریس کی خدمت انجام دے سکیں گی، اسی طرح اگر خواتین کے لئے علاحدہ اسپتال قائم ہوں، تو خاتون ڈاکٹروں، نرسوں اور عملہ کی ضرورت میں خاصا اضافہ ہو جائے گا، یہی حال زندگی کے دوسرے شعبوں کا ہے، اس لئے سچائی یہ ہے کہ پردہ کا حکم اور اختلاط کی ممانعت کی وجہ سے عورتوں کے لئے کسبِ معاش کے مواقع بڑھیں گے نہ کہ گھٹیں گے۔