بدعتوں اور بری رسموں اور بری باتوں کا بیان

قبروں پر دھوم دھام سے میلا کرانا۔ چراغ جلانا۔ عورتوں کا وہاں جانا۔ چادریں ڈالنا۔ پختہ قبریں بنانا۔ بزرگوں کے راضی کرنے کو قبروں کی حد سے زیادہ تعظیم کرنا۔ تعزیہ یا قبر کو چومنا چانٹا۔ خاک ملنا۔ طواف اور سجدہ کرنا۔ قبروں کی طرف نماز پڑھنا۔ مٹھائی۔ چاول۔ گلگلے وغیرہ چڑھانا۔ تعزیہ علم وغیرہ رکھنا۔ اس پر حلوہ مالیدہ چڑھانا یا اس کو سلام کرنا۔ کسی چیز کو اچھوتی سمجھنا۔ محرم کے مہینے میں پان نہ کھانا۔ مہندی مسی نہ لگانا۔ مرد کے پاس نہ رہنا۔ لال کپڑا نہ پہننا۔ بی بی کی صحنک مردوں کو نہ کھانے دینا۔ تیجا۔ چالیسواں وغیرہ کو ضروری سمجھ کر کرنا۔ باوجود ضرورت کے عورت کے دوسرے نکاح کو معیوب سمجھنا۔ نکاح۔ ختنہ۔ بسم اللہ وغیرہ میں اگرچہ وسعت نہ ہو مگر ساری خاندانی رسمیں کرنا۔ خصوصاً قرض وغیرہ کر کے ناچ رنگ وغیرہ کرنا۔ ہولی دیوالی کی رسمیں کرنا۔ سلام کی جگہ بندگی وغیرہ کرنا یا صرف سر پر ہاتھ رکھ کر جھک جانا۔ دیور۔ جیٹھ۔ پھوپی زاد۔ خالہ زاد بھائی کے سامنے بے محابا آنا۔ یا کسی نامحرم کے سامنے آنا۔ گگرا دریا سے گاتے بجاتے لانا۔ راگ، باجا۔ گانا سننا۔ ڈومنیوں وغیرہ کو نچانا اور دیکھنا۔ اس پر خوش ہو کر ان کو انعام دینا۔ نسب پر فخر کرنا یا کسی بزرگ سے منسوب ہونے کو نجات کے لیے کافی سمجھنا۔ کسی کے نسب میں کسر ہو اس پر طعن کرنا۔ جائز پیشہ کو ذلیل سمجھنا۔ حد سے زیادہ کسی کی تعریف کرنا۔ شادیوں میں فضول خرچی اور خرافات باتیں کرنا۔ ہندوؤں کی رسمیں کرنا۔ دولہا کو خلاف شرح پوشاک پہنانا۔ کنگنا سہرا باندھنا۔ مہندی لگانا۔ آتشبازی ٹیٹوں وغیرہ کا سامان کرنا۔ فضول آرائش کرنا۔ گھر کے اندر عورتوں کے درمیان دولہا کو بلانا اور سامنے جانا۔ تاک جھانک کر اس کو دیکھ لینا۔ سیانی سمجھدار سالیوں وغیرہ کا سامنے آنا۔ اس سے ہنسی دل لگی کرنا۔ چوتھی کھیلنا۔ جس جگہ دولہا دولہن لیٹے ہوں اس کے گرد جمع ہو کر باتیں سننا۔ جھانکنا۔

تاکنا۔ اگر کوئی بات معلوم ہو جائے تو اس کو اوروں سے کہنا مانجھے بٹھانا اور ایسی شرارت کرنا جس سے نمازیں قضا ہو جائیں۔ شیخی سے مہر زیادہ مقرر کرنا۔ غمی میں چلا کر رونا۔ منہ اور سینہ پیٹنا۔ بیان کر کے رونا۔ استعمال گھڑے توڑ ڈالنا۔ جو جو کپڑے اس کے بدن سے لگے ہوں سب کا دھلوانا۔ برس روز تک یا کچھ کم زیادہ اس گھر میں اچار نہ پڑنا۔ کوئی خوشی کی تقریب نہ کرنا۔ مخصوص تاریخوں میں پھر غم کا تازہ کرنا۔ حد سے زیادہ زیب و زینت میں مشغول ہونا۔ سادی وضع کو معیوب جاننا۔ مکان میں تصویریں لگانا۔ خاصدان۔ عطردان۔ سرمہ دانی سلائی وغیرہ چاندی سونے کی استعمال کرنا۔ بہت باریک کپڑا پہننا یا بجتا زیور پہننا۔ لہنگا پہننا۔ مردوں کے مجمع میں جانا خصوصاً تعزیہ دیکھنے اور میلوں میں جانا۔ ا ور مردوں کی وضع اختیار کرنا۔ بدن گودانا۔ خدائی رات کرنا۔ ٹوٹکہ کرنا۔ محض زیب و زینت کے لیے دیوار گیری چھت گیری لگانا۔ سفر کو جاتے یا لوٹتے وقت غیر محرم کے گلے لگنا یا گلے لگانا۔ جینے کے لیے لڑکے کا کان یا ناک چھیدنا۔ لڑکے کو بالا یا بلاق پہنانا۔ ریشمی یا کسم یا زعفران کا رنگا ہوا کپڑا یا ہنسلی یا گھونگر یا کوئی اور زیور پہنانا۔ کم رونے کے لیے افیون کھلانا۔ کسی بیماری میں شیر کا دودھ یا اس کا گوشت کھلانا۔ اس قسم کی اور بہت سی باتیں ہیں بطور نمونہ کے اتنی بیان کر دی گئی۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔