بڑے بڑے گناہوں کا بیان جن پر بہت سختی آئی ہے

خدا سے شرک کرنا۔ نا حق خون کرنا۔ وہ عورتیں جن کے اولاد نہیں ہوتی کسی کی سنور میں بعضے ایسے ٹوٹکے کرتی ہیں کہ یہ بچہ مر جائے اور ہمارے اولاد ہو یہ بھی اسی خون میں داخل ہے۔ ماں باپ کو ستانا۔ زنا کرنا۔ یتیموں کا مال کھانا جیسے اکثر عورتیں خاوند کے تمام مال و جائیداد پر قبضہ کر کے چھوٹے بچوں کا حصہ اڑاتی ہیں۔ لڑکیوں کو حصہ میراث کا نہ دینا۔ کسی عورت کو ذرا سے شبہ میں زنا کی تہمت لگانا۔ ظلم کرنا۔ کسی کو اس کے پیچھے بدی سے یاد کرنا۔ خدا کی رحمت سے نا امید ہونا۔ وعدہ کر کے پورا نہ کرنا۔ امانت میں خیانت کرنا۔ خدا کا کوئی فرض مثل نماز روزہ حج زکوٰۃ چھوڑ دینا۔ قرآن شریف پڑھ کر بھلا دینا۔ جھوٹ بولنا۔ خصوصاً جھوٹی قسم کھانا۔ خدا کے سوا اور کسی کی قسم کھانا یا اس طرح قسم کھانا کہ مرتے وقت کلمہ نصیب نہ ہو۔ ایمان پر خاتمہ نہ ہو۔ خدا کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا۔ بلا عذر نماز قضا کر دینا۔ کسی مسلمان کو کافر یا بے ایمان یا خدا کی مار یا خدا کی پھٹکار خدا کا دشمن وغیرہ کہنا۔ کسی کا گلہ شکوہ سننا۔ چوری کرنا۔ بیاج لینا۔ اناج کی گرانی سے خوش ہونا۔ مول چکا کر پیچھے زبردستی سے کم دینا۔ غیر محرم کے پاس تنہائی میں بیٹھنا۔ جوا کھیلنا۔ بعضی عورتیں اور لڑکیاں بد بد کے گٹے یا اور کوئی کھیل کھیلتی ہیں یہ بھی جوا ہے۔ کافروں کی رسمیں پسند کرنا۔ کھانے کو برا کہنا۔ ناچ دیکھنا۔ راگ باجا سننا۔ قدرت ہونے پر نصیحت نہ کرنا۔ کسی سے مسخرا پن کر کے بے حرمت اور شرمندہ کرنا۔ کسی کا عیب ڈھونڈنا۔
مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔