کنوئیں کا بیان

مسئلہ۔ جب کنوئیں میں کچھ نجاست گر پڑے تو کنواں ناپاک ہو جاتا ہے اور پانی کھینچ ڈالنے سے پاک ہو جاتا ہے چاہے تھوڑی نجاست گرے یا بہت۔ سارا پانی نکالنا چاہیے۔ جب سارا پانی نکل جائے گا تو پاک ہو جائے گا۔ کنوئیں کے اندر کنکر دیوار وغیرہ کے دھونے کی ضرورت نہیں۔ وہ سب آپ ہی آپ پاک ہو جائیں گے۔ اسی طرح رسی ڈول جس سے پانی نکالا ہے کنویں کے پاک ہونے سے آپ ہی آپ پاک ہو جائے گا۔ ان دونوں کے بھی دھونے کی ضرورت نہیں۔

فائدہ کنویں میں کبوتر یا گوریا یعنی چڑیا کی بیٹ گر پڑی تو نجس نہیں ہوا۔ اور مرغی اور بطخ کی بیٹ سے نجس ہو جاتا ہے۔ اور سارا پانی نکالنا واجب ہے۔

مسئلہ۔ کنویں میں کبوتر یا گوریا یعنی چڑیا کی بیٹ گر پڑی تو نجس نہیں ہوا۔ اور مرغی اور بطخ کی بیٹ سے نجس ہو جاتا ہے۔ اور سارا پانی نکالنا واجب ہے۔

 مسئلہ۔ کتاب بلی گائے بکری پیشاب کر دے یا کوئی اور نجاست گرے تو سب پانی نکالا جائے۔

مسئلہ۔ اگر آدمی یا کتا یا بکری یا اسی کے برابر کوئی اور جانور گر کر مر جائے تو سارا پانی نکالا جائے اور اگر باہر مرے پھر کنویں میں گرے تب بھی یہی حکم ہے کہ سب پانی نکالا جائے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی جاندار چیز کنویں میں مر جاوے اور پھول جائے یا پھٹ جائے تب بھی سب پانی نکالا جائے چاہے چھوٹا جانور ہو چاہے بڑا۔ تو اگر چوہا یا گوریا مر کر پھول جائے یا پھٹ جائے تو سب پانی نکالنا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر چوہا گوریا یا اسی کے برابر کوئی چیز گر کر مر گئی لیکن پھولی پھٹی نہیں تو بیس ڈول نکالنا واجب ہے۔ اور تیس ڈول نکال ڈالیں تو بہتر ہے۔ لیکن پہلے چوہا نکال لیں تب پانی نکالنا شروع کریں۔ اگر چوہا نہ نکالا تو اس پانی نکالنے کا کچھ اعتبار نہیں۔ چوہا نکالنے کے بعد پھر اتنا ہی پانی نکالنا پڑے گا۔

مسئلہ۔ بڑی چھپکلی جس میں بہتا ہوا خون ہوتا ہو اس کا حکم بھی یہی ہے کہ اگر مر جائے اور پھولے پھٹے نہیں تو بیس ڈول نکالنا چاہیے اور تیس ڈول نکالنا بہتر ہے۔ اور جس میں بہتا ہوا خون نہ ہوتا ہو اس کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔

مسئلہ۔ اگر کبوتر یا مرغی یا بلی یا اسی کے برابر کوئی چیز گر کر مر جائے اور پھولے نہیں تو چالیس ڈول نکالنا واجب ہے اور ساٹھ ڈول نکال دینا بہتر ہے۔

مسئلہ۔ جس کنویں پر جو ڈول پڑا رہتا ہے اسی کے حساب سے نکالنا چاہیے اور اگر اتنے بڑے ڈول سے نکالا جس میں بہت پانی سماتا ہے تو اس کا حساب لگا لینا چاہیے۔ اگر اس میں دو ڈول پانی سماتا ہے تو دو ڈول سمجھیں۔ اور اگر چار ڈول سماتا ہو تو چار ڈول سمجھنا چاہیے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس ڈول سے پانی آتا ہو گا اسی کے حساب سے کھینچا جائے گا۔

مسئلہ۔ اگر کنویں میں اتنا بڑا سوت ہے کہ سب پانی نہیں نکل سکتا جیسے جیسے پانی نکالتے ہیں ویسے ویسے اس میں سے اور نکلتا آتا ہے تو جتنا پانی اس میں اس وقت موجود ہے اندازہ کر کے اس قدر نکال ڈالیں۔

فائدہ پانی کے اندازہ کرنے کی کئی صورتیں ہیں ایک یہ کہ مثلاً پانچ ہاتھ پانی ہے تو ایک دم لگاتار سو ڈول پانی نکال کر دیکھو کتنا پانی کم ہوا۔ اگر ایک ہاتھ کم ہوا ہو تو بس اسی سے حساب لگا لو کہ سو ڈول میں ایک ہاتھ پانی ٹوٹا تو پانچ ہاتھ پانی پانچسو ڈول میں نکل جائے گا۔ دوسرے یہ کہ جن لوگوں کو پانی کی پہچان ہو اور اس کا اندازہ آتا ہو ایسے دو دیندار مسلمانوں سے اندازہ کرالو۔ جتنا وہ کہیں نکلوا دو۔ اور جہاں یہ دونوں باتیں مشکل معلوم ہوں تو تین سو ڈول نکلوا دیں۔

مسئلہ۔ کنویں میں مرا ہوا چوہا یا اور کوئی جانور نکلا اور یہ معلوم نہیں کہ کب سے گرا ہے اور وہ ابھی پھولا پھٹا بھی نہیں ہے تو جن لوگوں نے اس کنویں سے وضو کیا ہے ایک دن رات کی نمازیں دہرائیں اور ا س پانی سے جو کپڑے دھوئے ہیں پھر ان کو دھونا چاہیے۔ اور اگر پھول گیا ہے یا پھٹ گیا ہے تو تین دن تین رات کی نمازیں دہرانا چاہیے۔ البتہ جن لوگوں نے اس پانی سے وضو نہیں کیا ہے وہ نہ دہرائیں۔ یہ بات تو احتیاط کی ہے اور بعضے عالموں نے یہ کہا ہے کہ جس وقت کنویں کا ناپاک ہونا معلوم ہوا ہے اس وقت سے ناپاک سمجھیں گے۔ اس سے پہلے کی نماز وضو سب درست ہے اگر کوئی اس پر عمل کرے تب بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ جس کو نہانے کی ضرورت ہے وہ دو ڈول ڈھونڈنے کے واسطے کنویں میں اترا اور اس کے بدن اور کپڑا پر آلودگی نجاست نہیں ہے تو کنواں ناپاک نہ ہو گا۔ ایسے ہی اگر کافر اترے اور اس کے کپڑے اور بدن پر نجاست نہ ہو تب بھی کنواں پاک ہے البتہ اگر نجاست لگی ہو تو ناپاک ہو جائے گا اور سب پانی نکالنا پڑے گا اور اگر شک ہو کہ معلوم نہیں کپڑا پاک ہے یا ناپاک ہے تب بھی کنواں پاک سمجھا جائے گا لیکن اگر دل کی تسلی کے لیے بیس یا تیس ڈول نکلوا دیں تب بھی کچھ حرج نہیں۔

مسئلہ۔ کنویں میں بکری یاچوہا گر گیا اور زندہ نکل آیا تو پانی پاک ہے کچھ نہ نکالا جائے۔

مسئلہ۔ چوہے کو بلی نے پکڑا اور اس کے دانت لگنے سے زخمی ہو گیا۔ پھر اس سے چھوٹ کر اسی طرح خون میں بھرا ہوا کنویں میں گر پڑا تو سارا پانی نکالا جائے۔

مسئلہ۔ چوہا تابدان سے نکل کر بھاگا اور اس کے بدن میں نجاست بھر گئی پھر کنویں میں گر پڑا تو سب پانی نکالا جائے چاہے چوہا کنویں میں مر جائے یا زندہ نکلے۔

مسئلہ۔ چوہے کی دم کٹ کر گر پڑی تو سارا پانی نکالا جائے۔ اسی طرح وہ چھپکلی جس میں بہتا ہوا خون ہوتا ہے اس کی دم گرنے سے بھی سب پانی نکالا جائے۔

مسئلہ۔ جس چیز کے گرنے سے کنواں ناپاک ہوا ہے۔ اگر وہ چیز باوجود کوشش کے نہ نکل سکے تو دیکھنا چاہیے کہ وہ چیز کیسی ہے۔ اگر وہ چیز ایسی ہے کہ خود تو پاک ہوتی ہے لیکن ناپاکی کی لگنے سے ناپاک ہو گئی ہے جیسے ناپاک کپڑا ناپاک گیند ناپاک جوتہ تب تو اس کا نکالنا معاف ہے ویسے ہی پانی نکال ڈالیں۔ اور اگر وہ چیز ایسی ہے کہ خود ناپاک ہے جیسے مردہ جانور و چوہا وغیرہ تو جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ یہ گل سڑ کر مٹی ہو گیا ہے اس وقت تک کنواں پاک نہیں ہو سکتا۔ اور جب یہ یقین ہو جائے اس وقت سارا پانی نکال دیں کنواں پاک ہو جائے گا۔

مسئلہ۔ جتنا پانی کنویں میں سے نکالنا ضرور ہو چاہے ایکدم سے نکالیں چاہے تھوڑا تھوڑا کر کے کئی دفعہ نکالیں ہر طرح پاک ہو جائے گا۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔