جانوروں کے جھوٹے کا بیان

مسئلہ۔ آدمی کا جھوٹا پاک ہے چاہے بددین ہو یا حیض سے ہو ناپاک ہو یا نفاس میں ہو ہر حال میں پاک ہے۔ اسی طرح پسینہ بھی ان سب کا پاک ہے۔ البتہ اگر اس کے ہاتھ میں یا منہ میں کوئی ناپاکی لگی ہو تو اس سے وہ جھوٹا ناپاک ہو جائے گا۔

مسئلہ۔ کتنے کا جھوٹا نجس ہے۔ اگر کسی برتن میں منہ ڈال دے تو تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا۔ چاہے مٹی کا برتن ہو چاہے تانبے وغیرہ کا۔ دھونے سے سب پاک ہو جاتا ہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ سات مرتبہ دھو دے اور ایک مرتبہ مٹی لگا کر مانجھ بھی ڈالے کہ خوب صاف ہو جائے۔

مسئلہ۔ سور کا جھوٹا بھی نجس ہے۔ اسی طرح شیر بھیڑیا بندر گیدڑ وغیرہ جتنے چیر پھاڑ کر کے کھانے والے جانور ہیں سب کا جھوٹا نجس ہے۔

مسئلہ۔ بلی کا جھوٹا پاک تو ہے لیکن مکروہ ہے۔ تو اور پانی ہوتے وقت اس سے وضو نہ کرے۔ البتہ اگر کوئی اور پانی نہ ملے تو اس سے وضو کر لے۔

مسئلہ۔ دودھ سالن وغیرہ میں بلی نے منہ ڈال دیا تو اگر اللہ نے سب کچھ دیا ہے تو اسے نہ کھائے اور اگر غریب آدمی ہو تو کھا لے اس میں کچھ حرج اور گناہ نہیں ہے بلکہ ایسے شخص کے واسطے مکروہ بھی نہیں ہے۔

مسئلہ۔ بلی نے چوہا کھایا اور فورا آ کر برتن میں منہ ڈال دیا تو وہ نجس ہو جائے گا۔ اور جو تھوڑی دیر ٹھیر کر منہ ڈالے کہ اپنا منہ زبان سے چاٹ چکی ہو تو نجس نہ ہو گا بلکہ مکروہ ہی رہے گا۔

مسئلہ۔ کھلی ہوئی مرغی جو ادھر ادھر گندی پلید چیزیں کھاتی پھرتی ہے اس کا جھوٹا مکروہ ہے۔ اور جو مرغی بند رہتی ہو اس کا جھوٹا مکروہ نہیں بلکہ پاک ہے۔

مسئلہ۔ شکار کرنے والے پرندے جیسے شکرہ باز وغیرہ ان کا جھوٹا بھی مکروہ ہے۔ لیکن جو پالتو ہو اور مردار نہ کھانے پائے نہ اس کی چونچ میں کسی نجاست کے لگے ہونے کا شبہ ہو اس کا جھوٹا پاک ہے۔

مسئلہ۔ حلال جانور جیسے مینڈھا بکری بھیڑ گائے بھینس ہرنی وغیرہ اور حلال چڑیاں جیسے مینا طوطا فاختہ گوریا ان سب کا جھوٹا پاک ہے۔ اسی طرح گھوڑے کا جھوٹا بھی پاک ہے۔

مسئلہ۔ جو چیزیں گھروں میں رہا کرتی ہیں جیسے سانپ بچھو چوہا چھپکلی وغیرہ ان کا جھوٹا مکروہ ہے۔

مسئلہ۔ اگر چوہا روٹی کتر کر کھائے تو بہتر یہ ہے کہ اس جگہ سے ذرا سی توڑ ڈالے تب کھائے۔

مسئلہ۔ گدھے اور خچر کا جھوٹا پاک تو ہے لیکن وضو ہونے میں شک ہے۔ سو اگر کہیں فقط گدھے خچر کا جھوٹا پانی ملے اور اس کے سوا پانی نہ ملے تو وضو بھی کرے اور تیمم بھی کرے اور چاہے پہلے وضو کرے چاہے پہلے تیمم کرے دونوں اختیار ہیں۔

مسئلہ۔ جن جانوروں کا جھوٹا نجس ہے ان کا پسینہ بھی نجس ہے۔ اور جن کا جھوٹا پاک ہے انکا پسینہ بھی پاک ہے۔ اور جن کا جھوٹا مکروہ ہے ان کا پسینہ بھی مکروہ ہے اور گدھے اور خچر کا پسینہ پاک ہے کپڑے اور بدن پر لگ جائے تو دھونا واجب نہیں۔ لیکن دھو ڈالنا بہتر ہے۔

مسئلہ۔ کسی نے بلی پالی وہ پاس آ کر بیٹھتی ہے اور ہاتھ وغیرہ چاٹتی ہے تو جہاں چاٹے یا اس کا لعاب لگے تو اس کو دھو ڈالنا چاہیے۔ اگر نہ دھویا اور یوں ہی رہنے دیا تو مکروہ اور برا کیا۔

مسئلہ۔ غیر مرد کا جھوٹا کھانا اور پانی عورت کے لیے مکروہ ہے جبکہ جانتی ہو کہ یہ اس کا جھوٹا ہے اور اگر معلوم نہ ہو تو مکروہ نہیں۔

مسئلہ۔ اگر کوئی جنگل میں ہے اور بالکل معلوم نہیں کہ پانی کہاں ہے نہ وہاں کوئی ایسا آدمی ہے جس سے دریافت کرے تو ایسے وقت تیمم کر لے اور گر کوئی آدمی مل گیا اور اس نے ایک میل شرعی کے اندر پانی کا پتہ بتایا اور گمان غالب ہوا کہ یہ سچا ہے یا آدمی تو نہیں ملا لیکن کسی نشانی سے خود اس کا جی کہتا ہے کہ یہاں ایک میل شرعی کے اندر اندر کہیں پانی ضرور ہے تو پانی کا اس قدر تلاش کرنا کہ اس کو اور اس کے ساتھیوں کو کسی قسم کی تکلیف اور حرج نہ ہو ضروری ہے۔ بے ڈھونڈے تیمم کرنا درست نہیں۔ اور اگر خوب یقین ہے کہ پانی ایک میل شرعی کے اندر ہے تو پانی لانا واجب ہے۔

فائدہ میل شرعی انگریزی سے ذرا زیادہ ہوتا ہے یعنی انگریزی ایک میل پورا اور اس کا آٹھواں حصہ یہ سب مل کر ایک میل شرعی ہوتا ہے۔

مسئلہ۔ اگر پانی کا پتہ چل گیا لیکن پانی ایک میل سے دور ہے تو اتنی دور جا کر پانی لانا واجب نہیں ہے بلکہ تیمم کر لینا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی آبادی سے ایک میل کے فاصلے پر ہو اور ایک میل سے قریب کہیں پانی نہ ملے تو بھی تیمم کر لینا درست ہے چاہے مسافر ہو یا مسافر نہ ہو تھوڑی دور جانے کے لیے نکلی ہو۔

مسئلہ۔ اگر راہ میں کنواں تو مل گیا مگر لوٹا ڈول پاس نہیں ہے اس لیے کنویں سے پانی نکال نہیں سکتی نہ کسی اور سے مانگے مل سکتا ہے تو بھی تیمم درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کہیں پانی مل گیا لیکن بہت تھوڑا ہے تو اگر اتنا ہو کہ ایک ایک دفعہ منہ اور دونوں ہاتھ اور دونوں پیر دھو سکے تو تیمم کرنا درست نہیں ہے بلکہ ایک ایک دفعہ ان چیزوں کو دھوئے اور سر کا مسح کر لے اور کلی وغیرہ کرنا یعنی وضو کی سنتیں چھوڑ دے اور اگر اتنا بھی نہ ہو تو تیمم کرے۔

مسئلہ۔ اگر بیماری کی وجہ سے پانی نقصان کرتا ہو کہ اگر وضو یا غسل کرے گی تو بیماری بڑھ جائے گی یا دیر میں اچھی ہو گی تب بھی تیمم درست ہے لیکن اگر ٹھنڈا پانی نقصان کرتا ہو اور گرم پانی نقصان نہ کرے تو گرم پانی سے غسل کرنا واجب ہے البتہ اگر ایسی جگہ ہے کہ گرم پانی نہیں مل سکتا تو تیمم کرنا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر پانی قریب ہے یعنی یقیناً ایک میل سے کم دور ہے تو تیمم کرنا درست نہیں۔ جا کر پانی لانا اور وضو کرنا واجب ہے۔ مردوں سے شرم کی وجہ سے یا پردہ کی وجہ سے پانی لینے کو نہ جانا اور تیمم کر لینا درست نہیں۔ ایسا پردہ جس میں شریعت کا کوئی حکم چھوٹ جائے ناجائز اور حرام ہے۔ برقع اوڑھ کر یا سارے بدن سے چادر لپیٹ کر جانا واجب ہے۔ البتہ لوگوں کے سامنے بیٹھ کر وضو نہ کرے اور ان کے سامنے ہاتھ منہ نہ کھولے

مسئلہ۔ جب تک پانی سے وضو نہ کر سکے برابر تیمم کرتی رہے چاہے جتنے دن گزر جائیں کچھ خیال و وسوسہ نہ لائے۔ جتنی پاکی وضو اور غسل کرنے سے ہوتی ہے اتنی ہی پاکی تیمم سے بھی ہو جاتی ہے۔ یہ نہ سمجھے کہ تیمم سے اچھی طرح پاک نہیں ہوتی۔

مسئلہ۔ اگر پانی مول بکتا ہے تو اگر اس کے پاس دام نہ ہوں تو تیمم کر لینا درست ہے اور اگر دام پاس ہوں اور رستہ میں کرایہ بھاڑے کی جتنی ضرورت پڑے گی اس سے زیادہ بھی ہے تو خریدنا واجب ہے البتہ اگر اتنا گراں بیچے کہ اتنے دام کوئی لگا ہی نہیں سکتا تو خریدنا واجب نہیں تیمم کر لینا درست ہے۔ اور اگر کرایہ وغیرہ رستہ کے خرچ سے زیادہ دام نہیں ہیں تو بھی خریدنا واجب نہیں تیمم کر لینا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کہیں اتنی سردی پڑتی ہو اور برف کٹتی ہو کہ نہانے سے مر جانے یا بیمار ہو جانے کا خوف ہو اور رضائی لحاف وغیرہ کوئی ایسی چیز بھی نہیں کہ نہا کر اس میں گرم ہو جائے تو ایسی مجبوری کے وقت تیمم کر لینا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی کے آدھے سے زیادہ بدن پر زخم ہوں یا چیچک نکلا ہو تو نہانا واجب نہیں بلکہ تیمم کر لے۔

مسئلہ۔ اگر کسی میدان میں تیمم کر کے نماز پڑھ لی اور وہاں سے پانی قریب ہی تھا لیکن اس کو خبر نہ تھی تو تیمم اور نمازیں دونوں درست ہیں۔ جب معلوم ہو تو دہرانا ضروری نہیں۔

مسئلہ۔ اگر سفر میں کسی اور کے پاس پانی ہو تو اپنے جی کو دیکھے اگر اندر سے دل کہتا ہو کہ اگر میں مانگوں گی تو یہ پانی مل جائے گا تو بے مانگے ہوئے تیمم کر لینا درست نہیں۔ اور اگر اندر سے دل یہ کہتا ہو کہ مانگنے سے وہ شخص پانی نہ دے گا تو بے مانگے بھی تیمم کر کے نماز پڑھ لینا درست ہے۔ لیکن اگر نماز کے بعد اس سے پانی مانگا اور اس نے دے دیا تو نماز کو دہرانا پڑے گا۔

مسئلہ۔ اگر زمزم کا پانی زمزمی میں بھرا ہو اہے تو تیمم کرنا درست نہیں زمزمیوں کو کھول کر اس پانی سے نہانا اور وضو کرنا واجب ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس پانی تو ہے لیکن راستہ ایسا خراب ہے کہ کہیں پانی نہیں مل سکتا اس لیے راہ میں پیاس کے مارے تکلیف اور ہلاکت کا خوف ہے تو وضو نہ کرے تیمم کر لینا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر غسل کرنا نقصان کرتا ہو اور وضو نقصان نہ کرے تو غسل کی جگہ تیمم کرے۔ پھر اگر تیمم غسل کے بعد وضو ٹوٹ جائے تو وضو کے لیے تیمم نہ کرے بلکہ وضو کی جگہ وضو کرنا چاہیے۔ اور اگر تیمم غسل سے پہلے کوئی بات وضو توڑنے والی بھی پائی گئی اور پھر غسل کا تیمم کیا ہو تو یہی تیمم غسل و وضو دونوں کے لیے کافی ہے

مسئلہ۔ تیمم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ پاک زمین پر مارے اور سارے منہ کو مل لے پھر دوسری مرتبہ زمین پر دونوں ہاتھ مارے اور دونوں ہاتھوں کی کہنی سمیت ملے۔ چوڑیوں کنگن وغیرہ کے درمیان اچھی طرح ملے اگر اس کے گمان میں ناخن برابر بھی کوئی جگہ چھوٹ جائے گی تو تیمم نہ ہو گا۔ انگوٹھی چھلے اتار ڈالے تاکہ کوئی جگہ چھوٹ نہ جائے۔ انگلیوں میں خلال کر لے۔ جب یہ دونوں چیزیں کر لیں تو تیمم ہو گیا۔

مسئلہ۔ مٹی پر ہاتھ جھاڑ ڈالے تاکہ بانہوں اور منھ پر بھبھوت نہ لگ جائے۔ اور صورت نہ بگڑ جائے۔

مسئلہ۔ زمین کے سوا اور جو چیز مٹی کی قسم سے ہو اس پر بھی تیمم درست ہے۔ جیسے مٹی ریت پتھر گچ چونا ہڑتال سرمہ گیرد وغیرہ۔ اور جو چیز مٹی کی قسم سے نہ ہو اس سے تیمم درست نہیں جیسے سونا چاندی رانگا گیہوں لکڑی کپڑا اور اناج وغیرہ۔ ہاں اگر ان چیزوں پر گرد اور مٹی لگی ہو اس وقت البتہ ان پر تیمم درست ہے۔

مسئلہ۔ جو چیز نہ تو آگ میں جلے اور نہ گلے وہ چیز مٹی کی قسم سے ہے اس پر تیمم درست ہے۔ اور جو چیز جل کر راکھ ہو جائے یا گل جائے اس پر تیمم درست نہیں۔ اسی طرح راکھ پر بھی تیمم درست نہیں۔

مسئلہ۔ تانبے کے برتن اور تکیے اور گدے وغیرہ پر تیمم کرنا درست نہیں البتہ اگر اوپر اتنی گرد ہے کہ ہاتھ مارنے سے خوب اڑتی ہے اور ہتھیلیوں میں خوب اچھی طرح لگ جاتی ہے تو تیمم درست ہے۔ اور اگر ہاتھ مارنے سے ذرا ذرا گرد اڑتی ہو تو بھی اس پر تیمم درست ہے۔ اور مٹی کے گھڑے بدھنے پر تیمم درست ہے چاہے اس میں پانی بھرا ہوا ہو یا پانی نہ ہو لیکن اگر اس پر لک پھرا ہوا ہو تو تیمم درست نہیں۔

مسئلہ۔ اگر پتھر پر بالکل گرد نہ ہو تب بھی تیمم درست ہے۔ بلکہ اگر پانی سے خوب دھلا ہوا ہو تب بھی درست ہے۔ ہاتھ پر گرد کا لگنا ضروری نہیں ہے اسی طرح پکی اینٹ پر بھی تیمم درست ہے۔ چاہے اس پر کچھ گرد ہو چاہے نہ ہو۔

مسئلہ۔ کیچڑ سے تیمم کرنا گو درست ہے مگر مناسب نہیں۔ اگر کہیں کیچر کے سوا اور کوئی چیز نہ ملے تو یہ ترکیب کرے کہ اپنے کپڑے میں کیچڑ بھر لیے جب وہ سوکھ جائے تو اس سے تیمم کرے۔ البتہ اگر نماز کا وقت ہی نکلا جاتا ہو تو اس وقت جس طرح بن پڑے تر سے یا خشک سے تیمم کر لے نماز نہ قضا ہونے دے۔

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

مسئلہ۔ اگر چمڑے کے موزے وضو کر کے پہن لے اور پھر وضو ٹوٹ جائے تو پھر وضو کرتے وقت موزوں پر مسح کر لینا درست ہے۔ اور اگر موزہ اتار کر پیر دھو لیا کرے تو یہ سب سے بہترہے۔

مسئلہ۔ اگر موزہ اتنا چھوٹا ہے کہ ٹخنے موزے کے اندر چھپے ہوئے نہ ہوں تو اس پر مسح درست نہیں۔ اسی طرح اگر بغیر وضو کیے موزہ پہن لیا تو اس پر بھی مسح درست نہیں اتار کر پیر دھونا چاہیے۔

مسئلہ۔ مسافرت میں تین دن تین رات تک موزوں پر مسح کرنا درست ہے اور جو مسافرت میں نہ ہو اس کے ایک دن اور ایک رات اور جس وقت وضو ٹوٹا ہے اس وقت سے ایک دن رات یا تین دن رات کا حساب کیا جائے گا جس وقت موزہ پہنا ہے اس کا اعتبار نہ کریں گے۔ جیسے کسی نے ظہر کے وقت وضو کر کے موزہ پہنا پھر سورج ڈوبنے کے وقت وضو ٹوٹا تو اگلے دن کے سورج ڈوبنے تک مسح کرنا درست ہے۔ اور مسافرت میں تیسرے دن کے سورج ڈوبنے تک۔ جب سورج ڈوب گیا تو اب مسح کرنا درست نہیں رہا۔

مسئلہ۔ اگر کوئی ایسی بات ہو گئی جس سے نہانا واجب ہو گیا تو موزہ اتار کر نہائے۔ غسل کے ساتھ موزے پر مسح کرنا درست نہیں۔

مسئلہ۔ موزہ کے اوپر کی طرف مسح کرے تلوے کی طرف مسح نہ کرے۔

مسئلہ۔ موزہ پر مسح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ کی انگلیاں تر کر کے آگے کی طرف رکھے۔ انگلیاں تو سموچی موزہ پر رکھ دے اور ہتھیلی موزے سمیت انگلیوں کو کھینچ کر لے جائے تو بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی الٹا مسح کرے یعنی ٹخنے کی طرف سے کھینچ کر انگلیوں کی طرف لائے تو بھی جائز ہے لیکن مستحب کے خلاف ہے ایسے ہی اگر لمباؤ میں مسح نہ کرے بلکہ موزے کے چوڑان میں مسح کرے تو بھی درست ہے لیکن مستحب کے خلاف ہے۔

مسئلہ۔ اگر تلوے کی طرف یا ایڑی پر یا موزہ کے اغل بغل میں مسح کرے تو یہ مسح درست نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ اگر پوری انگلیوں کو موزہ پر نہیں رکھا بلکہ فقط انگلیوں کا سرا موزہ پر رکھ دیا اور انگلیاں کھڑی رکھیں تو یہ مسح درست نہیں ہوا۔ البتہ اگر انگلیوں سے پانی برابر ٹپک رہا ہو جس سے بہہ کر تین انگلیوں کے برابر پانی موزہ کو لگ جائے تو درست ہو جائے گا۔

مسئلہ۔ مسح میں مستحب تو یہی ہے کہ ہتھیلی کی طرف سے مسح کرے۔ اور اگر کوئی ہتھیلی کے اوپر کی طرف سے مسح کرے تو بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی نے موزہ پر مسح نہیں کیا لیکن پانی برستے وقت باہر نکلی یا بھیگی گھاس میں چلی جس سے موزہ بھیگ گیا تو مسح ہو گیا۔

مسئلہ۔ ہاتھ کی تین انگلیوں بھر ہر موزہ پر مسح کرنا فرض ہے اس سے کم میں مسح درست نہ ہو گا۔

مسئلہ۔ جو چیز وضو توڑ دیتی ہے اس سے مسح بھی ٹوٹ جاتا ہے اور موزوں کو اتار دینے سے بھی مسح ٹوٹ جاتا ہے۔ تو اگر کسی کا وضو تو نہیں ٹوٹا لیکن اس نے موزے اتار ڈالے تو مسح جاتا رہا۔ اب دونوں پیر دھو لے پھر سے وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر ایک موزہ اتار ڈالا تو دوسرا موزہ بھی اتار کر دونوں پاؤں کا دھونا واجب ہے۔

مسئلہ۔ اگر مسح کی مدت پوری ہو گئی تو بھی مسح جاتا رہا۔ اگر وضو نہ ٹوٹا ہو تو موزہ اتار کر دونوں پاؤں دھوئے پورے وضو کا دہرانا واجب نہیں۔ اور اگر وضو ٹوٹ گیا ہو تو موزے اتار کر پورا وضو کرے۔

حیض اور استحاضہ کا بیان

مسئلہ۔ ہر مہینہ میں جو آگے کی راہ سے معمولی خون آتا ہے اس کو حیض کہتے ہیں۔

مسئلہ۔ کم سے کم حیض کی مدت تین دن تین رات ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن دس رات ہے۔ کسی کو تین دن تین رات سے کم خون آیا تو وہ حیض نہیں ہے۔ بلکہ استحاضہ ہے کہ کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے اور اگر دس دن رات سے زیادہ خون آیا ہے تو جتنے دن دس سے زیادہ آیا ہے وہ بھی استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ اگر تین دن تو ہو گئے لیکن تین راتیں نہیں ہوئیں جیسے جمعہ کو صبح سے خون آیا اور اتوار کو شام کے وقت بعد مغرب بند ہو گیا تب بھی یہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔ اگر تین دن رات سے ذرا بھی کم ہو تو وہ حیض نہیں۔ جیسے جمعہ کو سورج نکلتے وقت خون آیا اور دو شنبہ کو سورج نکلنے سے پہلے بند ہو گیا تو وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ حیض کی مدت کے اندر سرخ زرد سبز خاکی یعنی مٹیالا سیاہ جو رنگ آئے سب حیض ہے جب تک گدی بالکل سفید نہ دکھلائی دے اور جب بالکل سفید رہے جیسی کہ رکھی گی تھی تو اب حیض سے پاک ہو گئی۔

مسئلہ۔ نو برس سے پہلے اور پچپن برس کے بعد کسی کو حیض نہیں آتا ہے اس لیے نو برس سے چھوٹی لڑکی کو جو خون آئے وہ حیض نہیں ہے بلکہ استحاضہ ہے اگرچہ پچپن برس کے بعد کچھ نکلے تو اگر خون خوب سرخ یا سیاہ ہو تو حیض ہے اور اگر زرد یا سبز یا خاکی رنگ ہو تو حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔ البتہ اگر اس عورت کو اس عمر سے پہلے بھی زرد یا سبز یا خاکی رنگ آتا ہو تو پچپن پرس کے بعد بھی یہ رنگ حیض سمجھے جائیں گے۔ اور اگر عادت کے خلاف ایسا ہوا تو حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ کسی کو ہمیشہ تین دن یا چار دن خون آتا تھا۔ پھر کسی مہینہ میں زیادہ آ گیا لیکن دس دن سے زیادہ نہیں آیا وہ سب حیض ہے اور اگر دس دن سے بھی بڑھ گیا تو جتنے دن پہلے سے عادت کے ہیں اتنا تو حیض ہے باقی سب استحاضہ ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کسی کو ہمیشہ تین دن حیض آنے کی عادت ہے لیکن کسی مہینہ میں نو دن یا دس دن رات خون آیا تو یہ سب حیض ہے اور اگر دس دن رات سے ایک لحظہ بھی زیادہ خون آئے تو وہی تین دن حیض کے ہیں اور باقی دنوں کا سب استحاضہ ہے ان دنوں کی نمازیں قضا پڑھنا واجب ہیں۔

مسئلہ۔ ایک عورت ہے جس کی کوئی عادت مقرر نہیں ہے کبھی چار دن خون آتا ہے کبھی سات دن اسی طرح بدلتا رہتا ہے کبھی دس دن بھی آ جاتا ہے تو یہ سب حیض ہے ایسی عورت کو اگر کبھی دس دن رات سے زیاد خون آئے تو دیکھو کہ اس سے پہلے مہینہ میں کتنے دن حیض آیا تھا بس اتنے ہی دن حیض کے اور باقی سب استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ کسی کو ہمیشہ چار دن حیض آتا تھا پھر ایک مہینہ میں پانچ دن خون آیا اس کے بعد دوسرے مہینہ میں پندرہ دن خون آیا تو اس پندرہ دن میں سے پانچ دن حیض کے ہیں اور دس دن استحاضہ ہے اور پہلی عادت کا اعتبار نہ کریں گے اور یہ سمجھیں گے کہ عادت بدل گئی اور پانچ دن کی عادت ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی کو دس دن سے زیادہ خون آیا اور اس کو اپنی پہلی عادت بالکل یاد نہیں کہ پہلے مہینے میں کتنے دن خن آیا تھا تو اس کے مسئلے بہت باریک ہیں جن کا سمجھنا مشکل ہے اور ایسا اتفاق بھی کم پڑتا ہے اس لیے ہم اس کا بیان نہیں کرتے اگر کبھی ضرورت پڑے تو کسی بڑے عالم سے پوچھ لینا چاہیے اور کسی ایسے ویسے معمولی مولوی سے ہرگز نہ پوچھے۔

مسئلہ۔ کسی لڑکی نے پہلے پہل خون دیکھا تو اگر دس دن یا اس سے کچھ کم آئے سب حیض ہے اور جو دس دن سے زیادہ آئے تو پورے دس دن حیض ہے اور جتنا زیادہ ہو وہ سب استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ کسی نے پہلے پہل خون دیکھا اور وہ کسی طرح بند نہیں ہوا کئی مہینے تک برابر آتا رہا تو جس دن خون آیا ہے اس دن سے لے کر دس دن رات حیض ہے اس کے بعد بیس دن استحاضہ ہے۔ اسی طرح برابر دس دن حیض اور بیس دن استحاضہ سمجھا جائے گا۔

مسئلہ۔ دو حیض کے درمیان میں پاک رہنے کی مدت کم سے کم پندرہ دن ہیں اور زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ سو اگر کسی وجہ سے کسی کو حیض آنا بند ہو جائے تو جتنے مہینے تک خون نہ آئے گا پاک رہے گی۔

مسئلہ۔ اگر کسی کو تین دن رات خون یا پھر پندرہ دن پاک رہی۔ پھر تین دن رات خون آیا تو تین دن پہلے کے اور تین دن یہ جو پندرہ دن کے بعد ہیں حیض کے ہیں اور بیچ میں پندرہ دن پاکی کا زمانہ ہے۔

مسئلہ۔ اور اگر ایک یا دو دن خون آیا پھر پندرہ دن پاک رہی پھر ایک یا دو دن خون آیا تو بیچ میں پندرہ دن تو پاکی کا زمانہ ہی ہے ادھر ادھر ایک یا دو دن جو خون آیا ہے وہ بھی حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ اگر ایک دن یا کئی دن خون آیا۔ پھر پندرہ دن سے کم پاک رہی اس کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ یوں سمجھیں گے کہ گویا اول سے آخر تک برابر خون جاری رہا۔ سو جتنے دن حیض آنے کی عادت ہو اتنے دن تو حیض کے ہیں باقی سب استحاضہ ہے۔ مثال اس کی یہ ہے کہ کسی کو ہر مہینہ کی پہلی اور دوسری اور تیسری تاریخ حیض آنے کا معمول ہے پھر کسی مہینہ میں ایسا ہوا کہ پہلی تاریخ کو خون یا پھر چودہ دن پاک رہی۔ پھر ایک دن خون آیا تو ایسا سمجھیں گے کہ سولہ دن گویا برابر خون آیا۔ سو اس میں سے تین دن اول کے تو حیض کے ہیں اور تیرہ دن استحاضہ ہے۔ اور اگر چوتھی پانچویں چھٹی تاریخ حیض کی عادت تھی تو یہی تاریخیں حیض کی ہیں اور تین دن اول کے اور دس دن بعد کے استحاضہ کے ہیں۔ اور اگراس کی کچھ عادت نہ ہو بلکہ پہلے پہل خون آیا ہو تو دس دن حیض ہے اور چھ دن استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ حمل کے زمانہ میں جو خون آئے وہ بھی حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے چاہے جتنے دن آوے۔

مسئلہ۔ بچہ پیدا ہونے کے وقت بچہ نکلنے سے پہلے جو خون آئے وہ بھی استحاضہ ہے۔ بلکہ جب تک بچہ آدھے سے زیادہ نہ نکل آئے تب تک جو خون آئے گا اس کو استحاضہ ہی کہیں گے۔

حیض کے احکام کا بیان

مسئلہ۔ حیض کے زمانہ میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا درست نہیں۔ اتنا فرق ہے کہ نماز تو بالکل معاف ہو جاتی ہے پاک ہونے کے بعد بھی اس کی قضا واجب نہیں ہوتی لیکن روزہ معاف نہیں ہوتا پاک ہونے کے بعد قضا رکھنی پڑے گی۔

مسئلہ۔ اگر فرض نماز پڑھتے میں حیض آ گیا تو وہ نماز بھی معاف ہو گئی۔ پاک ہونے کے بعد اس کی قضا نہ پڑھے اور اگر نفل یا سنت میں حیض آ گیا تو اس کی قضا پڑھنا پڑے گی۔ اور اگر آدھے روزہ کے بعد حیض آیا تو وہ روزہ ٹوٹ گیا جب پاک ہو تو قضا رکھے۔ اگر نفل روزہ میں حیض آ جائے تو اس کی بھی قضا رکھے۔

مسئلہ۔ اگر نماز کے اخیر وقت میں حیض آیا اور ابھی نماز نہیں پڑھی ہے تب بھی معاف ہو گئی۔

مسئلہ۔ حیض کے زمانہ میں مرد کے پاس رہنا یعنی صحبت کرنا درست نہیں۔ اور صحبت کے سوا اور سب باتیں درست ہیں جن میں عورت کی ناف سے لے کر گھٹنے تک کا جسم مرد کے کسی عضو سے مس نہ ہو یعنی ساتھ کھانا پینا لیٹنا وغیرہ درست ہے۔

مسئلہ۔ کسی کی عادت پانچ دن کی یا نو دن کی تھی سو جتنے دن کی عادت تھی اتنے ہی دن خون آیا پھر بند ہو گیا تو جب تک نہا نہ لے تب تک صحبت کرنا درست نہیں اگر غسل نہ کرے تو جب ایک نماز کا وقت گزر جائے کہ ایک نماز کی قضا اس کے ذمہ واجب ہو جائے تب صحبت درست ہے اس سے پہلے درست نہیں۔

مسئلہ۔ اگر عادت پانچ دن کی تھی اور خون چار ہی دن آ کے بند ہو گیا تو نہا کے نماز پڑھنا واجب ہے لیکن جب تک پانچ دن پورے نہ ہو لیں تب تک صحبت کرنا درست نہیں ہے کہ شاید پھر خون آ جائے

مسئلہ۔ اگر پورے دس دن رات حیض آیا تو جب سے خون بند ہو جائے اسی وقت سے صحبت کرنا درست ہے چاہے نہا چکی ہو یا ابھی نہ نہائی ہو۔

مسئلہ۔ اگر ایک یا دو دن خون آ کر بند ہو گیا تو نہانا واجب نہیں ہے وضو کر کے نماز پڑھے لیکن ابھی صحبت کرنا درست نہیں اگر پندرہ دن گزرنے سے پہلے خون آ جائے گا تو اب معلوم ہو گا کہ وہ حیض کا زمانہ تھا۔ حساب سے جتنے دن حیض کے ہوں ان کو حیض سمجھے اور اب غسل کر کے نماز پڑھے اور اگر پورے پندرہ دن بیچ میں گزر گئے اور خون نہیں آیا تو معلوم ہوا کہ وہ استحاضہ تھا سو ایک دن یا دو دن خون آنے کی وجہ سے جو نمازیں نہیں پڑھیں اب ان کی قضا پڑھنا چاہیے۔

مسئلہ۔ تین دن حیض آنے کی عادت ہے لیکن کسی مہینے میں ایسا ہوا کہ تین دن پورے ہو چکے اور ابھی خون بند نہیں ہوا تو ابھی غسل نہ کرے نہ نماز پڑھے اگر پورے دس دن رات پر یا اس سے کم میں خون بند ہو جائے تو ان سب دنوں کی نمازیں معاف ہیں۔ کچھ قضا نہ پڑھنا پڑے گی اور یوں کہیں گے کہ عادت بدل گئی اس لیے یہ دن حیض کے ہوں گے اور اگر گیارہویں دن بھی خون آیا تو اب معلوم ہوا کہ حیض کے فقط تین ہی دن تھے یہ سب استحاضہ ہے۔ پس گیارہویں دن نہائے اور سات دن کی نمازیں قضا پڑھے اور اب نمازیں نہ چھوڑے۔

مسئلہ۔ اگر دس دن سے کم حیض یا اور ایسے وقت خون بند ہوا کہ نماز کا وقت بالکل تنگ ہے کہ جلدی اور پھرتی سے نہا دھو ڈالے تو نہانے کے بعد بالکل ذرا سا وقت بچے گا جس میں صرف ایک دفعہ اللہ اکبر کہہ کے نیت باندھ سکتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھ سکتی تب بھی اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور قضا پڑھنی پڑے گی اور اگر اس سے بھی کم وقت ہو تو نماز معاف ہے اس کی قضا پڑھنا واجب نہیں۔

مسئلہ۔ اور اگر پورے دس دن رات حیض آیا اور ایسے وقت خون بند ہوا کہ بالکل ذرا سا بس اتنا وقت ہے کہ ایک دفعہ اللہ اکبر کہہ سکتی ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتی اور نہانے کی بھی گنجائش نہیں تو بھی نماز واجب ہو جاتی ہے اس کی قضا پڑھنا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر رمضان شریف میں دن کو پاک ہوئی تو اب پاک ہونے کے بعد کچھ کھانا پینا درست نہیں ہے۔ شام تک روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے لیکن یہ دن روزہ میں محسوب نہ ہو گا بلکہ اس کی بھی قضا رکھنی پڑے گی۔

مسئلہ۔ اور اگر رات کو پاک ہوئی اور پورے دس دن رات حیض آیا ہے تو اگر اتنی ذرا سی رات باقی ہو جس میں ایک دفعہ اللہ اکبر بھی نہ کہہ سکے تب بھی صبح کا روزہ واجب ہے اور اگر دس دن سے کم حیض آیا ہے تو اگر اتنی رات باقی ہو کہ پھرتی سے غسل تو کر لے گی لیکن غسل کے بعد ایک دفعہ بھی اللہ اکبر نہ کہہ پائے گی تو بھی صبح کا روزہ واجب ہے اگر اتنی رات تو تھی لیکن غسل نہیں کیا تو روزہ توڑے بلکہ روزہ کی نیت کر لے اور صبح کو نہا لے اور جو اس سے بھی کم رات ہو یعنی غسل بھی نہ کر سکے تو صبح کا روزہ جائز نہیں ہے۔ لیکن دن کو کچھ کھانا پینا بھی درست نہیں بلکہ سارا دن روزہ داروں کی طرح رہے پھر اس کی قضا رکھے۔

مسئلہ۔ جب خون سوراخ سے باہر کی کھال میں نکل آئے تب سے حیض شروع ہو جاتا ہے۔ اس کھال سے باہر چاہے نکلے یا نہ نکلے اس کا کچھ اعتبار نہیں ہے تو اگر کوئی سوراخ کے اندر روئی وغیرہ رکھ لے جس سے خون باہر نہ نکلنے پائے تو جب تک سوراخ کے اندر ہی اندر خون رہے اور باہر روئی وغیرہ پر خون کا دھبہ نہ آئے تب تک حیض کا حکم نہ لگائیں گے۔ جب خون کا دھبہ باہر والی کھال میں جائے یا روئی وغیرہ کھینچ کر باہر نکلال لے تب سے حیض کا حساب ہو گا۔

مسئلہ۔ پاک عورت نے رات کو فرج داخل میں گدی رکھ لی تھی جب صبح ہوئی تو اس پر خون کا دھبہ دیکھا تو جس وقت سے دھبہ دیکھا ہے اسی وقت سے حیض کا حکم لگائیں گے۔

استحاضہ کے احکام کا بیان

مسئلہ۔ استحاضہ کا حکم ایسا ہے جیسے کسی کے نکسیر پھوٹے اور بند نہ ہو ایسی عورت نماز بھی پڑھے روزہ بھی رکھے قضا نہ کرنا چاہیے اور اس سے صحبت کرنا بھی درست ہے۔

نوٹ:استحاضہ کے احکام بالکل معذور کے احکام کی طرح ہیں۔

نفاس کا بیان

مسئلہ۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد آگے کی راہ سے جو خون آتا ہے اس کو نفاس کہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ نفاس کے چالیس دن ہیں اور کم کی کوئی حد نہیں۔ اگر کسی کو ایک آدھ گھڑی آ کر خون بند ہو جائے تو وہ بھی نفاس ہے۔

مسئلہ۔ اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد بالکل خون نہ آئے تب بھی جننے کے بعد نہانا واجب ہے۔

مسئلہ۔ آدھے سے زیادہ بچہ نکل آیا لیکن ابھی پورا نہیں نکلا۔ اس وقت جو خون آئے وہ بھی نفاس ہے اور اگر آدھے سے کم نکلا تھا اس وقت خون آیا تو وہ استحاضہ ہے اگر ہوش و حواس باقی ہوں تو اس وقت بھی نماز پڑھے نہیں گنہگار ہو گی نہ ہو سکے تو اشارہ ہی سے پڑھے قضا نہ کرے۔ لیکن اگر نماز پڑھنے سے بچہ کا ضائع ہو جانے کا ڈر ہو تو نماز نہ پڑھے۔

مسئلہ۔ کسی کا حمل گر گیا تو اگر بچہ کا ایک آدھ عضو بن گیا ہو تو گرنے کے بعد خون آئے گا وہ بھی نفاس ہے اور اگر بالکل نہیں بنا بس گوشت ہی گوشت ہے تو یہ نفاس نہیں پس اگر وہ خون حیض بن سکے تو حیض ہے اور اگر حیض بھی نہ بن سکے مثلاً تین دن سے کم آئے یا پاکی کا زمانہ ابھی پورے پندرہ دن نہیں ہوا تو وہ استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ اگر خون چالیس دن سے بڑھ گیا تو اگر پہلے پہل یہی بچہ ہوا تو چالیس دن نفاس کے ہیں اور جتنا زیادہ آیا ہے وہ استحاضہ ہے پس چالیس دن کے بعد نہا لے اور نماز پڑھنا شروع کرے خون بند ہونے کا انتظار نہ کرے اور اگر یہ پہلا بچہ نہیں بلکہ اس سے پہلے جن چکی ہے اور اس کی عادت معلوم ہے کہ اتنے دن نفاس آتا ہے تو جتنے دن نفاس کی عادت ہو اتنے دن نفاس کے ہیں اور جو اس سے زیادہ ہے وہ استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ کسی کی عادت تیس دن نفاس آنے کی ہے لیکن تیس دن گزر گئے اور ابھی خون بند نہیں ہوا تو ابھی نہ نہائے۔ اگر پورے چالیس دن پر خون بند ہو گیا تو یہ سب نفاس ہے اور اگر چالیس دن سے زیادہ ہو جائے تو فقط تیس دن نفاس کے ہیں اور باقی سب استحاضہ ہے اس لیے اب فورا غسل کر ڈالے اور دس دن کی نمازیں قضا پڑھے۔

مسئلہ۔ اگر چالیس دن سے پہلے خون نفاس کا بند ہو جائے تو فورا غسل کر کے نماز پڑھنا شروع کرے اور اگر غسل نقصان کرے تو تیمم کر کے نماز شروع کرے ہرگز کوئی نماز قضا نہ ہونے دے۔

مسئلہ۔ نفاس میں بھی نماز بالکل معاف ہے اور روزہ معاف نہیں بلکہ اس کی قضا رکھنا چاہیے اور روزہ نماز اور صحبت کرنے کے یہاں بھی وہی مسئلے ہیں جو اوپر بیان ہو چکے ہیں۔

مسئلہ۔ اگر چھ مہینے کے اندر اندر آگے پیچھے دو بچے ہوں تو نفاس کی مدت پہلے بچہ سے لی جائے گی۔ اگر دوسرا بچہ دس بیس دن یا دو ایک مہینے کے بعد ہوا تو دوسرے بچہ سے نفاس کا حساب نہ کریں گے۔

نفاس اور حیض وغیرہ کے احکام کا بیان

مسئلہ۔ جو عورت حیض سے ہو یا نفاس سے ہو اور جس پر نہانا واجب ہو اس کو مسجد میں جانا اور کعبہ شریف کا طواف کرنا اور کلام مجید کا چھونا درست نہیں۔ البتہ اگر اگر کلام مجید جزدان میں یا رومال میں لپٹا ہو یا اس پر کپڑے وغیرہ کی چولی چڑھی ہوئی ہو اور جلد کے ساتھ سلی ہوئی نہ ہو بلکہ الگ ہو کہ اتارے سے اتر سکے تو اس حال میں قرآن مجید کا چھونا اور اٹھانا درست ہے۔

مسئلہ۔ جس کا وضو نہ ہو اس کو بھی کلام مجید کا چھونا درست نہیں البتہ زبانی پڑھنا درست ہے۔

مسئلہ۔ جس روپیہ یا پیسہ میں یا طشتری میں یا تعویز میں یا اور کسی چیز میں قرآن شریف کی کوئی آیت لکھی ہو اس کو بھی چھونا ان لوگوں کے لیے درست نہیں البتہ اگر کسی تھیلی میں یا برتن وغیرہ میں رکھے ہوں تو اس تھیلی اور برتن کو چھونا اور اٹھا درست ہے۔

مسئلہ۔ کرتے کے دامن اور دوپٹہ کے آنچل سے بھی قرآن مجید کو پکڑنا اور اٹھانا درست نہیں البتہ اگر بدن سے الگ کوئی کپڑا ہو جیسے رومال وغیرہ اس سے پکڑ کے اٹھانا جائز ہے۔

مسئلہ۔ اگر پوری آیت نہ پڑھے بلکہ آیت کا ذرا سا لفظ یا آدھی آیت پڑھے تو درست ہے لیکن وہ آدھی آیت اتنی بڑی نہ ہو کہ کسی چھوٹی سی آیت کے برابر ہو جائے۔

مسئلہ۔ اگر الحمد کی پوری سورت دعا کی نیت سے پڑھے یا اور دعائیں جو قرآن میں آئی ہیں ان کو دعا کی نیت سے پڑھے تلاوت کے ارادہ سے نہ پڑھے تو درست ہے اس میں کچھ گناہ نہیں ہے جیسے یہ دعا ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ اور یہ دعا ربنا لا تواخذنا ان نسینا اواخطانا آخر تک جو سورہ بقرہ کے آخر میں لکھی ہے۔ یا اور کوئی دعا جو قرآن شریف میں آئی ہو دعا کی نیت سے سب کا پڑھنا درست ہے۔

مسئلہ۔ دعاء قنوت کا پڑھنا بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی عورت لڑکیوں کو قرآن شریف پڑھاتی ہو تو ایسی حالت میں ہجے لگوانا درست ہے اور رواں پڑھاتے وقت پوری آیت نہ پڑھے بلکہ ایک ایک دو دو لفظ کے بعد سانس توڑ دے اور کاٹ کاٹ کر کے آیت کا رواں کہلائے۔

مسئلہ۔ کلمہ اور درود شریف پڑھنا اور خدا تعالی کا نام لینا استغفار پڑھنا یا اور کوئی وظیفہ پڑھنا جیسے لا حول ولا قوۃ الا باللہ اعلی العظیم۔ پڑھنا منع نہیں ہے۔ یہ سب درست ہے۔

مسئلہ۔ حیض کے زمانہ میں مستحب ہے کہ نماز سے جی گھبرائے نہیں۔

مسئلہ۔ کسی کو نہانے کی ضرورت تھی اور ابھی نہانے نہ پائی تھی کہ حیض آ گیا تو اب اس پر نہانا واجب نہیں بلکہ جب حیض سے پاک ہو تب نہائے ایک ہی غسل دونوں باتوں کی طرف سے ہو جائے گا۔

نجاست کے پاک کرنے کا بیان

مسئلہ۔ بدن میں یا کپڑے میں منی لگ کر سوکھ گئی تو کھرچ کر خوب مل ڈالنے سے پاک ہو جائے گا اور اگر ابھی سوکھی نہ ہو تو فقط دھونے سے پاک ہو گا لیکن اگر کسی نے پیشاب کر کے استنجا نہیں کیا تھا ایسے وقت منی نکلی تو وہ ملنے سے پاک نہ ہو گی اس کو دھونا چاہیے۔

نماز کا بیان

مسئلہ۔ کسی کے لڑکا پیدا ہو رہا ہے لیکن ابھی سب نہیں نکلا کچھ باہر ہے اور کچھ نہیں نکلا ایسے وقت بھی اگر ہوش و حواس باقی ہوں تو نماز پڑھنا فرض ہے قضا کر دینا درست نہیں البتہ اگر نماز پڑھنے سے بچہ کی جان کا خوف ہو تو نماز قضا کر دینا درست ہے۔ اسی طرح دائی جنائی کو اگر یہ خوف ہو کہ اگر میں نماز پڑھنے لگوں گی تو بچہ کو صدمہ پہنچے گا تو ایسے وقت دائی کو بھی نماز کا قضا کر دینا درست ہے لیکن ان سب کو پھر جلدی قضا پڑھ لینا چاہیے۔

جوان ہونے کا بیان

مسئلہ۔ جب کسی لڑکی کو حیض آ گیا یا ابھی تک کوئی حیض تو نہیں آیا لیکن اس کے پیٹ رہ آ گیا یا پیٹ بھی نہیں آرہا لیکن خواب میں مرد سے صحبت کراتے دیکھا اور اس سے مزہ آیا اور منی نکل آئی۔ ان تینوں صورتوں میں وہ جوان ہو گئی۔ روزہ نماز وغیرہ شریعت کے سب حکم احکام اس پر لگائے جائیں گے اور اگر ان تینوں باتوں میں سے کوئی بات نہیں پائی گئی لیکن اس کی عمر پورے پندرہ برس کی ہو چکی ہے تب بھی وہ جوان سمجھی جائے گی اور جو حکم ان پر لگائے جاتے ہیں اب اس پر لگائے جائیں گے۔

مسئلہ۔ جوان ہونے کو شریعت میں بالغ ہونا کہتے ہیں۔ نو برس سے پہلے کوئی عورت جوان نہیں ہو سکتی۔ اگر اس کو خون بھی آئے تو وہ حیض نہیں ہے بلکہ استحاضہ ہے جس کا حکم اوپر بیان ہو چکا ہے۔

نماز کی فضیلت کا بیان

اللہ تعالی فرماتا ہے ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر یعنی بے شک نماز روک دیتی ہے بے حیائی اور گناہ سے۔ غرض یہ ہے کہ نماز باقاعدہ پڑھنے سے ایسی برکت ہوتی ہے جس سے نمازی تمام گناہوں سے باز رہتا ہے۔ اگرچہ اور بھی بعض عبادتیں ایسی ہیں جن سے یہ برکت حاصل ہوتی ہے مگر نماز کو اس میں خاص دخل ہے اور نماز کو اس باب میں اعلی درجہ کی تاثیر ہے۔ مگر یہ ضرور ہے کہ نماز سنت کے موافق عمدہ طور سے ادا کی جائے۔ نمازی کے دل میں اللہ پاک کی عظمت پائی جائے ظاہر اور باطن سکون و عاجزی سے بھرا ہو۔ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ جس درجہ نماز کو کامل ادا کرے گا اسی درجہ کی برکت حاصل ہو گی۔ کوئی عبادت نماز سے زیادہ محبوب حق تعالی کو نہیں ہے پس مسلمان کو ضرور ہے کہ ایسی عبادت جو تمام گناہوں سے روک دے اور دوزخ سے نجات دلادے اس کو نہایت التزام سے ادا کرے اور کبھی قضا نہ کرے۔ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضرت امام حسن بصری بڑے درجہ کے عالم اور درویش ہیں اور صحابہ کے دیکھنے والے ہیں۔ حافظ محدث ذہبی نے ان کے حالات میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس شخص نے ایسی نماز پڑھی کہ اس نماز نے اس نمازی کو بے حیائی کے کاموں اور گناہ کی باتوں سے نہ روکا تو وہ شخص اللہ تعالی سے دوری کے سوا اور کسی بات میں نہ بڑھا۔ اس نماز کے سبب یعنی اس کو نماز کے سبب قرب خداوندی اور ثواب میسر نہ ہو گا۔ بلکہ اللہ میاں سے دوری بڑھے گی اور یہ سزا ہے اس بات کی کہ اس نے ایسی پیاری عبادت کی قدر نہ کی اور اس کا حق ادا نہ کیا۔ پس معلوم ہوا کہ نماز قبول ہونے کی کسوٹی اور پہچان یہ ہے کہ نمازی نماز پڑھنے کے سبب گناہوں سے باز رہے اور اگر کبھی اتفاق سے کوئی گناہ ہو جائے تو فورا توبہ کر لے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود یہ بڑے درجہ کے صحابی اور بڑے عالم اور متقی ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک حال یہ ہے کہ اس نمازی کی نماز مقبول نہیں ہوتی اور اس کو ثواب نہیں ملتا گو بعضی صورتوں میں فرض سر سے اتر جاتا ہے اور کچھ ثواب بھی مل جاتا ہے جو نماز کی تابعداری نہ کرے اور نماز کی تابعداری کی پہچان یا اس کا اثر یہ ہے کہ نماز نمازی کو بے حیائی کے کاموں اور گناہ کی باتوں سے روک دے۔ اور حدیث میں ہے کہ ایک مرد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ تحقیق فلاں شخص رات کو نماز پڑھتا ہے یعنی شب بیدار اور عبادت گزار ہے پھر جب صبح ہوتی ہے تو چوری کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا بے شک عنقریب نماز اس کو اس کام سے روک دے گی جسے تو بیان کرتا ہے۔ یعنی چوری کرنا چھوڑ دے گا اور گناہ سے باز آئے گا اخرجہ احمد وابن حبان والبیہقی عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ بلفظ قال ای ابوہریرۃ جاء رجل الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال ان فلانا یصلی باللیل فاذا اصبح سرق قال انہ سینہاہ ماتقول اوردہ الامام السیوطی فی الدر المنثور۔

حضرت عبادۃ بن الصامت یہ صحابی ہیں سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت بندہ وضو کرتا ہے پس عمدہ وضو کرتا ہے یعنی سنت کے موافق اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے پس پورے طور پر نماز کا رکوع کرتا ہے اور پورے طور پر نماز کا سجدہ کرتا ہے اور پورے طور پر نماز میں قرآن پڑھتا ہے یعنی رکوع سجدہ قرات اچھی طرح ادا کرتا ہے تو نماز کہتی ہے اللہ تعالی تیری حفاظت کرے جیسی تو نے میری حفاظت کی یعنی میرا حق ادا کیا مجھے ضائع نہ کیا پھر وہ نماز آنکھوں کی طرف چڑھائی جاتی ہے اس حال میں کہ اس میں چمک اور روشنی ہوتی ہے اور اس کے لیے آنکھوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں تاکہ اندر پہنچ جائے اور مقبول ہو جائے اور جبکہ بندہ اچھی طرح وضو نہیں کرتا اور رکوع اور سجدہ اور قرات اچھی طرح ادا نہیں کرتا تو وہ نماز کہتی ہے خدا تجھے ضائع کرے جیسا کہ تو نے مجھے ضائع کیا۔ پھر وہ آنکھوں کی طرف چڑھائی جاتی ہے اس حال میں کہ اس پر اندھیرا ہوتا ہے اور دروازے آنکھوں کے بند کر دیئے جاتے ہیں تاکہ وہاں نہ پہنچے اور مقبول نہ ہو پھر لپیٹ دی جاتی ہے جیسے کہ پرانا کپڑا جو بیکار ہوتے ہی لپیٹ دیا جاتا ہے۔ پھر وہ نمازی کے منہ پر ماری جاتی ہے۔ یعنی قبول نہیں ہوتی اور اس کا ثواب نہیں ملتا حضرت عبداللہ بن مغفل صحابی سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوروں میں بڑا چور وہ ہے جو اپنی نماز چراتا ہے۔ عرض کای گیا یا رسول اللہ کس طرح اپنی نماز چراتا ہے۔ فرمایا پورے طور سے اس کا رکوع اور اس کا سجدہ نہیں ادا کرتا۔ اور بخیلوں میں بڑا بخیل وہ شخص ہے جو سلام سے بخل کرے رواہ الطبرانی فی الثلثۃ ورجالہ ثقات کذا فی مجمع الزوائد غرض یہ ہے کہ نماز جیسی سہل اور عمدہ عبادات کا حق ادا نہ کرنا بڑی چوری ہے جس کا گناہ بھی بہت بڑا ہے۔

مسلمانوں کو غیرت چاہیے کہ نماز پورے طور ادا نہ کرنے سے ان کو ایسا برا خطاب دیا گیا حضرت انس بن مالک یہ صحابی ہیں جن کا ذکر ضمیمہ حصہ اول میں گزر چکا ہے ان سے روایت ہے کہ باہر تشریف لائے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پس دیکھا ایک مرد کو مسجد میں کہ اپنا رکوع اور سجدہ پورے طور سے ادا نہیں کرتا۔ سو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں قبول کی جاتی نماز اس مرد کی جو پورے طور سے اپنا رکوع اور اپنا سجدہ نہیں ادا کرتا۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط والصغیر وفیہ ابراہیم بن عبداد الکرمانی ولم اجد من ذکرہ کذا فی مجمع الزوائد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے درجے کے عالم اور بڑے عبادت گزار اور بڑے ذکر کرنے والے اور صحابی ہیں۔ صحابہ میں حضرت ابن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان سے زیادہ حدیث کے جاننے والے تھے اور کوئی صحابی ابوہریرہ سے زیادہ حدیث کا جاننے والا نہ تھا۔ ان کا نام عبدالرحمن ہے ابوہریرہ کنیت ہے اور ابتدائے حال میں یہ تنگدست تھے یہاں تک کہ فاقوں اور بھوک کی تکلیف بھی اٹھائی۔ ان کے اسلام لانے کا قصہ طویل ہے۔ ابتداء میں باوجود ضرورت کے بوجہ تنگدستی کے نکاح بھی نہ کر سکے۔

پھر بعد وفات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کی دنیاوی حالت درست ہو گئی اور مال میں ترقی ہوئی اور مدینہ منورہ کے حاکم مقرر کیے گئے۔ حاکم ہونے کی حالت میں لکڑیوں کا گٹھہ لے کر بازار میں گزرتے تھے اور فرماتے تھے کہ راستہ کشادہ کر دو حاکم کے لیے یعنی میرے نکلنے کے لیے راستہ چھوڑ دو۔ دیکھو باوجود اتنے بڑے عہدے دار ہونے کے اپنا کام اور وہ بھی اس طرح کہ معمولی عزت دار آدمی اس طرح کام کرنے سے اپنی ذلت سمجھتا ہے۔ خود کرتے تھے اور ذرا بڑائی کا خیال نہ تھا کہ میں  کلکٹر ہوں کسی ماتحت یا نوکر سے یہ کام لے لوں۔ یہ طریقہ ہے ان حضرات کا جنہوں نے سالار انبیاء احمد مجتبیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم پائی تھی اور آپ کی صحبت اٹھائی تھی۔ ہر شخص اپنے کو ذرا سا رتبہ حاصل ہونے پر بہت بڑا سمجھنے لگتا ہے اور پھر دعوی محبت رسول مقبول کرتا ہے۔ مگر حقیقت میں محبت رسول اسی کو ہے جو آپ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے اور آپ کی سنت کی ہر کام میں تابعداری کرتا ہے خوب کہا ہے

وکل یدعی وصلا بلیلی

ولیلی لا تقرلہم بذاک

یعنی ہر شخص دعوی کرتا ہے کہ مجھے لیلے کا وصال ہو گیا۔ اور لیلی اس بات کا ان لوگوں کے لیے اقرار نہیں کرتی۔ سو ان لوگوں کا دعوی کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اللہ و رسول کی محبت کا مدعی ہو۔ اور حدیث و قرآن کے خلاف عمل کرے۔ اور اللہ و رسول اس کے دعوی کی تکذیب کریں تو اس کا دعوی کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ حدیث میں صاف مذکور ہے کہ طریق حق وہ ہے جس پر میں یعنی رسول اللہ اور میرے صحابہ ہیں۔ اس حدیث سے خوب واضح ہے کہ جو طریقہ خلاف طریق رسول ہو وہ گمراہی ہے اور اس پر عمل کرنے والے سے رسول اللہ سخت ناخوش ہیں اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے پرورش پائی اس حال میں کہ میں یتیم تھا۔ اور میں نے ہجرت کی مدینہ کو اس حال میں کہ میں مسکین تھا اور میں غزوان کی بیٹی کا نوکر تھا۔ کھانے کی عوض اور اس شرط پر کہ کبھی سفر میں پیدل چلوں اور کبھی سوار ہو لوں۔ میں ان کے اونٹ ہانکتا تھا شعر پڑھ کر عرب میں اشعار پڑھ کر اونٹوں کو چلاتے ہیں جس سے اونٹ بسہولت چلے جاتے ہیں اور میں لکڑیاں لاتا تھا ان کے یعنی اپنے مالک کے گھر والوں کے لیے جب وہ اترتے تھے یعنی کہیں پڑاؤ ڈالتے تھے پس شکر ہے اس اللہ کا جس نے دین کو مضبوط کیا۔ اور ابوہریرہ کو امام اور پیشوا بنایا۔ یعنی دین اسلام قبول کر کے یہ دولت حاصل ہوئی کہ امامت دین میسر ہوئی اور یہ خدا کی نعمت کا شکر ادا فرمایا۔ بطور تکبر اور فخر کے اپنے کو پیشوا نہیں کہا۔ اور خدا کی نعمت کا اظہار کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کو جتنا درجہ انسان کو حاصل ہوا س کا ظاہر کرنا ثواب ہے اور با اعتبار فخر و تکبر منع اور حرام ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم ان غنیمتوں کے مال میں سے ہم سے کیوں نہیں مانگتے۔

پس میں نے عرض کیا میں آپ سے یہ مانگتا ہوں کہ آپ مجھے علم سکھلائیں اس علم میں سے جو اللہ تعالی نے آپ کو سکھلایا ہے۔ سو اتار لیا آپ نے اس کملی کو جو میری پشت پر تھی یعنی میں اس کو اوڑھے ہوئے تھا پھر اسے بچھایا میرے اور اپنے درمیان یہاں تک کہ گویا کہ تحقیق میں دیکھتا ہوں جوؤں کی طرف جو چلتی تھیں اس پر پھر آپ نے مجھ سے کچھ کلمات فرمائے تبرکاً یہاں تک کہ جب آپ وہ کلمات پورے فرما چکے تو فرمایا کہ اس کو اکٹھا کر لے سمیٹ لے پھر اس کو اپنے سینے سے لگا لے۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ میں ایسا ہو گیا کہ میں ایک حرف نہیں ساقط کرتا ہوں اس علم سے جو مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا یعنی حافظہ بہت عمدہ ہو گیا اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ تعالی سے توبہ استغفار بارہ ہزار بار روز کرتا ہوں یعنی استغفراللہ واتوب الیہ یا اس کی مثل کچھ اور الفاظ بارہ ہزار بار روز پڑھتے تھے۔ اور ان کے پاس ایک ڈورا تھا جس میں دو ہزار گرہ لگی تھیں سوتے نہیں تھے جب تک کہ اس قدر یعنی دوہزار بار سبحان اللہ نہ پڑھ لیتے۔ یعنی سونے سے پہلے اس قدر سبحان اللہ پڑھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جو بڑے درجہ کے صحابی اور عالم ہیں اور سنت کی تابعداری کا اس قدر شوق تھا کہ آپ نے طریقہ سنت کا اس قدر تلاش کیا کہ لوگوں کو یہ اندیشہ تھا کہ اس محنت میں شاید ان کی عقل جاتی رہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ نعم الرجل عبداللہ لوکان یصلی من اللیل یعنی اچھا مرد ہے عبداللہ ابن عمر کاش کہ نماز پڑھتا تہجد کی۔ جب سے آپ نے تہجد کی نماز کبھی نہیں چھوڑی اور رات کو کم سوتے تھے سو وہ فرماتے ہیں کہ اے ابوہریرہ تم بے شک زیادہ رہنے والے تھے ہم لوگوں یعنی صحابہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور زیادہ جاننے والے تھے ہم لوگوں میں آپ کی حدیث کے۔

حضرت طفاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں چھ ماہ تک ابوہریرہ کا مہمان رہا سو نہ دیکھا میں نے کسی مرد کو صحابہ میں سے کہ بہت مستعد ہو اور بہت خدمت کرے مہمان کی ابوہریرہ سے زیادہ۔ اور حضرت ابو عثمان نہدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں سات روز تک حضرت ابوہریرہ کا مہمان رہا۔ سو ابوہریرہ اور آپ کی بیوی اور آپ کا خادم یکے بعد دیگرے رات کے تین حصوں میں نوبت بنوبت جاگتے تھے یعنی ایک شخص نماز پڑھتا تھا پھر دوسرے کو جگاتا تھا اور خود آرام کرتا تھا پس وہ نماز پڑھتا تھا دوسرا آرام کرتا تھا اور تیسرے کو جگاتا تھا اور وہ نماز پڑھتا تھا یہ قصے تذکرۃ الحفاظ بخاری وغیرہ سے لکھے گئے ہیں سو ان سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر تم میں کسی کی یہ ستون ملک ہوتا تو وہ شخص اس بات کو برا جانتا کہ وہ ستون خراب کر دیا جائے سو کیونکر تم میں سے کوئی ایسا کام کرتا ہے کہ اپنی نماز خراب کرتا ہے ایسی نماز کہ وہ اللہ کے لیے ہے پس تم پورے طور پر باقاعدہ اپنی نماز ادا کرو اس لیے کہ بے شک اللہ نہیں قبول کرتا مگر کامل کو یعنی ناقص نماز اور تمام ناقص عبادتیں مقبول نہیں ہوتیں رواہ الطبرانی فی الاوسط حضرت عبداللہ بن عمرو سے جو صحابی ہیں روایت ہے کہ تحقیق ایک مرد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا افضل اعمال سے یعنی افضل عمل دین میں کون سا ہے بعد ایمان کے سو فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فرض

اس نے عرض کیا پھر اس کے بعد کونسا عمل افضل ہے فرمایا کہ نماز۔ اس نے عرض کیا پھر کون سا عمل افضل ہے فرمایا نماز یہ ارشاد تین بار فرمایا نماز کی فضیلت اس قدر تاکید سے نماز کے عظیم الشان ہونے کی وجہ سے آپ نے بیان فرمائی تاکہ لوگ اس کا خوب اہتمام کریں اور ضائع نہ ہونے دیں پھر جب غلبہ کیا اس نے آپ پر یعنی بار بار پوچھا کہ اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے۔ اور یہ سوال بظاہر چوتھی بار ہو گا تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد اللہ کے راستہ میں یعنی نماز کے بعد کافروں سے لڑنا اس لیے کہ خدا کا دین غالب ہو نہ اس لیے کہ مجھے کچھ نفع مال تعریف وغیرہ حاصل ہو اگرچہ مال وغیرہ مل جائے لیکن نیت یہ نہ ہونی چاہیے۔ سو یہ سب اعمال سے بعد فرض نماز کے افضل ہے اس مرد نے عرض کیا پھر یہ گذارش ہے کہ میرے والدین زندہ ہیں ان کے بارے میں کیا ارشاد ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں تجھے والدین سے بھلائی کرنے کا حکم کرتا ہوں یعنی ان سے نیکی کر اور ان کو تکلیف نہ پہنچا کہ ان کو تکلیف دینا حرام ہے اس قدر حق والدین کا فرض اور ضروری ہے کہ جس کام میں ان کو تکلیف ہو وہ نہ کرے۔ بشرطیکہ وہ کوئی ایسا کام نہ ہو جس کا درجہ والدین کے حق ادا کرنے سے بڑا ہو اور اس میں حق تعالی کی نافرمانی نہ ہو اور تکلیف سے مراد وہ تکلیف ہے جس کو شریعت نے تکلیف شمار کیا ہے۔ اور اس سے زیادہ حق ادا کرنا مستحب ہے ضرور نہیں خوب سمجھ لو۔ اس مسئلہ میں عام لوگ بڑی غلطی کرتے ہیں۔

اور اس کو مفصل طور پر رسالہ ازالۃ الرین عن حقوق الوالدین میں بیان کیا ہے اس مرد نے عرض کیا کہ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے میں البتہ ضرور جہاد کروں گا اور بے شک ضرور ان دونوں والد اور والدہ کو چھوڑ جاؤں گا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خوب جاننے والا ہے یعنی والدین کے ساتھ نیکی کرنے اور جہاد کرنے میں سے جس طرف تیری طبیعت راغب ہو اس کو کر۔ اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جہاد کا درجہ والدین کے ساتھ نیکی کرنے سے بڑھ کر ہے۔ اور بعضی حدیثوں میں بعد نماز فرض کے حقوق والدین کے ادا کرنے کا بڑا درجہ وارد ہوا ہے۔ اس کے بعد جہاد کا مرتبہ۔ سو جواب یہ ہے کہ یہاں جہاد سے حقوق والدین کے افضل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ حقوق والدین چونکہ بندوں کے حق ہیں جو بغیر معافی بندوں کے معاف نہیں ہو سکتے۔ اس اعتبار سے ان کا مرتبہ جہاد سے بڑھ کر ہے کہ اگر کوئی فرض جہاد ادا نہ کرے اور اس کا وقت نکل جائے تو توبہ کر لینے سے یہ گناہ معاف ہو جائے گا مگر حقوق العباد فقط توبہ سے معاف نہیں ہوتے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ جناب رسول مقبول کی خدمت میں مختلف قسم کے سائل حاضر ہوتے تھے اور آپ ہر شخص کو اس کی حالت کے موافق جواب دیتے تھے رواہ احمد و فیہ ابن لہیعۃ زنۃ فعیلۃ وہو ضعیف وقد حسن لہ الترمذی و بقیۃ رجالہ رجال الصحیح کذا فی مجمع الزوائد حضرت ابو ایوب انصاری  یہ صحابی ہیں مدینہ میں اول ان ہی کے مکان میں حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول فرمایا تھا جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تھے سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلعم فرماتے تھے کہ بے شک ہر نماز نمازی کے ان گناہوں کو جو اس نماز کے آگے ہیں ( رواہ احمد باسناد حسن) مطلب یہ ہے کہ ہر نماز پڑھنے سے وہ گناہ صغیرہ معاف ہو جاتے ہیں جو اس نماز سے دوسری نماز پڑھنے تک کرے۔

حضرت ابوامامہ باہلی صحابی سے روایت ہے کہ میں نے سنا ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے ایک فرض نماز دوسری نماز کے ساتھ مل کر مٹا دیتی ہے ان گناہوں کو جو اس نماز سے پہلے ہوئے یعنی اس نماز سے پہلے جو گناہ صغیرہ ہوئے وہ معاف ہو گئے۔ اسی طرح اور دوسری نماز تک جو گناہ صغیرہ ہوئے وہ اس سے معاف ہو گئے اور نماز جمعہ مٹا دیتی ہے ان گناہوں کو جو اس جمعہ سے پہلے ہوئے یہاں تک کہ دوسرا جمعہ پڑھے۔ اور بعضی حدیثوں میں اس سے آگے تین دن آگے تک گناہ معاف ہو جانا وارد ہے یعنی جمعہ کی نماز سے تین دن آگے کے گناہ صغیرہ معاف کیے جاتے ہیں اور روزہ ماہ رمضان کا مٹا دیتا ہے ان گناہوں کو جو اس رمضان سے پہلے ہوئے۔ یہاں تک کہ دوسرے رمضان کے روزے رکھے اور حج مٹا دیتا ہے ان گناہوں کو جو اس سے پہلے ہوئے یہاں تک کہ دوسرا حج کرے۔ پھر کہا راوی نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں جائز ہے کسی مسلمان عورت کو حج کرنا مگر ہمراہ خاوند کے یا ذی محرم کے (رواہ الطبرانی فی الکبیر وفیہ المفضل بن صدقۃ وہو متروک الحدیث) اگر کوئی کہے جس شخص سے گناہ صغیرہ نہ ہوں تو اس کو کیا فضیلت حاصل ہو گی۔ دوسرے یہ کہ نمازوں کے ادھر ادھر کے سب گناہ معاف ہوئے تو جمعہ وغیرہ سے کون سے گناہ معاف ہوں گے اب تو کوئی گناہ ہی نہ رہا جو صغیرہ ہو۔ جواب یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں درجے بلند ہوں گے۔

حضرت ابوامامۃ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال پانچوں نمازوں کی ایسی ہے جیسے میٹھے غیر کھاری پانی کی نہر جو جاری ہو تم میں سے کسی کے دروازے پر اور وہ نہائے اس میں روز مرہ پانچ بار سو کیا باقی رہے گا اس پر کچھ میل (رواہ الطبرانی فی الکبیر وفیہ عفیر بن معد ان وہو ضعیف جدا کذا فی مجمع الزوائد )حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شک اول وہ چیز کہ اس کا بندہ سے حساب لیا جائے گا روز قیامت وہ اس کی نماز ہے۔ پس اگر درست ہو گی حساب میں درست ہوں گے اس کے باقی اعمال اس لیے کہ نمازی کے نماز کے سوا باقی اعمال بھی نماز کی برکت سے درست ہو جاتے ہیں اور اگر خراب ہو گی تو خراب ہوں گے اس کے باقی اعمال پھر فرمائے گا حق تعالی دیکھو اے فرشتوں کیا میرے بندہ کی کچھ نفل نمازیں بھی نامہ اعمال میں ہیں۔ سو اگر ہوں گی اس کی کچھ نفل نمازیں تو ان نفلوں سے فرض نماز کی خرابی کو پور اکیا جائے گا۔ پھر باقی فرائض بھی اسی طرح حساب لیے جائیں گے اور نوافل سے کمی پوری کی جائے گی جیسے فرض روزہ نفل روزہ فرض صدقہ نفل صدقہ وغیرہ بسبب مہربانی اور رحمت اللہ کے یعنی یہ خدا کی رحمت ہے کہ فرض کو نفل سے پورا کیا جائے گا۔ ورنہ قاعدہ تو یہی چاہتا ہے کہ فرض نفل سے پورا نہ ہو۔ اور جب پورا نہ ہو تو عذاب دیا جائے۔ مگر سبحان اللہ کیا رحمت خداوندی ہے۔ اور جس کے فرائض درست نہ ہوں گے اور نوافل بھی نہ ہوں گے تو اسے عذاب دیا جائے گا۔ ہاں اگر خدائے تعالی رحم کر دے تو یہ دوسری بات ہے۔

(رواہ ابن عساکر بسند حسن کذا فی کنزالعمال آج )حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز افضل ان عبادتوں کی ہے جن کو اللہ نے بندوں پر مقرر فرمایا ہے۔ سو جو طاقت رکھے بڑھانے کی سو چاہیے کہ بڑھا دے یعنی کثرت سے پڑھے تاکہ ثواب کثرت سے ملے۔ حضرت عبادۃ بن الصامت سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس جبرئیل اللہ تبارک و تعالی کے پاس سے آئے پس کہا اے محمد تحقیق اللہ عزوجل فرماتا ہے بے شک میں نے تیری امت پر پانچ نمازیں فرض کر دیں جس شخص نے ان کو پورا ادا کیا ان کے وضو کے ساتھ اور ان کے وقتوں کے ساتھ اور ان کے رکوع کے ساتھ اور ان کے سجدہ کے ساتھ ہو گیا اس کے لیے ذمہ بسبب ان نمازوں کے اس بات کا کہ میں اس کو داخل کروں بسبب ان نمازوں کے جنت میں اور جو ملا مجھ سے اس حال میں کہ بے شک کمی کی ہے اس نے اس میں سے کچھ سو نہیں ہے اس کے لیے میرے پاس ذمہ اگر چاہوں اسے عذاب دوں اور اگر چاہوں اس پر رحم کروں۔ کنزالعمال حدیث میں ہے کہ جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا۔ پھر نماز پڑھی دو رکعت اس طرح کہ نہ بھولے اور سہو نہ ہو۔ ان دونوں میں بخش دے گا اللہ اس کے گذشتہ گناہ ( رواہ احمد و ابو داود  و الحاکم عن زید بن خالد الجہنی کذا فی الکنز) دو رکعت نماز پڑھنی اس اہتمام سے کہ اس میں سہو نہ ہو ممکن ہے اور سہولت سے ادا ہو سکتی ہے۔ غرض یہ ہے کہ غفلت سے نہ ہو۔ اکثر سہو غفلت سے ہی ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے مرد و عورت کی نماز نور پیدا کرتی ہے سو جو چاہے تم میں سے روشن کرے اپنے دل کو حدیث میں ہے کہ بے شک اللہ تعالی نے نہیں فرض کی کوئی چیز زیادہ بزرگ توحید یعنی خدا کو اس کی ذات و صفات و افعال میں یکتا ماننا اور نماز سے اور اگر اس مذکور سے افضل کوئی چیز ہوتی۔

البتہ فرض کرتا اس کو اپنے فرشتوں پر کوئی ان فرشتوں میں سے رکوع کر رہا ہے اور کوئی ان میں سے سجدہ کر رہا ہے۔ یعنی فرشتے چونکہ پاکیزہ اور اللہ کے مقرب بندے ہیں اور ان میں عبادت ہی کا مادہ رکھا گیا ہے جس سے ان کو عبادت سے بہت بڑا تعلق ہے سو اگر کوئی عبادت نماز سے افضل ہوتی تو ان پر فرض کی جاتی اور یہ بھی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجموعی ہیئت سے نماز جس طرح ہم پر فرض ہے اس طرح ملائکہ پر نہیں بلکہ اس نماز کے بعض اجزاء بعض ملائکہ پر فرض ہیں۔ سو ہماری کیسی خوش نصیبی ہے کہ وہ اجزاء نفیسہ عبادت کے جو ملائکہ کو تقسیم کیے گئے مجموعی ہیئت سے ہم کو عطا ہوئے سو اس نعمت کی بڑی قدر کرنی چاہیے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اپنی نماز میں موت کو یاد کر اس لیے کہ بے شک مرد یا عورت جب موت کو یاد کرے گا اپنی نماز میں البتہ لائق ہے وہ اس بات کے کہ اچھی نماز ادا کرے اور نماز پڑھ اس مرد کی جیسی نماز جو نہیں گمان کرتا ہے نماز پڑھنے کا سو اس نماز کے جسے ادا کر رہا ہے اور بچا تو اپنی ذات کو ایسے کام سے معذرت کی جاتی ہے یعنی ایسا کام نہ کر جس سے ندامت ہو اور معذرت کرنی پڑے( رواہ الدیلمی عن انس مرفوعا وحسنہ الحافظ ابن حجر ) حدیث میں ہے کہ افضل نماز وہ ہے کہ جس میں قیام طویل ہو یعنی قیام زیادہ ہو اور قرآن زیادہ پڑھا جائے( رواہ الطحاوی و سعید بن منصور ) حدیث میں ہے کہ اس کی نماز کامل نہیں ہوتی جو اپنی نماز میں عاجزی نہیں کرتا۔ تخشع کا لفظ جو حدیث میں ہے جس کا ترجمہ عاجزی سے کیا گیا۔ اصل یہ ہے کہ اس کے معنی سکون کے ہیں مگر چونکہ سکون کے ساتھ نماز پڑھنا بغیر عاجزی کے میسر نہیں ہو سکتا اس لیے عاجزی سے ترجمہ کیا گیا۔

کیونکہ یہ زیادہ مشہور ہے اور سکون بغیر عاجزی اس لیے میسر نہیں ہو سکتا کہ جب آدمی بے دھڑک اور بیباکی سے اٹھے بیٹھے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ ادھر ادھر نہ دیکھے بلا ضرورت ہلے جلے نہیں بلکہ زیادہ رہے گا اور جب عاجزی ہو گی تو ادب کے ساتھ بغیر ادھر ادھر دیکھے اچھی طرح نماز ادا کرے گا۔ حضرت علی سے بسند صحیح روایت ہے کہ آخر کلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ اہتمام رکھو نماز کا اور خدا س ڈرو لونڈی غلاموں کے بارے میں (کنزل العمال) یہ دونوں باتیں اس قدر اہتمام کے لائق تھیں کہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے روانگی کے وقت بھی اس کا اہتمام فرمایا اس لیے کہ نماز میں لوگ کوتاہی زیادہ کرتے ہیں۔ نیز لونڈی غلاموں نوکر بیوی بچوں کے تکلفاً دینے اور ان کو حقیر سمجھنے کو بھی معمولی بات خیال کرتے ہیں۔ پس مسلمانوں کو اس طرح بڑا اہتمام کرنا چاہیے اللہ پاک کے بعضے نیک اور بزرگ بندوں کو تو نماز سے اس قدر شوق تھا کہ حضرت منصور بن زاذان تابعی رضی اللہ تعالی عنہ کے حال میں لکھا ہے کہ آیت نکلنے سے عصر تک برابر نماز پڑھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ فرض تو اس درمیان میں فقط دو نمازیں تھیں۔ ظہر اور عصر باقی نفل پڑھتے تھے۔ پر بعد عصر مغرب تک سبحان اللہ پڑھتے رہتے تھے۔ پھر مغرب پڑھتے تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ اگر ان سے کہا جاتا کہ ملک الموت دروازے پر ہیں تو اپنے عمل میں کچھ زیادتی نہ فرما سکتے تھے یعنی اپنے دینی کاموں کو موت کے قریب ہونے سے بڑھا نہیں سکتے تھے اس لیے کہ بڑھا وہ سکتا ہے جو موت سے غافل ہو اور تمام وقت یاد الٰہی میں صرف نہ کرتا ہو۔ تو جب وہ موت کا نزدیک آنا سنے گا عمل میں ترقی کرے گا۔ اور جس کا کوئی وقت ہی خالی نہیں اور ہر وقت یاد حق میں مصروف ہے اور موت کو ہر وقت پاس ہی سمجھتا ہے سو وہ کس طرح ترقی کرے اور یہ عالم بھی بڑے تھے اور بڑے بڑے علماء نے ان سے حدیث حاصل کی ہے۔

اور حضرت مخصور بن المعتمر یہ بھی تابعی اور بڑے عالم اور پارسا ہیں۔ ان کے حال میں لکھا ہے کہ چالیس سال تک ان کا یہ حال رہا ہے کہ یہ دن کو روزہ رکھتے اور رات کو جاگتے تھے یعنی عبادت کرتے تھے اور تمام رات گناہوں کے عذاب کے خوف سے روتے تھے۔ اگر ان کو کوئی نماز پڑھتے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ ابھی مر جائیں گے یعنی اس قدر آہ و زاری و اہتمام سے نماز ادا کرتے تھے اور جب صبح ہوتی تو دونوں آنکھوں میں سرمہ لگاتے اور دونوں ہونٹوں کو آبدار یعنی تر کر لیتے اور سر میں تیل ڈالتے پس ان کی ماں ان سے فرماتیں کہ کیا تم نے کسی کو مار ڈالا ہے جو ایسی صورت بناتے ہو کہ رات کو عبادت کرنے اور رونے سے جو صورت ہو گئی اس کو بدلتے ہو سو عرض کرتے میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو میرے نفس نے کیا ہے یعنی نفس کو خواہش ہے یا اس کا احتمال ہے کہ یہ خواہش کرے کہ میری شہرت ہو۔ لوگوں میں عبادت کا چرچا ہو بزرگ سمجھیں اور صورت سے عبادت کرنا ثابت ہو جائے یا یہ مطلب کہ میرے نفس نے کچھ عبادت اچھی نہیں کی سو وہ کس شمار میں ہے اور میری صورت سے عبادت گزاری معلوم ہوتی ہے سو لوگ دیکھ کر دھوکہ میں پڑیں گے اور مجھے بزرگ سمجھیں گے۔ حالانکہ میں ایسا نہیں اس لیے صورت بدلتا ہوں اور یہ روتے روتے اندھے ہو گئے تھے۔ امیر عراق نے ان کو بلایا کہ ان کو کوفہ ایک شہر کا نام ہے ملک شام میں اس کا قاضی بنا دے انہوں نے انکار کیا تو ان کے بیڑیاں ڈالی گئیں پھر چھوڑ دیا گیا۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ دو مہینے مجبوری کو قاضی رہے یہ دونوں قصے تذکرۃ الحفاظ جلد اول میں ہیں صاحبو ذرا غور کرو کہ ان بزرگ کو خدا کی عبادت سے کیسی کچھ رغبت تھی اور دنیا سے کیسی نفرت تھی کہ حکومت کا عہدہ ان کو بغیر طلب اور بغیر کوشش کیے ملتا تھا جس میں بہت بڑی عزت اور آمدنی تھی اور جس کے لیے لوگ بڑی بڑی کوشش کرتے ہیں۔ مگر انہوں نے پرواہ نہ کی اور بیڑیاں ڈلوانی گوارہ کیں۔

مسلمان کو ایسا ہی ہونا چاہیے کہ بقدر ضرورت کھانے پہننے کا بندوبست کرے باقی وقت یاد الٰہی میں صرف کرے۔ حدیث میں ہے کہ جس نے بارہ رکعت نماز دن رات میں ایسی پڑھی جو فرض نہیں ہے یہاں سنت موکدہ مراد ہیں دو فجر کی چھ ظہر کی یعنی چار قبل ظہر اور دو بعد ظہر اور دو بعد مغرب اور دو بعد عشاء تو اللہ تعالی اس کے لیے ایک مکان جنت میں تیار کریں گے (رواہ فی الجامع الصغیر بسند صحیح) حدیث میں ہے جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان چھ رکعت پڑھیں اس طرح کہ ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی تو وہ بارہ برس کی نفل عبادت کی برابر ثواب میں کی جائیں گی۔ (رواہ فی الجامع الصغیر بسند ضعیف) یعنی ان چھ رکعات پڑھنے کا ثواب بارہ سال کی نفل عبادت کے برابر ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ جس نے دو رکعت نماز پڑھی تنہا جگہ میں جہاں نمازی کو اللہ کے سوا اور ان فرشتوں کے جو ہر وقت ساتھ رہتے ہیں اور پیشاب و پاخانہ و جماع کے وقت جدا ہو جاتے ہیں ان کے سوا کوئی اس نمازی کو نہیں دیکھتا لکھی جائے گی اس کے لیے نجات دوزخ سے۔ (رواہ الامام السیوطی بسند ضعیف) یعنی گناہ سے بچنے کی توفیق ہو جائے گی جس سے جہنم میں نہ جائے گا مگر پڑھتا رہے جب یہ برکت حاصل ہو گی۔ حدیث میں ہے جس نے چار رکعت چاشت اور چار رکعت سوائے سنت موکدہ کے قبل ظہر پڑھیں اس کے لیے جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا۔ ( رواہ الطبرانی باسناد حسن) حدیث میں ہے جو مغرب اور عشاء کے درمیان میں بیس رکعت نفل پڑھے تو اللہ تعالی اس کے لیے ایک مکان جنت میں بنائیں گے۔ ( رواہ الامام السیوطی باسناد ضعیف) حدیث میں ہے من صلی قبل العصر اربعا حرمہ اللہ علی النار یعنی جس نے نماز نفل پڑھی عصر سے پہلے چار رکعت حرام کر دے گا اس کو اللہ تعالی دوزخ پر (رواہ الطبرانی عن ابن عمرو مرفوعا باسناد حسن) مطلب یہ ہے کہ اس نماز کو ہمیشہ پڑھنے سے نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کی توفیق ہو گی جس کی برکت سے جہنم سے نجات ملے گی۔

مگر یہ ضرور ہے کہ عبادت اس قدر کرے جس کا نباہ ہمیشہ ہو سکے اگرچہ تھوڑی ہی ہو۔ یوں کبھی کسی مجبوری سے ناغہ ہو جائے وہ دوسری بات ہے۔ سو جب نوافل پڑھنا شروع کرے تو ہمیشہ اس کو نباہنا ضروری ہے۔ شروع کر کے چھوڑ دینا بہت بری بات ہے۔ اور شروع نہ کرنے سے یہ فعل زیادہ برا ہے۔ حدیث میں ہے رحم اللہ امرا صلے قبل العصر اربعا یعنی رحم کرے اللہ اس مرد عورت پر جس نے نماز پڑھی قبل عصر کے چار رکعت (رواہ الامام السیوطی باسناد صحیح) اے مسلمان بھائیو اور اے دینی بہنو اس حدیث کے مضمون پر فدا ہو جاؤ۔ دیکھو تھوڑی سی محنت میں کس قدر درجہ ملتا ہے کہ حضور سرور عالم کی دعا کی برکت اور گناہوں سے بچنے کی توفیق۔ اس کی جو کچھ بھی قدر کی جائے اور جس قدر بھی ایسی عبادت مقرر کرنے پر حق تعالی کا شکریہ ادا کیا جائے وہ کم ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا کسی خوش نصیب ہی کو میسر ہوتی ہے۔ دونوں وقت یعنی صبح و شام ہمارے نامہ اعمال حضرت رسول مکرم نبی معظم احمد مجتبے محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں جو شخص نیکی کرتا ہے اور آپ کی رغبت دلائی ہوئی عبادت بجا لاتا ہے اس سے آپ بہت خوش ہوتے ہیں اور آپ کی خوشنودی اور رضا مندی سے دونوں جہان میں رحمت اور چین میسر ہوتا ہے خوب کہا ہے

فان من جودک الدنیا وضرتہا

ومن علومک علم اللوح والقلم

یعنی آپ کی سخاوت اور بخشش میں تو دنیا اور اس کے مقابل یعنی آخرت موجود ہے اور آپ کے علوم میں لوح محفوظ یعنی جس میں قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے وہ لکھا ہوا ہے اس کا علم موجود ہے۔ غرض یہ ہے کہ آپ کی توجہ اور سخاوت سے دین و دنیا کی نعمتیں میسر آ سکتی ہیں۔ اور آپ کی تعلیم سے لوح محفوظ کا علم میسر ہو سکتا ہے اور اس علم کے میسر ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی فرمائی ہوئی حدیثوں میں غیبی اسرار موجود ہیں اور اللہ کے خاص بندوں کو منکشف ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ علاوہ ان اسرار کے حق تعالی کی عنایت اور آپ کی احادیث پڑھنے کی برکت اور اس پر عمل کرنے کے سبب اور غیبی بھید بھی طالبان حق پر کھل جاتے ہیں۔ خوب سمجھ لو اور عمل کرو۔ فقط پڑھنے سے بغیر عمل کچھ زیادہ فائدہ نہیں۔ اصل فائدہ تو پڑھنے سے اس پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رات کی نماز یعنی تہجد کی اپنے اوپر لازم کر لو۔ اگرچہ ایک ہی رکعت ہو ( رواہ الامام السیوطی بسند صحیح) مطلب یہ ہے کہ تہجد کی نماز اگرچہ تھوڑی ہی ہو مگر ضرور پڑھ لیا کرو اس لیے کہ اس کا ثواب بہت ہے گو فرض نہیں ہے اور یہ غرض نہیں کہ ایک رکعت پڑھ لو۔ اس لیے کہ ایک رکعت نماز کا پڑھنا درست نہیں کم ازکم دو رکعت پڑھے۔ حدیث میں ہے کہ رات کے قیام کو یعنی نماز تہجد کو اپنے ذمہ لازم کر لو اس لیے کہ وہ عادت ان نیکوں کی ہے جو تم سے پہلے تھے اور نزدیکی کرنے والی ہے اللہ تعالی کی طرف اور گناہ سے روکنے کا ذریعہ ہے اور مٹاتی ہے گناہوں (صغیرہ) کو ہٹانے والی ہے مرض کو جسم سے (رواہ السیوطی بسند صحیح) ذرا غور کرو کہ کس قدر نفع ہے اس نماز کے پڑھنے میں کہ ثواب بھی گناہوں کی معافی اور گناہوں سے روک دینا بھی اور جسمانی مرض کی شفا بھی۔ اور باطنی بیماریوں کی تو شفا ہے ہی۔

اس لیے کہ حدیث میں ہے خدا کا ذکر دلوں کی بیماری کے لیے شفا ہے اور نماز اعلی درجہ کا ذکر ہے اور کچھ دشوار بھی نہیں۔ تہجد کے وقت خاص طور پر دعا قبول ہوتی ہے ضرور پڑھنا چاہیے۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی ہے۔ رات بھر خدا کی عبادت کرتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پاک سے روایت فرماتے ہیں کہ حق تعالی فرماتے ہیں کہ اے ابن دم تو چار رکعت نفل پڑھ میرے لیے یعنی اخلاص سے اول دن میں تو میں تجھے تیرے کاموں میں کفایت کروں گا آخر تک ( رواہ الترمذی) وغیرہ یہ اشراق کی نماز کی فضیلت ہے اور اس کے پڑھنے کا طریقہ اصل کتاب بہشتی زیور میں تحریر ہو چکا ہے۔ دیکھو ثواب بھی ملتا ہے اور اللہ تعالی سب کاموں کو پورا بھی فرماتے ہیں۔ دین و دنیا کی نعمتیں میسر آتی ہیں۔ لوگ مصیبت میں ادھر ادھر مارے پھرتے ہیں۔ مخلوق کی خوشامد کرتے ہیں کاش کہ وہ حق تعالی کی طرف توجہ کریں اور اس کے بتلائے ہوئے وظیفے اور نمازیں پڑھیں تو دنیا کے کام بھی خوب درست ہو جائیں اور ثواب بھی میسر ہو اور مخلوق کی خوشامد کی ذلت سے بھی نجات ملے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ ہر قوم کا ایک پیشہ ہے جس سے وہ لوگ معاش حاصل کرتے ہیں اور ہمارے پیشہ تقوی اور توکل ہے۔ تقوی پرہیز گاری اور اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کو کہتے ہیں۔ اور توکل کے معنے ہیں خدا پر بھروسہ کرنا اور اس کا مفصل بیان ساتویں حصہ کے ضمیمہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالی۔ غرض یہ ہے کہ دینداری سے دنیا کی مشقتیں اور مصیبتیں جاتی رہتی ہیں۔

مسئلے

آدمی کے بال اگر اکھاڑے جائیں تو ان بالوں کا سر ناپاک ہوتا ہے بوجہ اس چکنائی کے جو اس میں لگی ہوتی ہے۔ (شامی) عیدین کی نماز جہاں واجب ہے وہاں کے سب مرد و عورت کو قبل نماز عیدین کے نماز فجر کے بعد کوئی نفل وغیرہ پڑھنا مکروہ ہے۔ (بحر(رالرائق)

حالت جنابت میں ناخن کاٹنا اور ناف کے نیچے کے یا اور کسی مقام کے بال دور کرنا مکروہ ہے (عالمگیری مصطفائی جلد ص)

نابالغ بچوں کو نماز وغیرہ ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے اور جو ان کی تعلیم کرے اسے تعلیم کا ثواب ملتا ہے۔

جن اوقات میں نماز پڑھنا مکروہ ہے ان وقتوں میں اگر قرآن مجید کی تلاوت کرے تو مکروہ نہیں ہے۔ یا بجائے تلاوت کے درود شریف پڑھے یا ذکر کرے۔ (صغیری مجتبائی ص)

اگر نماز میں پہلی رکعت میں کسی سورت کا کچھ حصہ پڑھے اور دوسری رکعت میں اس سورۃ کا باقی حصہ پڑھے تو بلا کراہت درست ہے۔ اور اسی طرح اگر اول رکعت میں کسی سورت کا درمیانی حصہ یا ابتدائی حصہ پڑھے پھر دوسری رکعت میں کسی دوسری سورۃ کا درمیانی یا ابتدائی حصہ یا کوئی پوری چھوٹی سورت پڑھے تو بلا کراہت درست ہے۔ ( صغیری ص) مگر اس عادت کا ڈالنا خلاف اولی ہے بہتر ہے کہ ہر رکعت میں مستقل سورت پڑھے۔

تراویح میں قرآن پڑھتے وقت کوئی آیت یا سورت غلطی سے چھوٹ جائے اور اس آیت یا سورت کے آگے پڑھنے لگے اور پھر یاد آئے کہ فلاں آیت یا سورت چھوٹ گئی تو مستحب یہ ہے کہ چھوٹی ہوئی آیت یا سورت کو پڑھے۔ پھر جس قدر قرآن شریف چھوٹ جانے کے بعد پڑھ لیا تھا اس کو دوبارہ پڑھے تاکہ قرآن مجید با ترتیب ختم ہو ( عالمگیری مصطفائی آج ص) اور چونکہ ایسا کرنا مستحب ہی ہے لہذا اگر کسی شخص نے بوجہ اس کے کہ بہت زیادہ پڑھنے کے بعد یاد آیا تھا کہ فلاں جگہ کچھ رہ گیا۔ اور اس وجہ سے وہاں سے یہاں تک کل کا پڑھنا گراں ہے۔ اس لیے فقط اسی رہے ہوئے کو پڑھ کر پھر آگے سے پڑھنا شروع کر دیا تب بھی کچھ مضائقہ نہیں۔

مرے وقت پیشانی پر پسینہ آنا اور آنکھوں سے پانی بہنا اور ناک کے نتھنوں کے پردہ کا کشادہ ہو جانا اچھی موت کی علامت ہے اور فقط پیشانی پر پسینہ آنا بھی اچھی موت کی نشانی ہے( تذکرۃ الموتی والقبور از جامع ترمذی ) وغیرہ

راستوں کی کیچڑ اور ناپاک پانی معاف ہے بشرطیکہ اس میں نجاست کا اثر معلوم نہ ہو۔ (مراقی الفلاح۔)

مستعمل پانی یعنی ایسا پانی کہ جس سے کسی بے وضو نے وضو کیا ہو یا جس سے کسی نہانے کی حاجت والے نے غسل کیا ہو یا جس سے کسی باوضو شخص نے ثواب کے لیے پھر وضو کیا ہو یا جس سے کوئی شخص بلا غسل واجب ہونے کے نہایا ہو ثواب کے لیے مثلاً جمعہ کے دن محض ثواب کے لیے نہایا ہو حالانکہ اسے نہانے کی حاجت نہ تھی سو ایسے پانی سے وضو غسل جائز نہیں۔ اور ایسے پانی کا پینا اور کھانے کی چیزوں میں استعمال کرنا مکروہ ہے(شامی) یہ جو بیان ہوا کہ نہانے کی حاجت والے نے غسل کیا ہو یہ جب ہے کہ نہانے والے کے بدن پر نجاست حقیقیہ نہ لگی ہو اور جو لگی ہو تو اس کا دھوون ناپاک ہے اور اس کا پینا اور کھانے کی چیزوں میں استعمال حرام ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔