مرنے کا شرعی دستور العمل

نزع کے وقت سورہ یسین پڑھو اور قریب موت داہنی کروٹ پر قبلہ رخ لٹاؤ کہ مسنون ہے جبکہ مریض کو تکلیف نہ ہو ورنہ اس کے حال پر چھوڑ دو۔ اور چت لٹانا بھی جائز ہے کہ پاؤں قبلہ کی طرف ہوں اور سر کسی قدر اونچا کر دیا جائے اور پاس بیٹھنے والے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کسی قدر بلند آواز سے پڑھتے رہیں۔ میت کو کلمہ پڑھنے کے لیے کہیں نہیں۔ کھں ہ وہ ضد میں منع کر دے۔ مرنے پر ایک چوڑی پٹی لے کر اور تھوڑی کے نیچے کو نکال کر سر پر لا کر گرہ دے دو اور آنکھیں بند کر دو۔ اور پیروں کے انگوٹھے ملا کر دھجی سے باندہ دو۔ اور ہاتھ داہنے بائیں رکھو۔ سینے پر نہ رہیں۔ اور لوگوں کو مرنے کی خبر کر دو۔ اور دفن میں بہت جلدی کرو۔ سب سے پہلے قبر کا بندوبست کرو اور کفن دفن کے لیے سامان ذیل کی فراہمی کر لو جس کو اپنے اپنے موقعہ پر صرف کرو۔ تفصیل اس کی یہ ہے۔ گھڑے دو عدد اگر گھر میں برتن موجود ہوں تو کورے کی حاجت نہیں لوٹا اگر موجود ہو تو حاجت نہیں تختہ غسل کا اکثر مساجد میں رہتا ہے۔ لوبان ایک تولہ۔ روئی آدھی چھٹانک۔ گل خیرو ایک چھٹانک کافور چھ ماشہ۔ تختہ یا لکڑی برائے پٹا و قبر۔ بقدر پیمائش قبر۔ بوریا ایک عدد بقدر قبر۔ کفن جس کی ترکیب مرد کے لیے یہ ہے کہ مردے کے قد کے برابر ایک لکڑی لو۔ اور اس میں ایک نشان کندھے کے مقابل لگا لو اور ایک تاگہ سینے کے مقابل رکھ کر جسم کی گولائی میں کو نکالو کہ دونوں سرے اس تاگے کے دونوں طرف کی پسلیوں پر پہنچ جائیں اور اس کو وہاں سے توڑ کر رکھ لو پھر ایک کپڑا لو جس کا عرض اسی تاگے کے برابر یا قریب برابر کے ہو۔ اگر عرض اس قدر نہ ہو تو اس میں جوڑ لگا کر پورا کر لو۔ اور اس لکڑی کے برابر ایک چادر پھاڑ لو۔ اس کو ازار کہتے ہیں۔

اسی طرح دوسری چادر پھاڑو جو عرض میں تو اسی قدر ہو البتہ طول میں ازار سے چار گرہ زیادہ ہو اس کو لفافہ کہتے ہیں پھر ایک کپڑا لو جس کا عرض بقدر چوڑائی جسم مردہ کے ہو اور لکڑی کے نشان سے اخیر تک جس قدر طول ہے اس کا دوگنا پھاڑ لو اور دونوں سرے کپڑے کے ملا کر اتنا چاک کھولو کہ سر کی طرف سے گلے میں جائے اس کو قمیص یا کفنی کہتے ہیں عورت کے لیے یہ کپڑے تو ہیں ہی اس کے علاوہ دو اور ہیں ایک سینہ بند دوسرے سربند جسے اوڑھنی کہتے ہیں۔ سینہ بند زیر بغل سے گھٹنے تک اور تاگے مذکور کے بقدر چوڑا۔ سربند نصف ازار سے تین گرہ زیادہ لمبا اور بارہ گرہ چوڑا۔ یہ تو کفن ہوا۔ اور کفن مسنون اسی قدر ہے اور بعض چیزیں ان کے متعلقات سے ہیں جن کی تفصیل ذیل میں ہے

تہبند بدن کی موٹائی سے تین گرہ زیادہ۔ بڑے آدمی کے لیے سوا گز طول کافی ہے اور عرض میں ناف سے پنڈلی تک چودہ گرہ عرض کافی ہے۔ یہ دو ہونے چاہئیں۔ دستانہ چھ گرہ طول اور تین گرہ عرض ہو بقدر پنجہ دست بنا لیں یہ بھی دو عدد ہوں۔ چادر عورت کے گہوارہ کی جو بڑی عورت کے لیے ساڈھے تین گز طول اور دو گز عرض کافی ہے۔

تنبیہ: کفن اور اس کے متعلقات کا بندوبست بھی گھڑوں وغیرہ کے ساتھ کر دیں

تنبیہ: اب مناسب ہے کہ بڑے شخص کے کفن کو یکجائی طور پر لکھ دیا جائے تاکہ اور آسانی ہو

کیفیت

اندازہ پیمایش

عرض

طول

نام پارچہ

نمبرشمار

چودہ یا پندرہ یا سولہ گرہ عرض کا کپڑا ہو تو ڈیڑھ پاٹ میں ہو گا سر سے پاؤں تک سوا گزر سے ڈیڑھ گز تک اڑھائی گز ازار

1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ازار سے چار گرہ زیادہ

//

پونے تین گز

لفافہ

2

چودہ گرہ یا ایک گز کے عرض کی تیار ہوتی ہے دو برابر حصہ کر کے اور چاک طول کر گلے میں ڈالتے ہیں کندھے سے نصف ساق تک ایک گز اڑھائی گز تا پونے تین گز قمیص یا کفنی 3 بغل سے پنڈلیوں تک باندھا جاتا ہے زیر بغل سے سلق تک سوا گز دو گز سینہ بند 4

سر کے بال کے دو حصے کر کے اور اس میں لپیٹ کر دائیں یا بائیں جانب سینہ پر رکھے جاتے ہیں جہاں تک جائے بارہ گرہ ڈیڑھ گز سربند 5

تنبیہ : تخمیناً مرد کے کفن مسنون میں ایک گز عرض کا کپڑا دس گز صرف ہوتا ہے اور عورت کے لیے مع چادر گہوارہ ساڑھے اکیس گز اور تہبند اور دستانہ اس سے جدا ہیں۔ اور بچہ کا کفن اس کے مناسب حال مثل سابق لے لو۔ فقط

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔