نذر کے روزے کا بیان

مسئلہ۔ جب کوئی روزہ کی نذر مانے تو اس کا پورا کرنا واجب ہے اگر نہ رکھے گی تو گنہگار ہو گی۔

مسئلہ۔ نذر دو طرح کی ہے ایک تو یہ کہ دن تاریخ مقرر کر کے نذر مانی کہ یا اللہ اگر آج فلاں کام ہو جائے تو کل ہی تیرا روزہ رکھوں گی یا یوں کہا کہ یا اللہ میری فلاں مراد پوری ہو جائے تو پرسوں جمعہ کے دن روزہ رکھوں گی ایسی نذر میں اگر رات سے روزہ کی نیت کرے تو بھی درست ہے اور اگر رات سے نیت نہ کی تو دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے پہلے نیت کر لے یہ بھی درست ہے نذر ادا ہو جائے گی۔

مسئلہ۔ جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی نذر مانی اور جب جمعہ آیا تو بس اتنی نیت کر لی کہ آج میرا روزہ ہے یہ مقرر نہیں کیا کہ یہ نذر کا روزہ ہے یا کہ نفل کی نیت کر لی تب بھی نذر کا روزہ ادا ہو گیا۔ البتہ اس جمعہ کو اگر قضا روزہ رکھ لیا اور نذر کا روزہ رکھنا یاد نہ رہا یا یاد تو تھا مگر قصداً قضا کا روزہ رکھا تو نذر کا روزہ ادا نہ ہو گا بلکہ قضا کا روزہ ہو جائے گا نذر کا روزہ پھر رکھے۔

مسئلہ۔ اور دوسری نذر یہ ہے کہ دن تاریخ مقرر کر کے نذر نہیں مانی بس اتنا ہی کہا یا اللہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے تو ایک روزہ رکھوں گی یا کسی کام کا نام نہیں لیا ویسے ہی کہہ دیا کہ پانچ روزے رکھوں گی ایسی نذر میں رات سے نیت کرنا شرط ہے اگر صبح ہو جانے کے بعد نیت کی تو نذر کا روزہ نہیں ہوا بلکہ وہ روزہ نفل ہو گیا۔


مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔