نفل روزے کا بیان

مسئلہ 1۔ نفل روزے کی نیت اگر یہ مقرر کر کے کرے کہ میں نفل کا روزہ رکھتی ہوں تو بھی صحیح ہے اور اگر فقط اتنی نیت کرے کہ میں روزہ رکھتی ہوں تب بھی صحیح ہے۔

مسئلہ 2۔ دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے تک نفل کی نیت کر لینا درست ہے تو اگر دس بجے دن تک مثلاً روزہ رکھنے کا ارادہ نہ تھا لیکن ابھی تک کچھ کھایا پیا نہیں۔ پھر جی میں آ گیا اور روزہ رکھ لیا تو بھی درست ہے۔

مسئلہ 3۔ رمضان شریف کے مہینے کے سوا جس دن چاہے نفل کا روزہ رکھے جتنے زیادہ رکھے گی زیادہ ثواب پائے گی۔ البتہ عید کے دن اور بقر عید کی دسویں گیارہویں بارہویں اور تیرہویں سال بھر میں فقط پانچ دن روزے رکھنے حرام ہیں اس کے سوا سب روزے درست ہیں۔

مسئلہ 4۔ اگر کوئی شخص عید کے دن روزہ رکھنے کی منت مانے تب بھی اس دن کا روزہ درست نہیں۔ اس کے بدلے کسی اور دن رکھ لیے۔

مسئلہ 5۔ اگر کسی نے یہ منت مانی کہ میں پورے سال کے روزے رکھوں گی سال میں کسی دن کا روزہ بھی نہ چھوڑوں گی تب بھی یہ پانچ روزے نہ رکھے باقی سب رکھ لے پھر ان پانچ روزوں کی قضا رکھ لے۔

مسئلہ 6۔ نفل کا روزہ نیت کرنے سے واجب ہو جاتا ہے۔ سو اگر صبح صادق سے پہلے یہ نیت کی کہ آج میرا روزہ ہے پھر اس کے بعد توڑ دیا تو اب اس کی قضا رکھے۔

مسئلہ 7۔ کسی نے رات کو ارادہ کیا کہ میں کل روزہ رکھوں گی لیکن پھر صبح صادق ہونے سے پہلے ارادہ بدل گیا اور روزہ نہیں رکھا تو قضا واجب نہیں۔

مسئلہ 8۔ بے شوہر کی اجازت کے نفل روزہ رکھنا درست نہیں اگر بے اس کی اجازت روزہ رکھ لیا تو اس کے تڑوانے سے توڑ دینا درست ہے پھر جب وہ کہے تب اس کی قضاء رکھے۔

مسئلہ 9۔ کسی کے گھر مہمان آ گئی یا کسی نے دعوت کی تھی اور کھانا نہ کھانے سے اس کا جی برا ہو گا دل شکنی ہو گی تو اس کی خاطر سے نفل روزہ توڑ دینا درست ہے اور مہمان کی خاطر سے گھر والی کو بھی توڑ دینا درست ہے۔

مسئلہ 10۔ کسی نے عید کے دن نفل روزہ رکھ لیا اور نیت کر لی تب بھی توڑ دے اور اس کی قضا رکھنا بھی واجب نہیں۔

مسئلہ 11۔ محرم کی دسویں تاریخ روزہ رکھنا مستحب ہے حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو کوئی یہ روزہ رکھے اس کے گذرے ہوئے ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے۔ صرف دسویں کو روزہ رکھنا مکروہ ہے۔

مسئلہ 12۔ اسی طرح بقر عید کی نویں تاریخ روزہ رکھنے کا بھی بڑا ثواب ہے اس سے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اگر شروع چاند سے نویں تک برابر روزہ رکھے تو بہت ہی بہتر ہے۔

مسئلہ 13۔ شب برات کی پندرہویں اور عید کے چھ دن نفل روزہ رکھنے کا بھی اور نفلوں سے زیادہ ثواب ہے۔

مسئلہ 14۔ اگر ہر مہینے کی تیرہویں چودہویں پندرہویں تین دن روزہ رکھ لیا کرے تو گویا اس نے سال بھر برابر روزے رکھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ تین روزے رکھا کرتے تھے ایسے ہی ہر دو شنبہ و جمعرات کے دن بھی روزہ رکھا کرتے تھے اگر کوئی ہمت کرے تو ان کا بھی بہت ثواب ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔