جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور جن سے ٹوٹ جاتا ہے

مسئلہ 1۔ اگر روزہ دار بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے یا بھولے سے خاوند سے ہمبستر ہو جائے تو اس کا روزہ نہیں گیا۔ اگر بھول کر پیٹ بھر بھی کھا پی لے تب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر بھول کر کئی دفعہ کھا پی لیا تب بھی روزہ نہیں گیا۔

مسئلہ۔ ایک شخص کو بھول کر کچھ کھاتے پیتے دیکھا تو اگر وہ اس قدر طاقت دار ہے کہ روزہ سے زیادہ تکلیف نہیں ہوتی تو روزہ یاد دلا دینا واجب ہے اور اگر کوئی نا طاقت ہو کہ روزہ سے تکلیف ہوتی ہے تو اس کو یاد نہ دلائے کھانے دے۔

مسئلہ 4۔ دن کو سرمہ لگانا تیل لگانا خوشبو سونگھنا درست ہے اس سے روزہ میں کچھ نقصان نہیں آتا چاہے جس وقت ہو۔ بلکہ اگر سرمہ لگانے کے بعد تھوک میں یا رینٹھ میں سرمہ کا رنگ دکھائی دے تو بھی روزہ نہیں گیا نہ مکروہ ہوا۔

مسئلہ 6۔ حلق کے اندر مکھی چلی گئی یا آپ ہی آپ دھواں چلا گیا یا گرد و غبار چلا گیا تو روزہ نہیں گیا البتہ اگر قصداً ایسا کیا تو روزہ جاتا رہا۔

مسئلہ 7۔ لوبان وغیرہ کوئی دھونی سلگائی پھر اس کو اپنے پاس رکھ کر سونگھا تو روزہ جاتا رہا۔ اسی طرح حقہ پینے سے بھی روزہ جاتا رہتا ہے۔ البتہ اس دھوئیں کے سوا عطر کیوڑھ گلاب پھول وغیرہ اور خوشبو سونگھنا جس میں دھواں نہ ہو درست ہے۔

مسئلہ 8۔ دانتوں میں گوشت کا ریشہ اٹکا ہوا تھا یا ڈلی کا دھرا وغیرہ کوئی اور چیز تھی اس کو خلال سے نکال کر کھا گئی لیکن منہ سے باہر نہیں نکالا آپ ہی آپ حلق میں چلی گئی تو دیکھو اگر چنے سے کم ہے تب تو روزہ نہیں گیا اور اگر چنے کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو جاتا رہا البتہ اگر منہ سے باہر نکال لیا تھا پھر اس کے بعد نگل گئی تو ہر حال میں روزہ ٹوٹ گیا چاہے وہ چیز چنے کی برابر ہو یا اس سے بھی کم ہو دونوں کا ایک حکم ہے۔

مسئلہ 9۔ تھوک نگلنے سے روزہ نہیں جاتا چاہے جتنا ہو۔

مسئلہ۔ اگر پان کھا کر خوب کلی غرغرہ کر کے منہ صاف کر لیا لیکن تھوک کی سرخی نہیں گئی تو اس کا کچھ حرج نہیں روزہ ہو گیا (ق)

مسئلہ 29۔ کسی نے بھولے سے کچھ کھا لیا اور یوں سمجھی کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اس وجہ سے پھر قصداً کچھ کھا لیا تو اب روزہ جاتا رہا فقط قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔

مسئلہ 30۔ اگر کسی کو قے ہوئی اور وہ سمجھی کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اس گمان پر پھر قصداً کھا لیا اور روزہ توڑ دیا تو بھی قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔

مسئلہ 31۔ اگر سرمہ لگایا یا فصد لی یا تیل ڈالا پھر سمجھی کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اور پھر قصداً کھا لیا تو قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں

مسئلہ 32۔ رمضان کے مہینے میں اگر کسی کا روزہ اتفاقا ٹوٹ گیا تو روزہ ٹوٹنے کے بعد بھی دن میں کچھ کھانا پینا درست نہیں ہے سارے دن روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے۔

مسئلہ 33۔ کسی نے رمضان میں روزہ کی نیت ہی نہیں کی اس لیے کھاتی پیتی رہی اس پر کفارہ واجب نہیں۔ کفارہ جب ہے کہ نیت کر کے توڑ دے۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔