سحری کھانے اور افطار کرنے کا بیان

مسئلہ1۔ سحری کھانا سنت ہے اگر بھوک نہ ہو اور کھانا نہ کھائے تو کم سے کم دو تین چھوہارے ہی کھا لے۔ یا کوئی اور چیز تھوڑی بہت کھا لے کچھ نہ سہی تو تھوڑا سا پانی ہی پی لے۔

مسئلہ3۔ اگر کسی نے سحری نہ کھائی اور اٹھ کر ایک آدھ پان کھا لیا تو بھی سحری کھانے کا ثواب مل گیا۔

مسئلہ4۔ سحری میں جہاں تک ہو سکے دیر کر کے کھانا بہتر ہے لیکن اتنی دیر نہ کرے کہ صبح ہونے لگے اور روزہ میں شبہ پڑ جائے۔

مسئلہ 5۔ اگر سحری بڑی جلدی کھا لی مگر اس کے بعد پان تمباکو چائے پانی دیر تک کھاتی پیتی رہی جب صبح ہونے میں تھوڑی دیر رہ گئی تب کلی کر ڈالی تب بھی دیر کر کے کھانے کا ثواب مل گیا اور اس کا بھی وہی حکم ہے جو دیر کر کے کھانے کا حکم ہے۔

مسئلہ 6۔ اگ رات کو سحری کھانے کے لیے آنکھ نہ کھلی سب کے سب سو گئے تو بے سحری کھائے صبح کا روزہ رکھو سحری چھوٹ جانے سے روزہ چھوڑ دینا بڑی کم ہمتی کی بات اور بڑا گناہ ہے۔

مسئلہ 7۔ جب تک صبح نہ ہو اور فجر کا وقت نہ آئے جس کا بیان نمازوں کے وقتوں میں گزر چکا ہے تب تک سحری کھانا درست ہے اس کے بعد درست نہیں۔

مسئلہ 8۔ کسی کی آنکھ دیر میں کھلی اور یہ خیال ہوا کہ ابھی رات باقی ہے اس گمان پر سحری کھالی پھر معلوم ہوا کہ صبح ہو جانے کے بعد سحری کھائی تھی تو روزہ نہیں ہوا قضا رکھے اور کفارہ واجب نہیں لیکن پھر بھی کچھ کھائے پئے نہیں روزہ داروں کی طرح رہے۔ اسی طرح اگر سورج ڈوبنے کے گمان سے روزہ کھول لیا پھر سورج نکل آیا تو روزہ جاتا رہا اس کی قضا کرے کفارہ واجب نہیں اور جب تک سورج نہ ڈوب جائے کچھ کھانا پینا درست نہیں۔

مسئلہ9۔ اگر اتنی دیر ہو گئی کہ صبح ہو جانے کا شبہ پڑ گیا تو اب کچھ کھانا مکروہ ہے اور اگر ایسے وقت کچھ کھا لیا یا پانی پی لیا تو برا کیا اور گناہ ہوا۔ پھر اگر معلوم ہو گیا کہ اس وقت صبح ہو گئی تھی تو اس روزہ کی قضا رکھے اور اگر کچھ نہ معلوم ہو شبہ ہی شبہ رہ جائے تو قضا رکھنا واجب نہیں ہے لیکن احتیاط کی بات یہ ہے کہ اس کی قضا رکھ لے۔

مسئلہ10۔ مستحب یہ ہے کہ جب سورج یقیناً ڈوب جائے تو ترت روزہ کھول ڈالے دیر کر کے روزہ کھولنا مکروہ ہے۔

مسئلہ11۔ بدلی کے دن ذرا دیر کر کے روزہ کھولو جب خوب یقین ہو جائے کہ سورج ڈوب گیا ہو گا تب افطار کرو اور صرف گھڑی گھڑیاں وغیرہ پر کچھ اعتماد نہ کرو جب تک کہ تمہارا دل گواہی نہ دے دے کیونکہ گھڑی شاید کچھ غلط ہو گئی ہو بلکہ اگر کوئی اذان بھی کہہ دے لیکن ابھی وقت آنے میں کچھ شبہ ہے تب بھی روزہ کھولنا درست نہیں۔

مسئلہ12۔ چھوہارے سے روزہ کھولنا بہتر ہے اور اور کوئی میٹھی چیز ہو اس سے کھولے وہ بھی نہ ہو تو پانی سے افطار کرے بعضی عورتیں اور بعضے مرد نمک کی کنکری سے افطار کرتے ہیں اور اس میں ثواب سمجھتے ہیں یہ غلط عقیدہ ہے۔

مسئلہ13۔ جب تک سورج کے ڈوبنے میں شبہ رہے تب تک افطار کرنا جائز نہیں۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔