اعتکاف کا بیان

رمضان شریف کی بیسویں تاریخ کے دن چھپنے سے ذرا پہلے سے رمضان کی انتیس یا تیس تاریخ یعنی جس دن عید کا چاند نظر آ جائے اس تاریخ کے دن چھپنے تک اپنے گھر میں جہاں نماز پڑھنے کے لیے جگہ مقرر کر رکھی ہو اس جگہ پر پابندی سے جم کر بیٹھے اس کو اعتکاف کہتے ہیں اس کا بڑا ثواب ہے اگر اعتکاف شروع کرے تو فقط پیشاب پاخانہ یا کھانے پینے کی ناچاری سے تو وہاں سے اٹھنا درست ہے اور اگر کوئی کھانا پانی دینے والا ہو تو اس کے لیے بھی نہ اٹھے۔ ہر وقت اسی جگہ رہے اور وہیں سو وے اور بہتر یہ ہے کہ بیکار نہ رہے قرآن پڑھتی رہے نفلیں اور تسبیحیں جو توفیق ہو اس میں لگی رہے اور اگر حیض یا نفاس آ جائے تو اعتکاف چھوڑ دے اس یں  درست نہیں اور اعتکاف میں مرد سے ہمبستر ہونا لپٹنا چمٹنا بھی درست نہیں۔


مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔