عقیقے کا بیان

مسئلہ۔ جس کے کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا ہو تو بہتر ہے کہ ساتویں دن اس کا نام رکھ دے اور عقیقہ کر دے۔ عقیقہ کر دینے سے بچہ کی سب الا بلا دور ہو جاتی ہے اور فتنوں سے حفاظت رہتی ہے۔

مسئلہ۔ عقیقہ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر لڑکا ہو تو دو بکری یا دو بھیڑ اور لڑکی ہو تو ایک بکری یا بھیڑ ذبح کرے یا قربانی کی گائے میں لڑکے کے واسطے دو حصے اور لڑکی کے واسطے ایک حصہ لے۔ اور سر کے بال منڈوا دے اور بال کے برابر چاندی یا سونا تول کر خیرات کر دے اور بچہ کے سر میں اگر دل چاہے تو زعفران لگا دے۔

مسئلہ۔ اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرے تو جب کرے ساتویں دن ہونے کا خیال کرنا بہتر ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہوا ہو اس سے ایک دن پہلے عقیقہ کر دے۔ یعنی اگر جمعہ کو پیدا ہوا ہو تو جمعرات کو عقیقہ کر دے اور اگر جمعرات کو پیدا ہوا ہو تو بدھ کو کرے چاہے جب کرے وہ حساب سے ساتواں دن پڑے گا۔

مسئلہ۔ یہ جو دستور ہے کہ جس وقت بچہ کے سر پر استرا رکھا جائے اور نائی سر مونڈنا شروع کرے فورا اسی وقت بکری ذبح ہو۔ یہ محض مہمل رسم ہے۔ شریعت سے سب جائز ہے چاہے سر مونڈنے کے بعد ذبح کرے یا ذبح  کر لے تب سر مونڈے۔ بے وجہ ایسی باتیں تراش لینا برا ہے۔

مسئلہ۔ جس جانور کی قربانی جائز نہیں اس کا عقیقہ بھی درست نہیں اور جس کی قربانی درست ہے اس کا عقیقہ بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ عقیقہ کا گوشت چاہے کچا تقسیم کرے چاہے پکا کر بانٹے چاہے دعوت کر کے کھلا دے سب درست ہے۔

مسئلہ۔ عقیقہ کا گوشت باپ دادا نانا نانی دادی وغیرہ سب کو کھانا درست ہے۔

مسئلہ۔ کسی کو زیادہ توفیق نہیں اس نے لڑکے کی طرف سے ایک ہی بکری کا عقیقہ کیا تو اس کا بھی کچھ حرج نہیں ہے۔ اور اگر بالکل عقیقہ ہی نہ کرے تو بھی کچھ حرج نہیں۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔