دین سے پھر جانے کا بیان

مسئلہ۔ اگر خدانخواستہ کوئی اپنے ایمان اور دین سے پھر گئی تو تنہ دن کی مہلت دی جائے گی اور جو اس کو شبہ پڑا ہو اس شبہ کا جواب دے دیا جائے گا۔ اگر اتنی مدت میں مسلمان ہو گئی تو خیر نہیں تو ہمیشہ کے لیے قید کر دیں گے جب توبہ کرے گی تب چھوڑیں گے۔

مسئلہ۔ جب کسی نے کفر کا کلمہ زبان سے نکالا تو ایمان جاتا رہا اور جتنی نیکیاں اور عبادت اس نے کی تھی سب اکارت گئی نکاح ٹوٹ گیا۔ اگر فرض حج کر چکی ہے تو وہ بھی ٹوٹ گیا۔ اب اگر توبہ کر کے پھر مسلمان ہوئی تو اپنا نکاح پھر سے پڑھوائے اور پھر دوسرا حج کرے۔

مسئلہ۔ اسی طرح اگر کسی کا میاں توبہ توبہ بے دین ہو جائے تو بھی نکاح جاتا رہا اب وہ جب تک توبہ کر کے پھر سے نکاح نہ کرے عورت اس سے کچھ واسطہ نہ رکھے۔ اگر کوئی معاملہ میاں بی بی کا سوا تو عورت کو بھی گناہ ہو گا اور اگر وہ زبردستی کرے تو اس کو سب سے ظاہر کر دے شرمائے نہیں دین کی بات میں کیا شرم۔

مسئلہ۔ جب کفر کا کلمہ زبان سے نکالا تو ایمان جاتا رہا۔ اگر ہنسی دل لگی میں کفر کی بات کہے اور دل میں نہ ہو تب بھی یہی حکم ہے جیسے کسی نے کہا کیا خدا کو اتنی قدرت نہیں جو فلانا کام کر دے۔ اس کا جواب دیا ہاں نہیں ہے تو اس کہنے سے کافر ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی نے کہا اٹھو نماز پڑھو جواب دیا کون اٹھک بیٹھک کرے یا کسی نے روزہ رکھنے کو کہا تو جواب دیا کون بھوکا مرے یا کہا روزہ وہ رکھے جس کے گھر کھانا نہ ہو یہ سب کفر ہے۔

مسئلہ۔ اس کو کوئی گناہ کرتے دیکھ کر کسی نے کہا خدا سے ڈرتی نہیں جواب دیا ہاں نہیں ڈرتی تو کافر ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی کو برا کام کرتے دیکھ کر کہا کیا تو مسلمان نہیں ہے جو اییز بات کرتی ہے جواب دیا ہاں نہیں ہوں تو کافر ہو گئی اگر ہنسی میں کہا ہو تب بھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ۔ کسی نے نماز پڑھنا شروع کی اتفاق سے اس پر کوئی مصیبت پڑ گی اس لیے کہا کہ یہ سب نماز ہی کی نحوست ہے تو کافر ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی کافر کی کوئی بات اچھی معلوم ہوئی اس لیے تمنا کر کے کہا ہم بھی کافر ہوتے تو اچھا تھا کہ ہم بھی ایسا کرتے تو کافر ہو گئی۔ مسئلہ۔ کسی کا لڑکا مر گیا اس نے یوں کہا یا اللہ یہ ظلم مجھ پر کیوں کیا مجھے کیوں ستایا تو اس کہنے سے وہ کافر ہو گئی۔ مسئلہ۔ کسی نے یوں کہا اگر خدا بھی مجھ سے کہے تو یہ کام نہ کروں۔ یا یوں کہا جبرئیل بھی اترآئیں تو ان کا کہا نہ مانوں تو کافر ہو گئی۔ مسئلہ۔ کسی نے کہا میں ایسا کام کرتی ہوں کہ خدا بھی نہیں جانتا تو کافر ہو گئی۔ مسئلہ۔ جب اللہ تعالی کی یا اس کے کسی رسول کی کچھ حقارت کی یا شریعت کی بات کو برا جانا عیب نکالا کفر کی بات پسند کی ان سب باتوں سے ایمان جاتا رہتا ہے اور کفر کی باتوں کو جن سے ایمان جاتا رہتا ہے ہم نے پہلے ہی حصہ میں سب عقیدوں کے بیان کرنے کے بعد بھی بیان کیا ہے وہاں دیکھ لینا چاہیے اور اپنے ایمان کو سنبھالنے میں بہت احتیاط کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہم سب کا ایمان ٹھیک رکھے اور ایمان ہی پر خاتمہ کرے۔ مین یا رب العالمین۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔