حلال و حرام چیزوں کا بیان

مسئلہ۔ جو جانور اور جو پرندے شکار کر کے کھاتے رہتے ہیں یا ان کی غذا فقط گندگی ہے ان کا کھانا جائز نہیں جیسے شیر بھیڑ یا گیدڑ بلی کتا بندر شکرا باز گدھ وغیرہ۔ اور جو ایسے نہ ہوں جیسے طوطا مینا فاختہ چڑیا بٹیر مرغابی کبوتر نیل گائے ہرن بطخ خرگوش وغیرہ سب جائز ہیں۔

مسئلہ۔ بجو گوہ کچھوا خچر گدھا گدھی کا گوشت کھانا اور گدھی کا دودھ پینا درست نہیں۔ گھوڑے کا کھانا جائز ہے لیکن بہتر نہیں۔ دریائی جانوروں میں سے فقط مچھلی حلال ہے باقی سب حرام۔

مسئلہ۔ مچھلی اور ٹڈی بغیر ذبح کیے ہوئے بھی کھانا درست ہے ان کے سوا اور کوئی جاندار چیز بغیر ذبح کیے کھانا درست نہیں جب کوئی چیز مر گئی تو حرام ہو گئی۔

مسئلہ۔ جو مچھلی مر کر پانی کے اوپر الٹی تیرنے لگی اس کا کھانا درست نہیں۔

مسئلہ۔ اوجھڑی کھانا حلال ہے۔ حرام یا مکروہ نہیں۔

مسئلہ۔ کسی چیز میں چیونٹیاں مر گئیں تو بغیر نکالے کھانا جائز نہیں اگر ایک آدھ چیونٹی حلق میں چلی گئی تو مردار کھانے کا گناہ ہوا۔ بعضے بچے بلکہ بڑے بھی گولر کے اندر کے بھنگےسمیت گولر کھا جاتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ اس کے کھانے سے آنکھیں نہیں آتیں یہ حرام ہے۔ مردار کھانے کا گناہ ہوتا ہے۔

مسئلہ۔ جو گوشت ہندو بیچتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ میں نے مسلمان سے ذبح کرایا ہے اس سے مول لے کر کھانا درست نہیں البتہ جس وقت سے مسلمان نے ذبح کیا ہے اگر اسی وقت سے کوئی مسلمان برابر بیٹھا دیکھ رہا ہے یا وہ جانے لگا تو دوسرا کوئی اس کی جگہ بیٹھ گیا تب درست ہے۔

مسئلہ۔ جو مرغی گندی چیزیں کھاتی پھرتی ہو اس کو تین دن بند رکھ کر ذبح کرنا چاہیے بغیر بند کیے کھانا مکروہ ہے۔


مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔