لباس اور پردے کا بیان

مسئلہ۔ چھوٹے لڑکوں کو کڑے ہنسلی وغیرہ کوئی زیور اور ریشمی کپڑا پہنانا مخمل پہنانا جائز نہیں اسی طرح ریشمی اور چاندی سونے کا تعویذ بنا کر پہنانا اور کسم و زعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہنانا بھی درست نہیں۔ غرض جو چیزیں مردوں کو حرام ہیں وہ لڑکوں کو بھی نہ پہنانا چاہیے۔ البتہ اگر بانا سوت کا ہو اور تانا ریشمی ایسا کپڑا لڑکوں کو پہنانا جائز ہے۔ اسی طرح اگر کسی مخمل کا رواں ریشم کا نہ ہو وہ بھی درست ہے اور یہ سب مردوں کو بھی درست ہے اور گوٹہ لچکہ لگا کر کپڑے پہنانا بھی درست ہے لیکن وہ لچکہ چار انگل سے زیادہ چوڑا نہ ہونا چاہیے۔

مسئلہ۔ سچی کامدار ٹوپی یا کوئی کپڑا لڑکوں کو اس وقت جائز ہے جب بہت گھنا کام نہ ہو اگر اتنا زیادہ کام ہے کہ ذرا دور سے دیکھنے سے سب کام ہی کام معلوم ہوتا ہے کپڑا بالکل دکھائی نہیں دیتا تو اس کا پہنانا جائز ہیں۔ یہی حال ریشمی کام کا ہے کہ اگر اتنا گھنا ہو تو لڑکوں کو پہنانا جائز نہیں۔

مسئلہ۔ بہت باریک کپڑا جیسے ململ، جالی، بک، آب رواں ان کا پہننا اور ننگے رہنا دونوں برابر ہیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بہتیری کپڑا پہننے والیاں قیامت کے دن ننگی سمجھی جائیں گی۔ اگر کرتہ دوپٹہ دونوں باریک ہوں اور بھی غضب ہے۔

مسئلہ۔ مردانہ جوتا پہننا اور مردانی صورت بنانا جائز نہیں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔

مسئلہ۔ عورتوں کو ان کے زیور پہننا جائز ہے لیکن زیادہ نہ پہننا بہتر ہے جس نے دنیا میں نہ پہنا اس کو آخرت میں ملے گا اور بجتا زیور پہننا درست نہیں جیسے جھانجھ چھاگل پازیب وغیرہ اور بجتا زیور چھوٹی لڑکیوں کو پہنانا بھی جائز نہیں چاندی سونے کے علاوہ اور کسی چیز کا زیور پہننا بھی درست ہے جسے پیتل گلٹ رانگا وغیرہ مگر انگوٹھی سونے چاندی کے علاوہ اور کسی چیز کی درست نہیں۔

مسئلہ۔ عورت کو سارا بدن سے سر پیر تک چھپائے رکھنے کا حکم ہے غیر محرم کے سامنے کھولنا درست نہیں۔ البتہ بوڑھی عورت کو صرف منہ اور ہتھیلی اور ٹخنے سے نیچے پیر کھولنا درست ہے باقی اور بدن کا کھولنا کسی طرح درست نہیں۔ ماتھے پر سے اکثر دوپٹہ سرک جاتا ہے اور اسی طرح غیر محرم کے سامنے جاتی ہیں یہ جائز نہیں۔ غیر محرم کے سامنے ایک بال بھی نہ کھولنا چاہیے بلکہ جو بال کنگھی میں ٹوٹے ہیں اور کٹے ہوئے ناخن بھی کسی ایسی جگہ ڈالے کہ کسی غیر محرم کی نگاہ نہ پڑے نہیں تو گنہگار ہو گی اسی طرح اپنے کسی بدن کو یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ کسی عضو کا نامحرم کے مرد کے بدن سے لگانا بھی درست نہیں۔

مسئلہ۔ جوان عورت کو غیر مرد کے سامنے اپنا منہ کھولنا درست نہیں۔ نہ ایسی جگہ کھڑی ہو جہاں کوئی دوسرا دیکھ سکے۔ اسی سے معلوم ہو گیا کہ نئی دلہن کا منہ دکھائی کا جو دستور ہے کہ کنبے کے سارے مرد منہ دیکھتے ہیں یہ ہرگز جائز نہیں اور بڑا گناہ ہے۔

مسئلہ۔ اپنے محرم کے سامنے منہ اور سر اور سینہ اور باہیں اور پنڈلی کھل جائے تو کچھ گناہ نہیں اور پیٹ اور پیٹھ اور ران ان کے سامنے بھی نہ کھلنا چاہیے۔

مسئلہ۔ ناف سے لے کر زانوں کے نیچے تک کسی عورت کے سامنے بھی کھولنا درست نہیں بعضی عورتیں ننگی سامنے نہاتی ہیں یہ بڑی بے غیرتی اور ناجائز بات ہے۔ چھٹی چھلے میں ننگی کر کے نہلانا اور اس پر مجبور کرنا درست نہیں۔ ناف سے زانو تک ہرگز بدن کو ننگا نہ کرنا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی مجبوری ہو تو ضرورت کے موافق اپنا بدن دکھلا دینا درست ہے مثلاً ران میں پھوڑا ہے تو صرف پھوڑے کی جگہ کھولو زیادہ ہرگز نہ کھولو۔ اس کی صورت یہ ہے کہ پرانا پائجامہ یا چادر پہن لو اور پھوڑے کی جگہ کاٹ دو اس کو جراح دیکھ لے۔ لیکن جراح کے سوا اور کسی کو دیکھنا جائز نہیں کسی مرد کو نہ عورت کو البتہ اگر ناف اور زانو کے درمیان نہ ہو کہیں اور ہو تو عورت کو دکھلانا درست ہے۔ اسی طرح عمل لیتے وقت صرف ضرورت کے موافق اتنا ہی بدن کھولنا درست ہے زیادہ کھولنا درست نہیں۔ یہی حکم دائی جنائی کا ہے کہ ضرورت کے وقت اس کے سامنے بدن کھولنا درست ہے لیکن جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ کھولنا درست نہیں۔ بچہ پیدا ہونے کے وقت یا کوئی دوا لیتے وقت فقط اتنا ہی بدن کھولنا چاہیے بالکل ننگی ہو جانا جائز نہیں اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی چادر وغیرہ بندھوا دی جائے اور ضرورت کے موافق دائی کے سامنے بدن کھول دیا جائے رانیں وغیرہ نہ کھلنے پائیں اور دائی کے سوا کسی اور کو بدن دیکھنا درست نہیں بالکل ننگی کر دینا اور ساری عورتوں کا سامنے بیٹھ کر دیکھنا حرام ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ستر دیکھنے والی اور دکھلانے والی دونوں پر خدا کی لعنت ہو۔ اس قسم کے مسئلوں کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔

مسئلہ۔ زمانہ حمل وغیرہ میں اگر دائی سے پیٹ ملوانا ہو تو ناف سے نیچے بدن کا کھولنا درست نہیں۔ دوپٹہ وغیرہ ڈال لینا چاہیے۔ بلا ضرورت دائی کو بھی دکھانا جائز نہیں۔ یہ دستور ہے کہ پیٹ ملتے وقت دائی بھی دیکھتی ہے اور دوسری گھر والی ماں بہن وغیرہ بھی دیکھتی ہے یہ جائز نہیں۔

مسئلہ۔ جتنے بدن کا دیکھنا جائز نہیں وہاں ہاتھ لگانا بھی جائز نہیں اس لیے نہاتے وقت اگر بدن بھی نہ کھولے تب بھی نائن وغیرہ سے رانیں ملوانا درست نہیں اگرچہ کپڑے کے اندر ہاتھ ڈال کر ملے البتہ اگر نائن اپنے ہاتھ میں کیسہ پہن کر کپڑے کے اندر ہاتھ ڈال کر ملے تو جائز ہے۔

مسئلہ۔ کافر عورتیں جیسے اہیرن تنبوان تیلن کولن دھوبن بھنگن چماری وغیرہ جو گھروں میں جاتی ہیں ان کا حکم یہ ہے کہ جتنا پردہ نامحرم مرد سے ہے اتنا ہی ان عورتوں سے بھی واجب ہے سوائے منہ اور گٹے تک ہاتھ اور ٹخنے تک پیر کے اور کسی ایک بال کا کھولنا بھی درست نہیں اس مسئلہ کو خوب یاد رکھو سب عورتیں اس کے خلاف کرتی ہیں غرض سر اور سارا ہاتھ اور پنڈلی ان کے سامنے مت کھولو اور اس سے یہ بھی سمجھ لو کہ اگر دائی جنائی ہندو یا میم ہو تو بچہ پیدا ہونے کا مقام تو اس کو دکھلانا درست ہے اور سر وغیرہ اور اعضا اس کے سامنے کھولنا درست نہیں۔

مسئلہ۔ اپنے شوہر سے کسی جگہ کا پردہ نہیں ہے تم کو اس کے سامنے اور اس کو تمہارے سامنے سارے بدن کا کھولنا درست ہے مگر بے ضرورت ایسا کرنا اچھا نہیں۔

مسئلہ۔ جس طرح خود مردوں کے سامنے آنا اور بدن کھولنا درست نہیں اسی طرح جھانک تاک کے مردوں کو دیکھنا بھی درست نہیں۔ عورتیں یوں سمجھتی ہیں کہ مرد ہم کو نہ دیکھیں ہم ان کو دیکھ لیں تو کچھ حرج نہیں یہ بالکل غلط ہے۔ کواڑ کی راہ یا کوٹھے پر سے مردوں کو دیکھنا دولہا کے سامنے جانا یا اور کسی دولہا کو دیکھنا یہ سب ناجائز ہے۔

مسئلہ۔ نامحرم کے ساتھ تنہائی کی جگہ بیٹھنا لیٹنا درست نہیں اگرچہ دونوں الگ الگ اور کچھ فاصلہ پر ہوں تب بھی جائز نہیں۔

مسئلہ۔ اپنے پیر کے سامنے نا ایسا ہی ہے جیسے کسی غیر محرم کے سامنے آنا اس لیے یہ بھی جائز نہیں۔ اسی طرح لے پالک لڑکا بالکل غیر ہوتا ہے لڑکا بنانے سے سچ مچ لڑکا نہیں بن جاتا سب کو اس سے وہی برتاؤ کرنا چاہیے جو بالکل غیروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس طرح جو نامحرم رشتہ دار ہیں جیسے دیور جیٹھ بہنوئی نندوئی چچا زاد پھوپھی زاد ماموں زاد بھائی وغیرہ یہ سب شرع میں غیر ہیں سب سے گہرا پردہ ہونا چاہیے۔

مسئلہ۔ ہیجڑے خوجے اندھے کے سامنے آنا بھی جائز نہیں۔

مسئلہ۔ بعضی بعضی منہیار سے چوڑیا پہنتی ہیں یہ بڑی بیہودہ بات ہے اور حرام ہے بلکہ جو عورتیں باہر نکلتی ہیں ا نکو بھی اس سے چوڑیاں پہننا جائز نہیں۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔