کوئی چیز پڑی پانے کا بیان

مسئلہ۔ کہیں راستہ گلی میں یا بیبیوں کی محفل میں یا اپنے یہاں کوئی مہمانداری ہوئی تھی یا وعظ کہلوایا تھا سب کے جانے کے بعد کچھ ملایا اور کہیں کوئی چیز پڑی پائی تو اس کو خود لے لینا درست نہیں حرام ہے اگر اٹھائے تو اس نیت سے اٹھائے کہ اس کے مالک کو تلاش کر کے دے دوں گی۔

مسئلہ۔ اگر کوئی چیز پائی اور اس کو نہ اٹھایا تو کوئی گناہ نہیں لیکن اگر یہ ڈر ہو کہ اگر میں نہ اٹھاؤں گی تو کوئی اور لے لے گا اور جس کی چیز ہے اس کو نہ ملے گی تو اس کا اٹھا لینا اور مالک کو پہنچا دینا واجب ہے۔


مسئلہ۔ جب کسی نے پڑی ہوئی چیز اٹھائی تو اب مالک کا تلاش کرنا اور تلاش کر کے دے دینا اس کے ذمے ہو گیا اب اگر پھر وہیں ڈال دیں یا اٹھا کر اپنے گھر لے آئی لیکن مالک کو تلاش نہیں کیا تو گنہگار ہوئی۔ خواہ ایسی جگہ پڑی ہو کہ اٹھانا اس کے ذمے واجب نہ تھا یعنی کسی محفوظ جگہ پڑی تھی کہ ضائع ہو جانے کا ڈر نہیں تھا یا ایسی جگہ ہو کہ اٹھا لینا واجب تھا۔ دونوں کا یہی حکم ہے کہ اٹھا لینے کے بعد مالک کو تلاش کر کر پہنانا واجب ہو جاتا ہے پھر وہیں ڈال دینا جائز نہیں۔


مسئلہ۔ محفلوں میں مردوں اور عورتوں کے جماؤ جم گھٹے میں خوب پکارے تلاش کرے اگر مردوں میں خود نہ جا سکے نہ پکار سکے تو اپنے میاں وغیرہ کسی اور سے پکڑوائے اور خوب مشہور کرا دے کہ ہم نے ایک چیز پائی ہے جس کی ہو ہم سے کر لے لیوے یہ ٹھیک پتہ نہ دے کہ کیا چیز پائی ہے تاکہ کوئی جھوٹ فریب کر کے نہ لے سکے۔ البتہ کچھ گول مول ادھورا پتہ بتلا دینا چاہیے۔ مثلاً یہ کہ ایک زیور ہے یا ایک کپڑا ہے یا ایک بٹوا ہے جس میں کچھ نقد ہے۔ اگر کوئی آئے اور اپنی چیز کا ٹھیک ٹھیک پتہ دے دے تو اس کے حوالہ کر دینا چاہیے۔


مسئلہ۔ بہت تلاش کرنے اور مشہور کرنے کے بعد جب بالکل مایوسی ہو جائے کہ اب اس کا کوئی وارث نہ ملے گا تو اس چیز کو خیرات کر دے اپنے پاس نہ رکھے البتہ اگر وہ خود غریب محتاج ہو تو خود ہی اپنے کام میں لائے لیکن خیرات کرنے کے بعد اگر اس کا مالک گیا تو اس کے دام لے سکتاہے اور اگر خیرات کرنے کو منظور کر لیا تو اس کو اس خیرات کا ثواب مل جائے گا۔


مسئلہ۔ پالتو کبوتر یا طوطا مینا اور کوئی چڑیا اس کے گھر گر پڑی اور اس نے اس کو پکڑ لیا تو مالک کو تلاش کر کے پہنچانا واجب ہو گیا خود لے لینا حرام ہے۔


مسئلہ۔ باغ میں آیا امرود وغیرہ پڑے ہیں تو ان کو بلا اجازت اٹھانا اور کھانا حرام ہے البتہ اگر کوئی ایسی کم قدر چیز ہے کہ ایسی چیز کو کوئی تلاش نہیں کرتا اور نہ اس کے لینے کھانے سے کوئی برا مانتا ہے تو اس کو خرچ میں لانا درست ہے مثلاً راہ میں ایک بیر پڑا ملا یا ایک مٹھی چنے کے بوٹ ملے۔


مسئلہ۔ کسی مکان یا جنگل میں خزانہ یعنی کچھ گڑا ہوا مال نکل آیا تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو پڑی ہوئی چیز کا حکم ہے خود لے لینا جائز نہیں تلاش و کوشش کرنے کے بعد اگر مالک کا پتہ نہ چلے تو اس کو خیرات کر دے اور غریب ہو تو خود بھی لے سکتی ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔