مہر کا بیان

مسئلہ1۔ نکاح میں چاہے مہر کا کچھ ذکر کرے چاہے نہ کرے ہر حال میں نکاح ہو جائے گا۔ لیکن مہر دینا پڑے گا بلکہ اگر کوئی یہ شرط کر لے کہ ہم مہر نہ دیں گے بے مہر کا نکاح کرتے ہیں تب بھی مہر دینا پڑے گا۔

مسئلہ2۔ کم سے کم مہر کی مقدار تخمینا پونے تین روپے بھر چاندی ہے اور زیادہ کی کوئی حد نہیں چاہے جتنا مقرر کرے لیکن مہر کا بہت بڑھانا اچھا نہیں۔ سو اگر کسی نے فقط ایک روپیہ بھر چاندی یا ایک روپیہ یا ایک اٹھنی مہر مقرر کر کے نکاح کیا تب بھی پونے تین روپے بھر چاندی دینی پڑے گی شریعت میں اس سے کم مہر نہیں ہو سکتا۔ اور اگر رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے دے تو اس کا آدھا دے۔

مسئلہ7۔ اگر نکاح کے وقت مہر کا بالکل ذکر ہی نہیں کیا گیا کہ کتنا ہے یا اس شرط پر نکاح کیا کہ بغیر مہر کے نکاح کرتا ہوں کچھ مہر نہ دوں گا۔ پھر دونوں میں سے کوئی مر گیا یا ویسی تنہائی و یکجائی ہو گئی جو شرع میں معتبر ہے تب بھی مہر دلایا جائے گا اور اس صورت میں مہر مثل دینا ہو گا۔ اور اگر اس صورت میں ویسی تنہائی سے پہلے مرد نے طلاق دے دی تو مہر پانے کی مستحق نہیں ہے بلکہ فقط ایک جوڑا کپڑا پائے گی اور یہ جوڑا دینا مرد پر واجب ہے نہ دے گا تو گنہگار ہو گا۔

مسئلہ8۔ جوڑے میں فقط چار کپڑے مرد پر واجب ہیں ایک کرتہ ایک سربند یعنی اوڑھنی ایک پائجامہ یا ساڑھی جس چیز کا دستور ہے۔ ایک بڑی چادر جس میں سر سے پیر تک لپٹ سکے اس کے سوا اور کوئی کپڑا واجب نہیں۔

مسئلہ9۔ مرد کی جیسی حیثیت ہو ویسے کپڑے دینا چاہیے۔ اگر معمولی غریب آدمی ہو تو سوتی کپڑے اور اگر بہت غریب آدمی نہیں لیکن بہت امیر بھی نہیں تو ٹسرکے۔ اور جو بہت امیر کبیر ہو تو عمدہ ریشمی کپڑے دینا چاہیے لیکن بہرحال اس میں یہ خیال رہے کہ اس جوڑے کی قیمت مہر مثل کے آدھے سے نہ بڑھے اور ایک روپیہ چھ آنے یعنی ایک روپیہ اور ایک چونی اور ایک دونی بھر چاندی کے جتنے دام ہوں اس سے کم قیمت بھی نہ ہو۔ یعنی بہت قیمتی کپڑے جن کی قیمت مہر مثل کے آدھے سے بڑھ جائے مرد پر واجب نہیں۔ یوں اپنی خوشی سے اگر وہ بہت قیمتی اس سے زیادہ بڑھیا کپڑے دے دے تو اور بات ہے۔

مسئلہ10۔ نکاح کے وقت تو کچھ مہر مقرر نہیں کیا گیا لیکن نکاح کے بعد میاں بی بی دونوں نے اپنی خوشی سے کچھ مقرر کر لیا تو اب مہر مثل نہ دلایا جائے گا بلکہ دونوں نے اپنی خوشی سے جتنا مقرر کر لیا ہے وہی دلایا جائے گا۔ البتہ اگر ویسی تنہائی و یکجائی ہونے سے پہلے ہی طلاق مل گئی تو اس صورت میں مہر پانے کی مستحق نہیں ہے بلکہ صرف وہی جوڑا کپڑا ملے گا جس کا بیان اوپر ہو چکا ہے۔

مسئلہ11۔ سو روپے یا ہزار روپے اپنی حیثیت کے موافق مہر مقرر کیا۔ پھر شوہر نے اپنی خوشی سے کچھ مہر اور بڑھا دیا اور کہا کہ ہم سو روپے کی جگہ ڈیڑھ سو دے دیں گے تو جتنے روپے زیادہ دینے کو کہے اس میں وہ بھی واجب ہو گئے نہ دے گا تو گنہگار ہو گا۔ اور اگر ویسی تنہائی و یکجائی سے پہلے طلاق ہو گئی تو جس قدر اصل مہر تھا اسی کا آدھا دیا جائے گا جتنا بعد میں بڑھایا تھا اس کو شمار نہ کریں گے۔ اسی طرح عورت نے اپنی خوشی و رضامندی سے اگر کچھ مہر معاف کر دیا تو جتنا معاف کیا ہے اتنا معاف ہو گیا۔ اور اگر پورا معاف کر دیا تو پورا مہر معاف ہو گیا۔ اب اس کے پانے کی مستحق نہیں ہے۔

مسئلہ12۔ اگر شوہر نے کچھ دباؤ ڈال کر دھمکا کر دق کر کے معاف کر لیا تو اس معاف کرانے سے معاف نہیں ہوا۔ اب بھی اس کے ذمہ ادا کرنا واجب ہے۔

مسئلہ13۔ مہر میں روپیہ پیسہ سونا چاندی کچھ مقرر نہیں کیا بلکہ کوئی گاؤں یا کوئی باغ یا کچھ زمین مقرر ہوئی تو یہ بھی درست ہے۔ جو باغ وغیرہ مقرر کیا ہے وہی دینا پڑے گا۔

مسئلہ14۔ مہر میں کوئی گھوڑا یا ہاتھی یا اور کوئی جانور مقرر کیا لیکن یہ مقرر نہیں کیا کہ فلانا گھوڑا دوں گا یہ بھی درست ہے۔ ایک منجھولا گھوڑا جو نہ بہت بڑھیا ہو نہ بہت گھٹیا دینا چاہیے یا اس کی قیمت دے دے۔ البتہ اگر فقط اتنا ہی کہا کہ ایک جانور دے دوں گا۔ اور یہ نہیں بتلایا کہ کون سا جانور دوں گا تو یہ مہر مقرر کرنا صحیح نہیں ہوا۔ مہر مثل دینا پڑے گا۔

مسئلہ17۔ جہاں کہیں پہلی ہی رات کو سب مہر دے دینے کا دستور ہو وہاں اول ہی رات سارا مہر لے لینے کا عورت کو اختیار ہے۔ اگر اول رات نہ مانگا تو جب مانگے تب مرد کو دینا واجب ہے دیر نہ کر سکتا۔

مسئلہ18۔ ہندوستان میں دستور ہے کہ مہر کا لین دین طلاق کے بعد مر جانے کے بعد ہوتا ہے کہ جب طلاق مل جاتی ہے تب مہر کا دعوی کرتی ہے یا مرد مر گیا اور کچھ مال چھوڑ گیا تو اس مال میں سے لے لیتی ہے۔ اور اگر عورت مر گئی تو اس کے وارث مہر کے دعویدار ہوتے ہیں۔ اور جب تک میاں بی بی ساتھ رہتے ہیں تب تک نہ کوئی دیتا ہے نہ وہ مانگتی ہے تو ایسی جگہ اس دستور کی وجہ سے طلاق ملنے سے پہلے مہر کا دعوی نہیں کر سکتی۔ البتہ پہلی رات کو جتنے مہر کے پیشگی دینے کا دستور ہے اتنا مہر پہلے دینا واجب ہے ہاں اگر کسی قوم میں یہ دستور نہ ہو تو اس کا یہ حکم نہ ہو گا

مسئلہ20۔ مہر کی نیت سے شوہر نے کچھ دیا تو جتنا دیا ہے اتنا مہر ادا ہو گیا۔ دیتے وقت عورت سے یہ بتلانا ضروری نہیں ہے کہ میں مہر دے رہا ہوں۔

مسئلہ21۔ مرد نے کچھ دیا لیکن عورت تو کہتی ہے کہ یہ چیز تم نے مجھ کو یوں ہی دی۔ مہر میں نہیں دی اور مرد کہتا ہے کہ یہ میں نے مہر میں دیا ہے تو مرد ہی کی بات کا اعتبار کیا جائے گا۔ البتہ اگر کھانے پینے کی کوئی چیز تھی تو اس کو مہر میں نہ سمجھیں گے اور مرد کی اس بات کا اعتبار نہ کریں گے۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔