بیبیوں میں برابری کرنے کا بیان

مسئلہ1۔ جس کے کئی بیبیاں ہوں تو مرد پر واجب ہے کہ سب کو برابر رکھے جتنا ایک عورت کو دیا ہے دوسری بھی اتنے کی دعویدار ہو سکتی ہے۔ چاہے دونوں کنواری ہوں یا دونوں بیاہی ہوں۔ یا ایک تو کنواری ہو اور دوسری بیاہی بیاہ لایا۔ سب کا ایک حکم ہے۔ اگر ایک کے پاس ایک رات رہا تو دوسری کے پاس بھی ایک رات رہے۔ اس کے پاس دو یا تین راتیں رہا تو اس کے پاس بھی دو یا تین راتیں رہے۔ جتنا مال زیور کپڑے اس کو دیئے اتنے ہی کی دوسری عورت بھی دعویدار ہے۔

مسئلہ2۔ جس کا نیا نکاح ہوا اور جو پرانی ہو چکی دونوں کا حق برابر ہے کچھ فرق نہیں۔

مسئلہ3۔ برابری فقط رات کے رہنے میں ہے دن کے رہنے میں برابری ہونا ضروری نہیں۔ اگر دن میں ایک کے پاس زیادہ رہا اور دوسری کے پاس کم رہا تو کچھ حرج نہیں اور رات میں برابری واجب ہے۔ اگر ایک کے پاس مغرب کے بعد ہی آ گیا اور دوسری کے پاس عشاء کے بعد آیا تو گناہ ہوا۔ البتہ جو شخص رات کو نوکری میں لگا رہتا ہو اور دن کو گھر میں رہتا ہو جیسے چوکیدار پہرہ دار اس کے لیے دن کو برابری کا حکم ہے۔

مسئلہ5۔ مرد چاہے بیمار ہو چاہے تندرست بہرحال رہنے میں برابری کرے۔

مسئلہ6۔ ایک عورت سے زیادہ محبت ہے اور دوسری سے کم تو اس میں کچھ گناہ نہیں۔ چونکہ دل اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔

مسئلہ7۔ سفر میں جاتے وقت برابری واجب نہیں جس کو جی چاہے ساتھ لے جائے اور بہتر یہ ہے کہ نام نکال لے جس کا نام نکلے اس کو لے جائے تاکہ کوئی اپنے جی میں ناخوش نہ ہو۔


مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔