دودھ پینے اور پلانے کا بیان

مسئلہ1۔ جب بچہ پیدا ہو تو ماں پر دودھ پلانا واجب ہے۔ البتہ اگر باپ مال دار ہو اور کوئی انا تلاش کر سکے تو دودھ نہ پلانے میں کچھ گناہ بھی نہیں۔

مسئلہ2۔ کسی اور کے لڑکے کو بغیر میاں کی اجازت لیے دودھ پلانا درست نہیں ہاں البتہ اگر کوئی بچہ بھوک کے مارے تڑپتا ہو اور اس کے ضائع ہو جانے کا ڈر ہو تو ایسے وقت بے اجازت بھی دودھ پلا دے۔

مسئلہ3۔ زیادہ سے زیادہ دودھ پلانے کی مدت دو برس ہیں۔ دو سال کے بعد دودھ پلانا حرام ہے بالکل درست نہیں۔

مسئلہ4۔ اگر بچہ کچھ کھانے پینے لگا اور اس وجہ سے دو برس سے پہلے ہی دودھ چھڑا دیا تب بھی کچھ حرج نہیں۔

مسئلہ5۔ جب بچہ نے کسی اور عورت کا دودھ پیا تو وہ عورت اس کی ماں بن گئی۔ اور اس انا کا شوہر جس کے بچہ کا یہ دودھ ہے اس بچہ کا باپ ہو گیا اور اس کی اولاد اس کے دودھ شریکی بھائی بہن ہو گئے اور نکاح حرام ہو گیا اور جو رشتے نسب کے اعتبار سے حرام ہیں وہ رشتے دودھ کے اعتبار سے بھی حرام ہو جاتے ہیں لیکن بہت سے عالموں کے فتوے میں یہ حکم جب ہی ہے کہ بچہ نے دو برس کے اندر ہی اندر دودھ پیا ہو۔ اگر بچہ دو برس کا ہو چکا اس کے بعد کسی عورت کا دودھ پیا تو اس پینے کا کچھ اعتبار نہیں نہ وہ پلانے والی ماں بنی اور نہ اس کی اولاد اس بچہ کے بھائی بہن ہوئے۔ اس لیے اگر آپس میں نکاح کر دیں تو درست ہے لیکن امام اعظم جو بہت بڑے امام ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اگر ڈھائی برس کے اندر اندر بھی دودھ پیا ہو تب بھی نکاح درست نہیں۔ البتہ اگر ڈھائی برس کے بعد دودھ پیا ہو تو اس کا بالکل اعتبار نہیں بے کھٹکے سب کے نزدیک نکاح درست ہے۔

مسئلہ6۔ جب بچہ کے حلق میں دودھ چلا گیا تو سب رشتے جو ہم نے اوپر لکھے ہیں حرام ہو گئے چاہے تھوڑا دودھ گیا ہو یا بہت اس کا کچھ اعتبار نہیں۔

مسئلہ7۔ اگر بچہ نے چھاتی سے دودھ نہیں پات بلکہ اس نے اپنا دودھ نکال کر اس کے حلق میں ڈال دیا تو اس سے بھی وہ سب رشتے حرام ہو گئے۔ اسی طرح اگر بچہ کی ناک میں دودھ ڈال دیا تب بھی سب رشتے حرام ہو گئے اور اگر کان میں ڈالا تو اس کا کچھ اعتبار نہیں۔

مسئلہ8۔ اگر عورت کا دودھ پانی میں یا کسی دوا میں ملا کر بچہ کو پلایا تو دیکھو کہ دودھ زیادہ ہے یا پانی یا دونوں برابر۔ اگر دودھ زیادہ ہو یا دونوں برابر ہوں تو جس عورت کا دودھ ہے وہ ماں ہو گئی اور سب رشتے حرام ہو گئے۔ اور اگر پانی یا دوا زیادہ ہے تو اس کا کچھ اعتبار نہیں وہ عورت ماں نہیں بنی۔

مسئلہ9۔ عورت کا دودھ بکری یا گائے کے دودھ میں مل گیا اور بچہ نے کھا لیا تو دیکھو زیادہ کونسا ہے اگر عورت کا دودھ زیادہ یا دونوں برابر ہوں تو سب رشتے حرام ہو گئے اور جس عورت کا دودھ ہے یہ بچہ اس کی اولاد بن گیا۔ اور اگر بکری یا گائے کا دودھ زیادہ ہے تو اس کا کچھ اعتبار نہیں ایسا سمجھیں گے کہ گویا اس نے پیا ہی نہیں۔

مسئلہ10۔ اگر کسی کنواری لڑکی کے دودھ اتر آیا۔ اس کو کسی بچہ نے پی لیا تو اس سے بھی سب رشتے حرام ہو گئے۔

مسئلہ11۔ مردہ عورت کا دودھ دوہ کر کسی بچہ کو پلا دیا۔ تو اس سے بھی سب رشتے حرام ہو گئے۔

مسئلہ12۔ دو لڑکوں نے ایک بکری یا ایک گائے کا دودھ پیا تو اس سے کچھ نہیں ہوتا وہ بھائی بہن نہیں ہوتے۔

مسئلہ13۔ جوان مرد نے اپنی بی بی کا دودھ پیا تو وہ حرام نہیں ہوئی۔ البتہ بہت گناہ ہوا۔ کیونکہ دو برس کے بعد دودھ پینا بالکل حرام ہے۔

مسئلہ14۔ ایک لڑکا ایک لڑکی ہے دونوں نے ایک ہی عورت کا دودھ پیا ہے تو ان میں نکاح نہیں ہو سکتا خواہ ایک ہی زمانہ میں پیا ہو۔ یا ایک نے پہلے دوسرے نے کئی برس کے بعد دونوں کا ایک حکم ہے۔

مسئلہ15۔ ایک لڑکی نے باقر کی بیوی کا دودھ پیا تو اس لڑکی کا نکاح نہ باقر سے ہو سکتا ہے نہ اس کے باپ دادا کے ساتھ نہ باقر کی اولاد کے ساتھ بلکہ باقر کے جو اولاد دوسری بیوی سے ہے اس سے بھی نکاح درست نہیں۔

مسئلہ16۔ عباس نے خدیجہ کا دودھ پیا اور خدیجہ کے شوہر قادر کے ایک دوسری بی بی زینب تھی جس کو طلاق مل چکی ہے تو اب زینب بھی عباس سے نکاح نہیں کر سکتی۔ کیونکہ عباس زینب کے میاں کی اولاد ہے اور میاں کی اولاد سے نکاح درست نہیں۔ اسی طرح اگر عباس اپنی عورت کو چھوڑ دے تو وہ عورت قادر کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتی کیونکہ وہ اس کا خسر ہوا۔ اور قادر کی بہن اور عباس کا نکاح نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ دونوں پھوپھی بھتیجے ہوئے۔ چاہے وہ قادر کی سگی بہن ہو یا دودھ شریک بہن ہو۔ دونوں کا ایک حکم ہے البتہ عباس کی بہن سے قادر نکاح کر سکتا ہے۔

مسئلہ17۔ عباس کی ایک بہن ساجدہ ہے۔ ساجدہ نے ایک عورت کا دودھ پیا۔ لیکن عباس نے نہیں پیا تو اس دودھ پلانے والی عورت کا نکاح عباس سے ہو سکتا ہے۔

مسئلہ18۔ عباس کے لڑکے نے زاہدہ کا دودھ پیا تو زاہدہ کا نکاح عباس کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

مسئلہ19۔ قادر اور ذاکر دو بھائی ہیں۔ اور ذاکر کے ایک دودھ شریکی بہن ہے تو قادر کے ساتھ اس کا نکاح ہو سکتا ہے البتہ ذاکر کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ خوب اچھی طرح سمجھ لو۔ چونکہ اس قسم کے مسئلے مشکل ہیں کہ کم سمجھ میں آتے ہیں اس لیے ہم زیادہ نہیں لکھتے جب کبھی ضرورت پڑے تو کسی سمجھدار بڑے عالم سے سمجھ لینا چاہیے۔

مسئلہ20۔ کسی مرد کا کسی عورت سے رشتہ ہونے لگا۔ پھر ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے تو ان دونوں کو دودھ پلایا ہے اور سوائے اس عورت کے کوئی اور اس دودھ پینے کو نہیں بیان کرتا تو فقط اس عورت کے کہنے سے دودھ کا رشتہ ثابت نہ ہو گا۔ ان دونوں کا نکاح درست ہے بلکہ جب دو معتبر اور دیندار مرد یا ایک دیندار مرد اور دو دیندار عورتیں دودھ پینے کی گواہی دیں تب اس رشتہ کا ثبوت ہو گا اب البتہ نکاح حرام ہو گیا۔ بے ایسی گواہی کے ثبوت نہ ہو گا لیکن اگر فقط ایک مرد یا ایک عورت کے کہنے سے یا دو تین عورتوں کے کہنے سے دل گواہی دینے لگے کہ یہ سچ کہتی ہوں گی ضرور ایسا ہوا ہو گا تو ایسے وقت نکاح نہ کرنا چاہیے کہ خواہ مخواہ شک میں پڑنے سے کیا فائدہ۔ اور اگر کسی نے کر لیا تب بھی خیر ہو گیا۔

مسئلہ21۔ عورت کا دودھ کسی دوا میں ڈالنا جائز نہیں۔ اور اگر ڈال دیا تو اب اس کا کھانا اور لگانا ناجائز اور حرام ہے۔ اسی طرح دوا کے لیے آنکھ میں یا کان میں دودھ ڈالنا بھی جائز نہیں۔ خلاصہ یہ کہ آدمی کے دودھ سے کسی طرح کا نفع اٹھانا اور اس کو اپنے کام میں لانا درست نہیں۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔