طلاق کا بیان

مسئلہ1۔ جو شوہر جوان ہو چکا ہو اور دیوانہ پاگل نہ ہو اس کے طلاق دینے سے طلاق پڑ جائے گی۔ اور جو لڑکا ابھی جوان نہیں ہوا۔ اور دیوانہ پاگل جس کی عقل ٹھیک نہیں ان دونوں کے طلاق دینے سے طلاق نہیں پڑتی۔

مسئلہ2۔ سوتے ہوئے آدمی کے منہ سے نکلا کہ تجھ کو طلاق ہے یا یوں کہہ دیا کہ میری بی بی کو طلاق تو اس بڑبڑانے سے طلاق نہ پڑے گی۔

مسئلہ3۔ کسی نے زبردستی کسی سے طلاق دلوادی۔ بہت مارا کوٹا دھمکایا کہ طلاق دے دے نہیں تو تجھے مار ڈالوں گی اس مجبوری سے اس نے طلاق دے دی تب بھی طلاق پڑ گئی۔

مسئلہ4۔ کسی نے شراب وغیرہ کے نشہ میں اپنی بی بی کو طلاق دے دی جب ہوش آیا تو پشیمان ہوا تب بھی طلاق پڑ گئی۔ اسی طرح غصے میں طلاق دینے سے بھی طلاق پڑ جاتی ہے۔

مسئلہ5۔ شوہر کے سوا کسی اور کو طلاق دینے کا اختیار نہیں ہے البتہ اگر شوہر نے کہہ دیا ہو کہ تو اس کو طلاق دے تو وہ بھی دے سکتا ہے۔


مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔