طلاق دینے کا بیان

مسئلہ1۔ طلاق دینے کا اختیار فقط مرد کو ہے۔ جب مرد نے طلاق دے دی تو پڑ گئی۔ عورت کا اس میں کچھ بس نہیں چاہے منظور کرے چاہے نہ کرے ہر طرح طلاق ہو گئی۔ اور عورت اپنے مرد کو طلاق نہیں دے سکتی۔

مسئلہ2۔ مرد کو فقط تین طلاق دینے کا اختیار ہے اس سے زیادہ کا اختیار نہیں۔ تو اگر چار پانچ طلاق دے دیں تب بھی تین ہی طلاقیں ہوئیں۔

مسئلہ3۔ جب مرد نے زبان سے کہہ دیا کہ میں نے اپنی بی بی کو طلاق دے دی اور اتنے زور سے کہا کہ خود ان الفاظ کو سن لیا۔ بس اتنا کہتے ہی طلاق پڑ گئی چاہے کسی کے سامنے کہے چاہے تنہائی میں اور چاہے بی بی سنے یا نہ سنے ۔ ہر حال میں طلاق ہو گئی۔

مسئلہ4۔ طلاق تین قسم کی ہے۔ ایک تو ایسی طلاق جس میں نکاح بالکل ٹوٹ جاتا ہے اور بے نکاح کیے اس مرد کے پاس رہنا جائز نہیں۔ اگر پھر اسی کے پاس رہنا چاہے اور مرد بھی اس کو رکھنے پر راضی ہو تو پھر سے نکاح کرنا پڑے گا ایسی طلاق کو بائن طلاق کہتے ہیں۔ دوسری وہ جس میں نکاح ایسا ٹوٹا کہ دوبارہ نکاح بھی کرنا چاہیں تو بعد عدت کسی دوسرے سے اول نکاح کرنا پڑے گا اور جب وہاں طلاق ہو جائے تب بعد عدت اس سے نکاح ہو سکے گا۔ ایسی طلاق کو مغلظہ کہتے ہیں۔ تیسری وہ جس میں نکاح ابھی نہیں ٹوٹا صاف لفظوں میں ایک یا دو طلاق دینے کے بعد اگر مرد پشیمان ہوا تو پھر سے نکاح کرنا ضروری نہیں۔ بے نکاح کیے بھی اس کو رکھ سکتا ہے۔ پھر میاں بی بی کی طرح رہنے لگیں تو درست ہے البتہ اگر مرد طلاق دے کر اسی پر قائم رہا اور اس سے نہیں پھرا تو جب طلاق کی مدت گزر جائے گی تب نکاح ٹوٹ جائے گا اور عورت جدا ہو جائے گی۔ اور جب تک عدت نہ گزرے تب تک رکھنے نہ رکھنے دونوں باتوں کا اختیار ہے۔ ایسی طلاق کو رجعی طلاق کہتے ہیں۔ البتہ اگر تین طلاقیں دے دیں تو اب اختیار نہیں۔

مسئلہ5۔ طلاق دینے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ میں نے تجھ کو طلاق دے دی یا یوں کہا کہ میں نے اپنی بی بی کو طلاق دے دی۔ غرضیکہ ایسی صاف بات کہہ دی جس میں طلاق دینے کے سوا کوئی اور معنی نہیں نکل سکتے ایسی طلاق کو صریح کہتے ہیں۔ دوسری قسم یہ کہ صاف صاف لفظ نہیں کہے بلکہ ایسے گول گول لفظ کہے جس میں طلاق کا مطلب بھی بن سکتا ہے اور طلاق کے سوا اور دوسرے معنے بھی نکل سکتے ہیں۔ جیسے کوئی کہے میں نے تجھ کو دور کر دیا۔ تو اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ میں نے تجھ کو طلاق دے دی۔ دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ طلاق تو نہیں دی لیکن اب تجھ کو اپنے پاس نہ رکھوں گا۔ ہمیشہ اپنے میکے میں پڑی رہ۔ تیری خبر نہ لوں گا۔ یا یوں کہے مجھ سے تجھ سے کچھ واسطہ نہیں۔ مجھ سے تجھ سے کچھ مطلب نہیں تو مجھ سے جدا ہو گئی۔ میں نے تجھ کو الگ کر دیا۔ جدا کر دیا میرے گھر سے چلی جا۔ نکل جا۔ ہٹ دور ہو۔ اپنے ماں باپ کے سرجا کے بیٹھ۔ اپنے گھر جا۔ میرا تیرا نباہ نہ ہو گا۔ اسی طرح کے اور الفاظ جن میں دونوں مطلب نکل سکتے ہیں ایسی طلاق کو کنایہ کہتے ہیں۔

مسئلہ6۔ اگر صاف صاف لفظوں میں طلاق دی تو زبان سے نکلتے ہی طلاق پڑ گئی۔ چاہے طلاق دینے کی نیت ہو چاہے نہ ہو۔ بلکہ ہنسی دل لگی میں کہا ہو ہر طرح طلاق ہو گئی اور صاف لفظوں میں طلاق دینے سے تیسری قسم کی طلاق پڑتی ہے یعنی عدت کے ختم ہونے تک اس کے رکھنے نہ رکھنے کا اختیار ہے اور ایک مرتبہ کہنے سے ایک ہی طلاق پڑے گی نہ دو پڑیں گی نہ تین۔ البتہ اگر تین دفعہ کہے یا یوں کہے تجھ کو تین طلاق دیں تو تین طلاقیں پڑیں۔

مسئلہ7۔ کسی نے ایک طلاق دی تو جب تک عورت عدت میں رہے تب تک دوسری طلاق اور تیسری طلاق اور دینے کا اختیار رہتا ہے اگر دے گا تو پڑ جائے گی۔

مسئلہ8۔ کسی نے یوں کہا تجھ کو طلاق دے دوں گا تو اس سے طلاق نہیں ہوئی۔ اسی طرح اگر کسی بات پر یوں کہا کہ اگر فلانا کام کرے گی تو طلاق دے دوں گا تب بھی طلاق نہیں ہوئی چاہے وہ کام کرے چاہے نہ کرے۔ ہاں اگر یوں کہہ دے اگر فلانا کام کرے تو طلاق ہے تو اس کے کرنے سے طلاق پڑ جائے گی۔

مسئلہ9۔ کسی نے طلاق دے کر اس کے ساتھ ہی انشاء اللہ بھی کہہ دیا تو طلاق نہیں پڑی۔ اسی طرح اگر یوں کہا اگر خدا چاہے تو تجھ کو طلاق۔ اس سے بھی کسی قسم کی طلاق نہیں پڑتی۔

البتہ اگر طلاق دے کر ذرا ٹھیر گیا پھر انشاء اللہ کہا تو طلاق پڑ گئی۔

مسئلہ10۔ کسی نے اپنی بی بی کو طلاقن کہہ کر پکارا تب بھی طلاق پڑ گئی اگرچہ ہنسی میں کہا ہو۔

مسئلہ11۔ کسی نے کہا جب تو لکھنو جائے تو تجھ کو طلاق ہے تو جب تک لکھنو نہ جائے گی طلاق نہ پڑے گی جب وہاں جائے گی تب پڑے گی۔

مسئلہ12۔ اور اگر صاف صاف طلاق نہیں دی بلکہ گول گول الفاظ کہے اور اشارہ کنایہ سے طلاق دی تو ان لفظوں کے کہنے کے وقت اگر طلاق دینے کی نیت تھی تو طلاق ہو گئی اور اول قسم کی یعنی بائن طلاق ہوئی۔ اب بے نکاح کیے نہیں رکھ سکتا۔ اور اگر طلاق کی نیت نہ تھی بلکہ دوسرے معنی کے اعتبار سے کہا تھا تو طلاق نہیں ہوئی۔ البتہ اگر کہنے سے معلوم ہو جائے کہ طلاق ہی دینے کی نیت تھی اب وہ جھوٹ بکتا ہے تو اب عورت اس کے پاس نہ رہے اور یہی سمجھے کہ مجھے طلاق مل گئی۔ جیسے بی بی نے غصہ میں آ کر کہا کہ میرا تیرا نباہ نہ ہو گا مجھ کو طلاق دے دے اس نے کہا اچھا میں نے چھوڑ دیا تو یہاں عورت یہی سمجھے کہ مجھے طلاق دے دی۔

مسئلہ13۔ کسی نے تین دفعہ کہا کہ تجھ کو طلاق طلاق طلاق تو تینوں طلاقیں پڑ گئیں یا گول الفاظ میں تنئ مرتبہ کہا تب بھی تنی پڑ گئیں۔ لیکن اگر نیت ایک ہی طلاق کی کی ہے فقط مضبوطی کے لیے تین دفعہ کہا تھا کہ بات خوب پکی ہو جائے تو ایک طلاق ہوئی۔ لیکن عورت کو اس کے دل کا حال تو معلوم نہیں اس لیے یہی سمجھے کہ تین طلاقیں مل گئیں۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔