سوگ کرنے کا بیان

مسئلہ1۔ جس عورت کو طلاق رجعی ملی ہے اس کے عدت تو فقط یہی ہے کہ اتنی مدت تک گھر سے باہر نہ نکلے نہ کسی اور مرد سے نکاح کرے۔ اس کو بناؤ سنگار وغیرہ درست ہے اور جس کو تین طلاقیں مل گئیں یا ایک طلاق بائن ملی یا اور کسی طرح سے نکاح ٹوٹ گیا یا مرد مر گیا۔ ان سب صورتوں کا حکم یہ ہے کہ جب تک عدت میں رہے تب تک نہ تو گھر سے باہر نکلے نہ اپنا دوسرا نکاح کرے نہ کچھ بناؤ سنگار کرے یہ سب باتیں اس پر حرام ہیں۔ اس سنگار نہ کرنے اور میلے کچیلے رہنے کو سوگ کہتے ہیں۔

مسئلہ2۔ جب تک عدت ختم نہ ہو تب تک خوشبو لگانا کپڑے بسانا زیور گہنا پہننا پھول پہننا سرمہ لگانا پان کھا کر منہ لال کرنا مسی ملنا سر میں تیل ڈالنا کنگھی کرنا مہندی لگانا اچھے کپڑے پہننا ریشمی اور رنگے ہوئے بہار دار کپڑے پہننا یہ سب باتیں حرام ہیں۔ البتہ اگر بہار دار نہ ہوں تو درست ہے چاہے جیسا رنگ ہو مطلب یہ ہے کہ زینت کا کپڑا نہ ہو۔

مسئلہ3۔ سر میں درد ہونے کی وجہ سے تیل ڈالنے کی ضرورت پڑے تو جس میں خوشبو نہ ہو وہ تیل ڈالنا درست ہے۔ اسی طرح دوا کے لیے سرمہ لگانا بھی ضرورت کے وقت درست ہے لیکن رات کو لگائے اور دن کو پونچھ ڈالے۔ اور سر ملنا اور نہانا بھی درست ہے۔ ضرورت کے وقت کنگھی کرنا بھی درست ہے جیسے کسی نے سر ملایا جوں پڑ گئی۔ لیکن پٹی نہ جھکائے نہ باریک کنگھی سے کنگھی کرے جس میں بال چکنے ہو جاتے ہیں بلکہ موٹے دندانے والی کنگھی کرے کہ خوبصورتی نہ آنے پائے۔

مسئلہ4۔ سوگ کرنا اسی عورت پر واجب ہے جو بالغ ہو۔ نابالغ لڑکی پر واجب نہیں۔ اس کو یہ سب باتیں درست ہیں۔ البتہ گھر سے نکلنا اور دوسرا نکاح کرنا اس کو بھی درست نہیں۔

مسئلہ5۔ جس کا نکاح صحیح نہیں ہوا تھا بے قاعدہ ہو گیا تھا وہ توڑ دیا گیا یا مرد مر گیا تو ایسی عورت پر بھی سوگ کرنا واجب نہیں

مسئلہ6۔ شوہر کے علاوہ کسی اور کے مرنے پر سوگ کرنا درست نہیں۔ البتہ اگر شوہر منع نہ کرے تو اپنے عزیز اور رشتہ دار کے مرنے پر بھ تین دن تک بناؤ سنگار چھوڑ دینا درست ہے۔ اس سے زیادہ بالکل حرام ہے اور اگر منع کرے تو تین دن بھی نہ چھوڑے۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔