روٹی کپڑے کا بیان

مسئلہ1۔ بی بی کا روٹی کپڑا مرد کے ذمہ واجب ہے کہ بی بی کے رہنے کے لیے کوئی اییا جگہ دے جس میں شوہر کا کوئی رشتہ دار نہ رہتا ہو بلکہ خالی ہو تاکہ میاں بی بی بالکل بے تکلفی سے رہ سکیں البتہ اگر عورت خود سب کے ساتھ رہنا گوارا کر لے تو ساجھے کے گھر میں بھی رکھنا درست ہے۔

مسئلہ2۔ گھر میں سے ایک جگہ عورت کو الگ کر دے کہ وہ اپنا مال اسباب حفاظت سے رکھے اور خود اس میں رہے سہے اور اس کی قفل کنجی اپنے پاس رکھے کسی اور کو اس میں دخل نہ ہو۔ فقط عورت اسی کے قبضے میں رہے تو بس حق ادا ہو گیا۔ عورت کو اس سے زیادہ کا دعوی نہیں ہو سکتا اور یہ نہیں کہہ سکتی کہ پورا گھر میرے لیے الگ کر دو۔

مسئلہ3۔ جس طرح عورت کو اختیار ہے کہ اپنے لیے کوئی الگ گھر مانگے جس میں مرد کا کوئی رشتہ دار نہ رہنے پائے فقط عورت ہی کے قبضے میں رہے۔ اسی طرح مرد کو اختیار ہے کہ جس گھر میں عورت رہتی ہے وہاں اس کے رشتہ داروں کو نہ آنے دے نہ ماں کو نہ باپ کو نہ بھائی کو نہ کسی اور رشتہ دار کو۔

مسئلہ4۔ عورت اپنے ماں باپ کو دیکھنے کے لیے ہفتہ میں ایک دفعہ جا سکتی ہے۔ اور ماں باپ کے سوا اور رشتہ داروں کے لیے سال بھر میں ایک دفعہ اس سے زیادہ کا اختیار نہیں۔ اسی طرح اس کے ماں باپ بھی ہفتہ میں فقط ایک مرتبہ یہاں آ سکتے ہیں۔ مرد کو اختیار ہے کہ اس سے زیادہ جلدی جلدی نہ آنے دے۔ اور ماں باپ کے سوا اور رشتہ دار سال بھر میں فقط ایک دفعہ آ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ آ نے کا اختیار نہیں۔ لیکن مرد کو اختیار ہے کہ زیادہ دیر نہ ٹھیرنے دے نہ ماں باپ کو نہ کسی اور کو اور جاننا چاہیے کہ رشتہ داروں سے مطلب وہ رشتہ دار ہیں جن سے نکاح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ اور جو ایسے نہ ہوں وہ شرع میں غیر کے برابر ہیں۔

مسئلہ5۔ اگر باپ بہت بیمار ہے اور اس کا کوئی خبر لینے والا نہیں تو ضرورت کے موافق وہاں روز جایا کرے اگر باپ بے دین کافر ہو تب بھی یہی حکم ہے بلکہ اگر شوہر منع بھی کرے تب بھی جانا چاہیے۔ لیکن شوہر کے منع کرنے پر جانے سے روٹی کپڑے کا حق نہ رہے گا۔

مسئلہ6۔ غیر لوگوں کے گھر نہ جانا چاہیے۔ اگر بیاہ شادی وغیرہ کی کوئی محفل ہو اور شوہر اجازت بھی دے تو بھی جانا درست نہیں۔ شوہر اجازت دے گا تو وہ بھی گنہگار ہو گا۔ بلکہ محفل کے زمانہ میں اپنے محرم رشتہ دار کے یہاں جانا بھی درست نہیں۔

مسئلہ7۔ جس عورت کو طلاق مل گئی وہ بھی عدت تک روٹی کپڑا اور رہنے کا گھر پانے کی مستحق ہے البتہ جس کا خاوند مر گیا اس کو روٹی کپڑا اور گھر ملنے کا حق نہیں۔ ہاں اس کو میراث سب چیزوں میں ملے گی۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔