رخصتی سے پہلے طلاق ہو جانے کا بیان

جناب مولانا مولوی سعید احمد صاحب مرحوم مفتی مدرسہ عالیہ مظاہر علوم سہارنپور نے مندرجہ ذیل سوال حضرت حکیم الامۃ مولانا مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ کی خدمت اقدس میں روانہ کیا تھا حضرت نے اس کا جو جواب مرحمت فرمایا وہ ذیل میں درج ہے

سوال مسئلہ 2۔ ایسی عورت سے یوں کہا اگر فلانا کام کرے تو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس کے کرتے ہی تینوں طلاقیں پڑ گئیں۔

اس صورت میں تین طلاق پڑنے میں تامل ہے کیونکہ جس وقت شرط مقدم ہو اور طلاق کا لفظ مکرر ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں ایک تکرار بذریعہ حرف عطف دوسرے بلا حرف عطف۔ اول صورت میں امام صاحب کے نزدیک شرط کے پائے جانے کے وقت ایک طلاق واقع ہوتی ہے اور باقی طلاقیں لغو ہو جاتی ہیں اور صاحبین کے نزدیک تینوں واقع ہوتی ہیں اور اگر تکرار بلا حرف عطف ہو جیسے کہ مولف نے کیا ہے تو اس صورت میں اول طلاق معلق ہوتی ہے اور دوسری فی الحال واقع ہوتی ہے اور تیسری لغو ہو جاتی ہے۔

وان علق الطلاق بالشرط ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدارفانت طالق و طالق وطالق وہی غیر مدخلولۃ بانت بواحدۃ عندوجود الشرط فے قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی و لغا الباقی وعدہما یقح الثلاث ہذا کلہ اذا ذکرہ بحرف العطف فان ذکرہ بغیر حرف العطف ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدارفانت طالق طالق طالق وہی غیر مدخلوۃ فالاول معلق بالشرط والثانی یقع للحال والثالث لغو ثم اذا تروجہاو دخلت الدار ینزل المعلق وان دخلت بعد البینونۃ قبل التزوج حنث ولا یقح شئی عالمگیری مختصر ص آج مصری وفی البحر آج ص وقید بحرف العطف لانہ لوذکر بغیر عطف اصلانحوان دخلت الدار فانت طالق واحدۃ واحدۃ ففی فتح القدیر یقح اتفاقا محمد وجود الشرط ویلغوما بعدہ لعدم مایوجب التشریک اھ وقال العلامۃ ابن عابدین علی قولہ وقید بحرف العطف فی ایمان البزازیۃ من الثالث فی یمین الطلاق ان دخلت الدارفانت طالق طالق طالق وہی غیر ملموسۃ فالاول معلق بالشرط والثانی ینزل فی الحال ویلغو الثالث وان تزوجہا ودخلت الدار نزل المعلق ولود خلت بعد البینونۃ قل التزوج انحل الیمین لا الی جزائ ولو موطوۃ تعلق الاول ونزل الثانی والثالث اھ وہذا کما تری مخالف لما نقلہ ہنا عن الفتح الا ان نفرق بین واحدۃ واحدۃ وطالق طالق وہو الظاہر اھ ہذا ماظہر لی واللہ اعلم بالصواب۔ اگر یہ اشکال صحیح ہے اور عبارت میں کسی ترمیم کی ضرورت ہے تو ترمیم فرما دی جائے تاکہ اصل مسئلہ کی جگہ لکھ کر اس پر حاشیہ میں نوٹ لکھ دیا جائے۔

سعید احمد غفرلہ 21 ربیع الاول56 ھ

جواب از حضرت حکیم الامۃ مولانا مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ

الجواب۔ ومنہ الصدق والصواب۔ طلاق ثلاث معلق میں باعتبار مطلقہ مدخول بہاوغیرہ مدخول بہاوباعتبار تقدیم شرط و تاخیر شرط و باعتبار عطف و عدم عطف بالواو آٹھ صورتیں ہیں جن کو ذیل میں اولا نقشہ کی شکل میں ثانیا عبارت میں ضبط کرتا ہوں پھر سب کے احکام نقل کر کے سوال کا جواب عرض کروں گا۔

عبارت یہ ہے: نمبر1: لغیر اللمدخول بابتقدیم الشرط مع العطف نمبر2: لغیر المدخول بہابتقدیم الشرط بلا عطف نمبر3: لغیر المدخول بہابتاخیر الشرط مع العطف نمبر4: لغیر المدخول خول بہابتا خیر الشرط بلاعطف نمبر5 للمدخول بہا بتقدیم الشرط مع العطف نمبر6 للمدخلو بہا بتقدیم الشرط بلاعطف نمبر 7 للمدخول بہا بتاخیر الشرط مع العطف نمبر8 للمدخول بہا بتا خیر الشرط بلا عطف۔

احکام یہ ہیں فی العالمگیریۃ الفصل الرابع من الباب الثانی من کتاب الطلاق وان علق الطلاق بالشرط ان کان الشرط مقدما نفقال ان دخلت الدار فانت طالق وطالق وطالق وہی غیر مدخولۃ وہی الصورۃ الاولی بانت بواحدۃ عندوجودالشرط فی قول ابی حنیفۃ والغاالباقی وعندہما یفع الثلث وان کانت مدخولۃ وہی الصورۃ الخامسۃ بانت بثلث اجماعا الا علی قول ابی حنیفۃ یتبع بعضہا بعضا فی الوقوع وعندہما یقح الثلاث جملۃ واحدۃ وان کان الشرط موخرا فقال انت طالق وطالق وطالق ان دخلت الدار وذکرہ بالفائ الظن انہا اومکان الواد فدخلت الدار بانت بثلث اجماعا سوئ کانت مدخلوۃ او غیر مدخولۃ وہی الصورۃ الثالثۃ والسابعۃ ہذا کلہ اذا ذکرہ بحرف العطف فان ذکرہ بغیر حرف العطف ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدار فانت طالق طالق طالق وہی غیر مدحولۃ وہی الصورۃ الثانیۃ المذکورۃ فی بہشتی زیور فلاول معلق بالشرط والثانی یقح للحال والحالث لغو وہوالذی ذکرہ المستفتی ثم اذا ترزوجہا و دخلت الدار ینزل المعلق وان دخلت بعد السینونۃ قبل التزوج حنث ولا یقح شئی وان کانت مدخولۃ وہی الصورۃ السادسۃ فالاول معلق بالشرط والثانی والثالث یقعان فی الحال وان اخرالشرط فقال انت طالق طالق طالق ان دخلت الداروہی غیر مدخولۃ وہی الصورۃ الرابعۃ فلاول ینزل المحال ولغا الباقی وان کانت مدحولۃ وہی الصورۃ الثانیۃ ینزل الاول والثانی للحال ویتعلق الثالث بالشرط کذافی السراج الوہاج وفی الدر المختار باب طلاق غیر المدخول بہا فی نظیر المسئلۃ وتقع واحدۃ ان قدم الشرط وفی ردالمختار ہذا عندہ ہما ثنتان ایضا ورجحہ الکمال فی فتح القدیر واقرہ فی البحراہ۔

اب سوال کا جواب عرض کرتا ہوں کہ بہشتی زیور کا مسئلہ مبحوث عنہا ظاہرا صورۃ ثانیہ ہے جس کا حکم یہ ہے کہ پہلی طلاق معلق ہو گی اور دوسری فی الحال واقع ہو گی اور تیسری لغو ہو گی جیسا سوال میں بھی بقل کیا گیا ہے اور روایات جواب میں بھی۔ اس بنائ پر بہشتی زیور کی عبارت پر اشکال صحیح اور اس کی تصحیح کے لیے عبارت کی ترمیم کافی نہیں بلکہ اس مسئلہ کو حذف ہی کر دینا چاہیے یہ امر قابل تامل ہے کہ اس حکم کی بنائ پر تکرار بلا عطف ہے جیسا صیغہ مفروضہ سے ظاہر ہے اور اردو کے محاورات میں عام اہل لسان اس صورت میں عطف ہی کا قصد کرتے ہیں ممکن ہے کہ مولف بہشتی زیور نے کہ مولوی احمد علی صاحب ہیں جیسا کہ احقر اپنی بعض تحریرات میں اس کو شائع بھی کر چکا ہے اس کو عطف ہی میں داخل کیا ہو جو صور ثمانیہ سے صورۃ اولی ہے اور اس میں امام صاحب اور صاحبین اختلاف کرتے ہیں مولف نے صاحبین کے قول کو راجح سمجھ کر کیا ہو۔ جیسا روایات بالا میں فتح القدیر و بحر سے اس کا راجح ہونا نقل کیا گیا ہے اس صورت میں اشکال رفع ہو جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اس حکم مذکور بہشتی زیور کی صحت دو مقدموں پر موقوف ہے ایک یہ کہ عطف و عدم عطف ہمارے محاورہ میں یکساں ہیں دوسرے یہ کہ صاحبین کا قول راجح ہے پس اگر یہ مقدمات مسلم ہوں تو حکم صحیح ہے ورنہ غلط اور بہشتی زیور میں درمختار کے جس مقام کا حوالہ دیا گیا ہے وہ مقام باوجود تلاش کے نہیں ملا۔ نہ مستفتی نے اس سے تعرض کیا ممکن ہے کہ اس کے دیکھنے سے مزید بصیرت حاصل ہو سکتی۔ بہرحال اگر ہذف کیا جائے تو کسی تکلف کی ضرورت نہیں۔ لیکن احتیاط یہ ہے کہ یہ حاشیہ کسی پاس والے مسئلہ پر لکھ دیا جائے کہ اس مقام پر ایک مسئلہ تھا جو ظاہر عبارات فقہاء کے خلاف تھا اس کو با اجازت اشرف علی حذف کر دیا گیا ہے۔ اس حاشیہ سے یہ فائدہ ہو گا کہ دوسرے نسخے دکھ کر یہ شبہ نہ ہو گا کہ شاید اس کو سہوا نہیں لکھا گیا۔

اور اگر باقی رکھا جائے تو ایک حاشیہ اس پر لکھ دیا جائے کہ یہ مسئلہ ظاہر عبارات فقہاء پر صحیح نہیں لیکن اگر محاورہ اردو کی بنا پر اس کو عطف میں بحذف عاطف داخل کیا جائے اور اس مسئلہ میں جو اختلاف ہے اس میں صاحبین کا قول لے لیا جائے تو اس توجیہ پر مسئلہ صحیح ہو سکتا ہے اب عوام کو چاہیے کہ اپنے معقتدفیہ عالم کے فتوے پر عمل کریں۔ واللہ اعلم۔ (26 ربیع الاول56 ) اشرف علی

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔