بیچنے اور مول لینے کا بیان

مسئلہ 1۔جب ایک شخص نے کہا میں نے یہ چیز اتنے داموں پر بیچ دی اور دوسرے نے کہا میں نے لے لی تو وہ چیز بک گئی اور جس نے مول لیا ہے وہی اس کی مالک بن گئی۔ اب اگر وہ یہ چاہے کہ میں نہ بیچوں اپنے پاس ہی رہنے دوں۔ یا یہ چاہے کہ میں نہ خریدوں تو کچھ نہیں ہو سکتا ہے اس کو دینا پڑے گا اور اس کو لینا پڑے گا اور اس بک جانے کو بیع کہتے ہیں

مسئلہ2۔ ایک نے کہا کہ میں نے یہ چیز دو پیسے کو تمہارے ہاتھ بیچی۔ دوسری نے کہا مجھے منظور ہے یا یوں کہا میں اتنے داموں پر راضی ہوں اچھا میں نے لے لیا تو ان سب باتوں سے وہ چیز بک گئی۔ اب نہ تو بیچنے والے کو یہ اختیار ہے کہ نہ دے اور نہ لینے والے کو یہ اختیار ہے کہ نہ خریدے۔ لیکن یہ حکم اس وقت ہے کہ دونوں طرف سے یہ بات چیت ایک ہی جگہ بیٹے بیٹھے ہوئی ہو۔ اگر ایک نے کہا میں نے یہ چیز چار پیسے کو تمہارے ہاتھ بیچی اور وہ دوسری چار پیسے کا نام سن کر کچھ نہیں بولی اٹھ کھڑی ہوئی ہو یا کسی اور سے صلاح لینے چلی گئی یا اور کسی کام کو چلی گئی اور جگہ بدل گئی تب اس نے کہا اچھا میں نے چار پیسے کو خرید لی تو ابھی وہ چیز نہیں بکی۔ ہاں اگر اس کے بعد وہ بیچنے والی کنجڑن وغیرہ یوں کہہ دے کہ میں نے دے دی یا یوں کہے اچھا لے لو تو البتہ بک جائے گی اسی طرح اگر وہ کنجڑن اٹھ کھڑی ہوئی یا کسی کا م کو چل گئی تب دوسری نے کہا میں نے لے لیا تب بھی وہ چیز نہیں بکی۔ خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ جب ایک ہی جگہ دونوں طرف سے بات چیت ہو گئی تب وہ چیز بکے گی۔

مسئلہ 3۔ کسی نے کہا یہ چیز ایک پیسہ کو دے دو اس نے کہا میں نے دے دی اس میں بیع نہیں ہوئی البتہ اس کے بعد اگر مول لینے والی نے پھر کہہ دیا کہ میں نے لے لیا تو بک گئی۔ مسئلہ

4۔ کسی نے کہا یہ چیز ایک پیسہ کو میں نے لے لی اس نے کہا لے لو تو بیع ہو گئی۔

مسئلہ 5۔ کسی نے کسی چیز کے دام چکا کر اتنے دام اس کے ہاتھ پر رکھے اور وہ چیز اٹھا لی اور اس نے خوشی سے دام لے لیے پھر نہ اس نے زبان سے کہا کہ میں نے اتنے داموں پر یہ چیز بیچی نہ اس نے کہا میں نے خریدی تو اس لین دین ہو جانے سے بھی چیز بک جاتی ہے اور بیع درست ہو جاتی ہے۔

مسئلہ 6۔ کوئی کنجڑن امرود بیچنے آئی بے پوچھے گچھ بڑے بڑے چار امرود اس کی ٹوکری میں سے نکالے اور ایک پیسہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا اور اس نے خوشی سے پیسہ لے لیا تو بیع ہو گئی چاہے زبان سے کسی نے کچھ کہا ہو چاہے نہ کہا ہو۔ مسئلہ 7۔ کسی نے موتیوں کی ایک لڑی کو کہا یہ لڑی دس پیسہ کو تمہارے ہاتھ بیچی۔ اس پر خریدنے والی نے کہا اس میں سے انچ موتی میں نے لے لیے یا یوں کہا آدھے موتی میں نے خرید لیے تو جب تک وہ بیچنے والا اس پر راضی نہ ہو بیع نہیں ہو گی۔ کیونکہ اس نے تو پوری لڑی کا مول کیا ہے تو جب تک وہ راضی نہ ہو لینے والے کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اس میں سے کچھ لے اور کچھ نہ لے اگر لیوے تو پوری لڑی لینا پڑے گی۔ ہاں البتہ اگر اس نے یہ کہہ دیا ہو کہ ہر موتی ایک ایک پیسے کو اس پر اس نے کہا اس میں سے پانچ موتی میں نے خریدے تو پانچ موتی بک گے۔ مسئلہ 8۔ کسی کے پاس چار چیزیں ہیں بجلی بالی بندے پتے۔ اس نے کہا یہ سب میں نے چار آنہ کو بیچا تو اس کی منظوری کے یہ اختیار نہیں ہے کہ بعضی چیزیں لیوے اور بعضی چھوڑ دے کیونکہ وہ سب کو ساتھ ملا کر بیچنا چاہتی ہے ہاں البتہ اگر ہر چیز کی قیمت الگ الگ بتلا دے تو اس میں سے ایک آدھ چیز بھی خرید سکتی ہے۔ مسئلہ 9۔ بیچنے اور مول لینے میں یہ بھی ضروری ہے کہ جو سودا خریدے ہر طرح اس کو صاف کر لے کوئی بات ایسی گول مول نہ رکھے جس سے جھگڑا بکھیڑا پڑے۔ اسی طرح قیمت بھی صاف صاف مقرر اور طے ہو جانا چاہیے۔ اگر دونوں میں سے ایک چیز بھی اچھی طرح معلوم اور طے نہ ہو گی تو بیع صحیح نہ ہو گی۔ مسئلہ 10۔ کسی نے روپے کی یا پیسے کی کوئی چیز خریدی اب وہ کہتی ہے پہلے تم روپے دو تب میں چیز دوں گی اور یہ کہتی ہے پہلے تو چیز دے دے تب میں روپے دوں گی۔

تو پہلے اس سے دام دلوائے جائیں گے جب یہ دام دے دے تو اس سے وہ چیز دلوا دیں گے دام کے وصول پانے تک اس چیز کے نہ دینے کو اس کو اختیار ہے اور اگر دونوں طرف ایک سی چیز ہے مثلاً دونوں طرف دام ہیں یا دونوں طرف سودا ہے۔ جیسے روپے کے پیسے لینے لگیں یا کپڑے کے بدلے کپڑا لینے لگیں اور دونوں میں یہی جھگڑا پن پڑے تو دونوں سے کہا جائے گا کہ تم اس کے ہاتھ پر رکھو اور وہ تمہارے ہاتھ پر رکھے۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔