سودا معلوم ہونے کا بیان

مسئلہ۔ اناج غلہ وغیرہ سب چیزوں میں اختیار ہے چاہے تول کے حساب سے لے اور یوں کہہ دے کہ ایک روپے کے بیس سیر گیہوں میں نے خریدے اور چاہے یوں ہی مول کر کے لے لیوے اور یوں کہہ دے کہ گیہوں کی یہ ڈھیری میں نے ایک روپیہ کو خریدی پھر اس ڈھیری میں چاہے جتنے گیہوں نکلیں سب اسی کے ہیں۔ مسئلہ۔ کنڈے میں  امرود نارنگی وغیرہ میں بھی اختیار ہے کہ گنتی کے حساب سے لے یا ویسے ہی ڈھیر کاموں کو کر لے۔ اگر ایک ٹوکری کے سب آم اس نے خرید لیے اور گنتی اس کی کچھ معلوم نہیں کہ کتنے ہیں تو بیع درست ہے اور سب آم اسی کے ہیں چاہے کم نکلیں چاہے زیادہ۔ مسئلہ۔ کوئی عورت بیر وغیرہ کوئی چیز بیچنے آئی اس سے کہا کہ ایک پیسہ کو اس اینٹ کے برابر تول دے اور وہ بھی اس اینٹ کے برابر تول دینے پر راضی ہو گئی اور اس اینٹ کا وزن کسی کو نہیں معلوم کہ کتنی بھاری نکلے گی تو یہ بیع بھی درست ہے۔ مسئلہ۔ آم کا یا امرود نارنگی وغیرہ کا پورا ٹوکرا ایک روپے کو اس شرط پر خریدا کہ اس میں چار سو آم ہیں پھر جب گنے گئے تو اس میں تین سو ہی نکلے۔ لینے والی کو اختیار ہے چاہے لے چاہے نہ لے اگر لے گی تو پورا ایک روپیہ نہ دینا پڑے گا بلکہ ایک سیکڑے کے دام کم کر کے فقط بارہ نے دے اور اگر ساڑھے تین سو نکلیں تو چودہ آنے دے غرضیکہ جتنے آم کم ہوں اتنے دام بھی کم ہو جائیں گے اور اگر اس ٹوکرے میں چار سو سے زیادہ آم ہوں تو جتنے زیادہ ہیں وہ بیچنے والی کے ہیں اس کو چار سو سے زیادہ لینے کا حق نہیں ہے ہاں اگر پورا ٹوکرا خرید لیا اور کچھ مقرر نہیں کیا کہ اس میں کتنے آم ہیں تو جو کچھ نکلے سب اسی کا ہے چاہے کم نکلیں اور چاہے زیادہ۔ مسئلہ۔ بنارسی ڈوپٹہ یا چکن کا دوپٹہ یا پلنگ پوش یا زار بند وغیرہ کوئی ایسا کپڑا خریدا کہ اگر اس میں سے کچھ پھاڑ لیں تو نکما اور خراب ہو جائے گا۔

اور خریدتے وقت یہ شرط کر لی تھی کہ یہ دوپٹہ تین گزر کا ہے پھر جب ناپا تو کچھ کم نکلا تو جتنا کم نکلا ہے اس کے بدلے میں دام نہ کم ہوں گے بلکہ جتنے دام طے ہوئے ہیں وہ پورے دینا پڑیں گے۔ ہاں کم نکلنے کی وجہ سے بس اتنی رعایت کی جائے گی کہ دونوں طرف سے پکی بیع ہو جانے پر بھی اس کو اختیار ہے چاہے لے چاہے نہ لے اور اگر کچھ زیادہ نکلا تو وہ بھی اسی کا ہے اور اس کے بدلے میں دام کچھ زیادہ دینا نہ پڑیں گے۔ مسئلہ۔ کسی نے رات کو دو ریشمی ازار بند ایک روپے کے لیے جب صبح کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ان میں کا سوتی ہے تو دونوں کی بیع جائز نہیں ہوئی نہ ریشمی کی نہ سوتی کی۔ اسی طرح اگر دو انگوٹھیاں شرط کر کے خریدیں کہ دونوں کا رنگ فیروزہ کا ہے پھر معلوم ہوا کہ ایک میں فیروزہ نہیں ہے کچھ اور ہے تو دونوں کی بیع ناجائز ہے اب اگر ان میں سے ایک کا یا دونوں کا لینا منظور ہو تو اس کی ترکیب یہ ہے کہ پھر سے بات جیت کر کے خریدے۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔