ادھار لینے کا بیان

مسئلہ۔ کسی نے اگر کوئی سودا ادھار خریدا تو یہ بھی درست ہے لیکن اتنی بات ضروری ہے کہ کچھ مدت مقرر کر کے کہہ دے کہ پندرہ دن میں یا مہینے بھر میں یا چار مہینے میں تمہارے دام دے دوں گی اگر کچھ مدت مقرر نہیں کی مطلقا اتنا کہہ دیا کہ ابھی دام نہیں ہیں پھر دے دوں گی۔ سو اگر یوں کہا ہے کہ میں اس شرط سے خریدتی ہوں کہ دام پھر دوں گی تو بیع فاسد ہو گئی اور اگر خریدنے کے اندر یہ شرط نہیں لگائی خرید کر کہہ دیا کہ دام پھر دوں گی تو کچھ ڈر نہیں اور اگر نہ خریدنے کے اندر کچھ کہا نہ خرید کر کچھ کہا تب بھی بیع درست ہو گئی۔ اور ان دونوں صورتوں میں اس چیز کے دام ابھی دینا پڑیں گے۔ ہاں اگر بیچنے والی کچھ دن کی مہلت دے دے تو اور بات ہے لیکن اگر مہلت نہ دے اور ابھی دام مانگے تو دینا پڑیں گے۔

مسئلہ۔ کسی نے خریدتے وقت یوں کہا کہ فلانی چیز ہم کو دے دو جب خرچ آئے گا تب آدا لے لینا یا یوں کہا جب میرا بھائی آئے گا تب دے دوں گی یا یوں کہا جب کھیتی کٹے گی تب دے دوں گی یا اس نے اس طرح کہا بی بی تم لے لو جب جی چاہے دام دے دینا یہ بیع فاسد ہو گئی بلکہ کچھ نہ کچھ مدت مقرر کر کے لینا چاہیے اور اگر خرید کر ایسی بات کہہ دی تو بیع ہو گئی اور سودے والی کو اختیار ہے کہ ابھی دام مانگ لے لیکن صرف کھیتی کٹنے کے مسئلہ میں کہ اس صورت میں کھیتی کٹنے سے پہلے نہیں مانگ سکتی۔

مسئلہ۔ نقد داموں پر ایک روپیہ کے بیس سیر گیہوں بکتے ہیں مگر کسی کو ادھار لینے کی وجہ سے اس نے روپیہ کے پندرہ سیر گیہوں دیئے تو یہ بیع درست ہے مگر اسی وقت معلوم ہو جانا چاہیے کہ ادھارمول لے گی۔ مسئلہ۔ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ خریدار سے اول پوچھ لیا ہو کہ نقد لو گے یا ادھار۔ اگر اس نے نقد کہا تو بیس سیر دے دیئے اور اگر ادھار کہا تو پندرہ سیر دے دیئے۔ اور اگر معاملہ اس طرح کیا کہ خریدار سے یوں کہا کہ اگر نقد لو گے تو ایک روپیہ کے بیس سیر ہوں گے اور ادھار لو گے تو پندرہ سیر ہوں گے یہ جائز نہیں۔

مسئلہ۔ ایک مہینے کے وعدے پر کوئی چیز خریدی پھر ایک مہینہ ہو چکا۔ تب کہہ سن کر کچھ اور مدت بڑھوالی کہ پندرہ دن کی مہلت اور دے دے تو تمہارے دام ادا کر دوں گا۔ اور وہ بیچنے والی بھی اس پر رضا مند ہو گئی تو پندرہ دن کی مہلت اور مل گئی اور اگر وہ راضی نہ ہو تو ابھی مانگ سکتی ہے۔

مسئلہ۔ جب اپنے پاس دام موجود ہوں تو ناحق کسی کو ٹالنا کہ آج نہیں کل آنا۔ اس وقت نہیں اس وقت آنا ابھی روپیہ توڑوایا نہیں ہے جب توڑوایا جائے گا تب دام ملیں گے یہ سب باتیں حرام ہیں جب وہ مانگے اسی وقت روپیہ توڑ کر دام دے دینا چاہیے۔ ہاں البتہ اگر ادھار خریدا ہے تو جتنے دن کے وعدے پر خریدا ہے اتنے دن کے بعد دینا واجب ہو گا اب وعدہ پورا ہونے کے بعد ٹالنا اور دوڑانا جائز نہیں ہے لیکن اگر سچ مچ اس کے پاس ہیں ہی نہیں۔ نہ کہیں سے بندوبست کر سکتی ہے تو مجبوری ہے جب آئے اس وقت نہ ٹالے۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔