بے دیکھی ہوئی چیز کے خریدنے کا بیان

مسئلہ۔ کسی نے کوئی چیز بے دیکھے ہوئے خرید لی تو یہ بیع درست ہے۔ لیکن جب دیکھے تو اس کو اختیار ہے پسند ہو تو رکھے نہیں تو پھیر دے اگرچہ اس میں کوئی عیب بھی نہ ہو۔ اور جیسی ٹھہرائی تھی ویسی ہی ہو تب بھی رکھنے نہ رکھنے کا اختیار ہے۔ مسئلہ۔ کسی نے بے دیکھے اپنی چیز بیچ ڈالی تو اس بیچنے والی کو دیکھنے کے بعد پھیر لینے کا اختیار نہیں ہے دیکھنے کے بعد اختیار فقط لنیے والی کو ہوتا ہے۔ مسئلہ۔ کوئی کنجڑن مٹر کی پھلیاں بیچنے کو لائی اس میں اوپر تو اچھی اچھی تھیں ان کو دیکھ کر پورا ٹوکرا لے لیا لیکن نیچے خراب نکلیں تو اب بھی اس کو پھیر دینے کا اختیار ہے البتہ اگر سب پھلیاں یکساں ہوں تو تھوڑی سی پھلیاں دیکھ لینا کافی ہے چاہے سب پھلیاں دیکھے چاہے نہ دیکھے پھیرنے کا اختیار نہ رہے گا۔ مسئلہ۔ امرود یا انار یا نارنگی وغیرہ کوئی ایسی چیز خریدی کہ سب یکساں نہیں ہوا کرتیں تو جب تک سب نہ دیکھے تب تک اختیار رہتا ہے تھوڑے کے دیکھ لینے سے اختیار نہیں جاتا۔ مسئلہ۔ اگر کوئی چیز کھانے پینے کی خریدی تو اس میں فقط دیکھ لینے سے اختیار نہیں جائے گا بلکہ چکھنا بھی چاہیے اگر چکھنے کے بعد ناپسند ٹھہرے تو پھیر دینے کا اختیار ہے۔ مسئلہ۔ بہت زمانہ ہو گیا کہ کوئی چیز دیکھی تھی اب آج اس کو خرید لیا لیکن ابھی دیکھا نہیں۔ پھر جب گھر لا کر دیکھا تو جیسی دیکھی تھی بالکل ویسی ہی اس کو پایا تو اب دیکھنے کے بعد پھیر دینے کا اختیار نہیں ہے۔ ہاں اگر اتنے دنوں میں کچھ فرق ہو گیا ہو تو دیکھنے کے بعد اس کے لینے نہ لینے کا اختیار ہو گا۔
مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔