کسی کی ذمہ داری کر لینے کا بیان

مسئلہ۔ نعیمہ کے ذمہ کسی کے کچھ روپے یا پیسے ہوتے تھے تم نے اس کی ذمہ داری کر لی کہ اگر یہ نہ دے گی تو ہم سے لے لینا یا یوں کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں یا دیندار ہیں یا اور کوئی ایسا لفظ کہا جس سے ذمہ داری معلوم ہوئی۔ اور اس حقدار نے تمہاری ذمہ داری منظور بھی کر لی تو اب اس کی ادائیگی تمہارے ذمہ واجب ہو گئی اگر نعیمہ نہ دے تو تم کو دینا پڑیں گے اور اس حقدار کو اختیار ہے جس سے چاہے تقاضا کرے چاہے تم سے اور چاہے نعیمہ سے۔ اب جب تک نعیمہ اپنا قرض ادا نہ کر دے یا معاف نہ کرا لے تب تک برابر تم ذمہ دار ہو گی۔ البتہ اگر وہ حقدار تمہاری ذمہ داری نہیں رہی اور اگر تمہاری ذمہ داری کے وقت ہی اس حق دار نے منظور نہیں کیا اور کہا تمہاری ذمہ داری کا ہم کو اعتبار نہیں یا اور کچھ کہا تو تم ذمہ داری نہیں ہوئیں۔

مسئلہ۔ تم نے کسی کی ذمہ داری کر لی تھی اور اس کے پاس روپے ابھی نہ تھے اس لیے تم کو دینا پڑے تو اگر تم نے اس قرض دار کے کہنے سے ذمہ داری کی ہے تب تو جتنا تم نے حقدار کو دیا ہے اس قرض دار سے لے سکتی ہو۔ اور اگر تم نے اپنی خوشی سے ذمہ داری کی ہے تو دیکھو تمہاری ذمہ داری کو پہلے کس نے منظور کیا ہے اس قرض دار نے یا حقدار نے اگر پہلے قرض دار نے منظور کیا تب تو ایسا ہی سمجھیں گے کہ تم نے اس کو کہنے سے ذمہ داری کی۔ لہذا اپنا روپیہ اس سے لے سکتی ہو اور اگر پہلے حق دار نے منظور کر لیا تو جو کچھ تم نے دیا ہے قرض دار سے لینے کا حق نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ تمہاری طرف سے احسان سمجھا جائے گا کہ ویسے ہی اس کا قرض تم نے ادا کر دیا وہ خود دے دے تو اور بات ہے۔

مسئلہ۔ اگر حقدار نے قرض دار کو مہینہ بھر یا پندرہ دن وغیرہ کی مہلت دے دی تو اب اتنے دن اس ذمہ داری کرنے والے سے بھی تقاضا نہیں کر سکتا۔

مسئلہ۔ اور اگر تم نے اپنے پاس سے دینے کی ذمہ داری نہیں کی تھی بلکہ اس قرض دار کا روپیہ تمہارے پاس امانت رکھا تھا اس لیے تم نے کہا تھا کہ ہمارے پاس اس شخص کی امانت رکھی ہے ہم اس میں سے دے دیں گے پھر وہ روپیہ چوری ہو گیا اور کسی طرح جاتا رہا تو اب تمہاری ذمہ داری نہیں رہی۔ نہ اب تم پر اس کا دینا واجب ہے اور نہ وہ حق دار تم سے تقاضا کر سکتا ہے۔

مسئلہ۔ کہیں جانے کے لیے تم نے کوئی یکہ یا بہلی کرایہ پر کی اور اس بہلی والے کی کسی نے ذمہ داری کر لی کہ اگر یہ نہ لے گیا تو میں اپنی بہلی دے دوں گا تو یہ ذمہ داری درست ہے اگر وہ نہ دے تو اس ذمہ دار کو دینا پڑے گی۔

مسئلہ۔ تم نے اپنی چیز کسی کو دی کہ جاؤ اس کو بیچ لاؤ۔ وہ بیچ آیا۔ لیکن دام نہیں لایا اور کہا کہ دام کہیں نہیں جا سکتے۔ دام کا میں ذمہ دار ہوں اس سے نہ ملیں تو مجھ سے لے لینا تو یہ ذمہ داری صحیح نہیں۔

مسئلہ۔ کسی نے کہا کہ اپنی مرغی اسی میں بند رہنے دو اگر بلی لے جائے تو میرا ذمہ مجھ سے لے لینا۔ یا بکری کو کہا اگر بھیڑیا لے جائے تو مجھ سے لے لینا تو یہ ذمہ داری صحیح نہیں۔

مسئلہ۔ نابالغ لڑکا یا لڑکی اگر کسی کی ذمہ داری کرے تو وہ ذمہ داری صحیح نہیں۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔